امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

’’میرے سر تے امبر ڈگیا ،

’’میرے سر تے امبر ڈگیا ،میں تارے چن دی جاں
میں اپنے آپ نوں ڈنگیا ،میں سپاں دی وی ماں‘‘

ہمیں خود کو بدلنا ہوگا۔شعور وعقل کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانا ہوں گیں ۔سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے اپنی اصلاح کرنا ہوگی کیونکہ کسی دوسرے کی نسبت انسان اپنے آپ کو زیادہ قریب سے جانتا ہے اس لیے اگر ہم خود اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کریں تو کامیابی کے امکان بہت زیادہ ہونگے ۔ زاویہ نگا ہ بدلنے سے منظر بدل جایا کرتے ہیں۔اسی طرح طرز فکر میں تبدیلی سے زندگیاں بدل جایا کرتیں ہیں ۔شعور انسانی جیسے جیسے بیداری کی منازل طے کرتا ہے ‘‘زندگی کی راہیں آسان ہو تی چلی جاتی ہیں ۔مثبت طرز فکر ہمیشہ امن و ترقی کی راہیں کھولتا ہے۔جولوگ مسائل میں الجھے بغیر دستیاب وسائل کا بہتر طریقے سے استعمال سیکھ لیتے ہیں زندگی کی راہیں ان کے لیے آسان ہوجایا کرتی ہیں ۔ اگر غور سے دیکھا جائے تودنیا میں ہر شے کچھ بنیادی اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے ۔انسان چاہے کسی رنگ ونسل سے تعلق رکھتا ہو۔کوئی سی بھی زبان بولتا ہو۔وہ معاشرے کااہم حصہ ہوتا ہے ۔انسانی اکائیوں کے مجموعہ کو معاشرہ کہتے ہیں ۔انسانی معاشرہ کو بھی کچھ ایسے اجزاء کا مجموعہ کہا جاسکتا ہے ۔جس میں اگر تمام اجزاء اپنا اپنا کام خوش اسلوبی سے سرانجام دیں تو معاشرے کی گاڑی بڑی کامیابی سے بہتری کے سفر میں رواں دواں رہتی اور کامیابی کی بہت سی منزلیں باآسانی طے کرتی ہے۔آج پاکستان میں بے پناہ قدرتی وسائل دستیاب ہونے کے باوجود پاکستانی عوام فاقہ کشی پر مجبور ہے ۔وسائل سے مالامال پاکستان میں 80فیصد سے زیادہ لوگ انتہائی غربت کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ایسا کیوں ہے ؟کیا ہم نے آزادی کے 65برس گزار کر بھی اپنے وسائل کوصحیح طرح سے استعمال کرنا نہیں سیکھا ؟کیا پاکستانی عوام آج بھی با شعور نہیں ہے؟کیا ہمیں آج اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے مثبت طرز فکراپنانے کی ضرورت نہیں ہے ؟کیا ہم دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑانے کی بجائے اپنا اپنا کام بہتر طریقے سے سرانجام نہیں دے سکتے ؟میرے عزیز ہم وطنوں ایسے اور بھی بہت سوالات ہیں ۔جو ہمیں خود سے کرنے ہیں نہ کہ کسی دوسرے سے ۔مثال کے طور پر ملک میں غربت میں کمی کیسے ہوگی؟اس سوال سے ہماری قومی ترقی جڑی ہوئی ہے ۔اس لیے یہ سوال بڑی زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔قوموں کے خوش حال مستقبل کا بچت کے ساتھ بہت گہراتعلق ہوتا ہے ۔سمجھدارلوگ اپنا پیٹ کاٹ کر کچھ نہ کچھ وسائل زندگی میں آنے والے برے وقتوں کے لیے جمع رکھتے ہیں ۔تاکہ مشکل وقت میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ پڑے ۔غریبوں کے لیے مکان خریدنا ‘‘کسی بیماری کی صورت میں علاج معالج یا بچوں کی شادیاں کرنا دنیا کے مشکل ترین کام ہیں ۔اس لیے غریب لوگ بچوں کے پیدا ہوتے ہی بچوں کے بہتر مستقبل ‘‘تعلیم وتربیت کے لیے بچت کرنا شروع کردیتے ہیں ۔اگر دیکھا جائے تو یہ بھی ایک مثبت طرز فکر ہے ۔اگر ہم بحیثیت قوم بچت کو اپنا شعار بناتے اور مثبت طرز فکر اپناتے تو یقیناآج ہمیں کمرتوڑمہنگائی‘‘بدترین کرپشن‘‘آسمان کو چھوتی ہوئی بدامنی معاشرے میں بڑھتی ہوئی ناانصافی،اقربای پروری ،‘تیزرفتاری سے بڑھتی ہوئی بے روزگاری اورلوڈشیڈنگ کے درد ناک عذاب کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔اگر پاکستانی معاشرے کے تمام اجزاء اپنا اپناکام صحیح طریقے سے کرتے توآج ہم بھی دنیامیں ایک مہذب اور باوقارقوم کی حیثیت سے سراٹھاکرزندگی گزار رہے ہوتے ۔لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوسکااور آج ملک میں فیکٹریاں اورکارخانوں کا پہیہ جام ہوچکا ہے ۔بے روزگاری اس قدر بڑھ چکی ہے کہ غریب کا چولہا ٹھنڈا ہوچکا ہے ۔بے بسی کے عالم میں بے روزگاری اور تنگ دستی سے مجبور لوگ خود کشیاں کرنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔اور اپنے ہی معصوم بچوں کو بھوک سے تڑپتا دیکھنے کی بجائے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو موت کے سپرد کررہے ہیں ۔جاری ہے

یہ بھی پڑھیں  پھولنگر:تحریک انصاف میں بھی وہی لٹیرے اورلوٹےآ گئے ہیں جو ملک کو لوٹتے رہے ہیں ، حاجی رمضان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker