تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

یہاں مرنا ہی فائدے میں ہے

hakeem kramthمیرے ایک بڑے پیارے دوست حکیم سید مشرف علی زیدی صاحب جو کہ ماشاء اللہ بہت بڑے صحافی اور ایڈیٹر بھی ہیں ۔ان کا یہ جملہ کئی بار مختلف جرائد میں شائع ہوا ۔۔ کہ یہاں مرنا ہی فائدے میں ہے ۔۔تو میں سوچتا کہ زیدی بھائی ایسا کیوں لکھتے ہیں ۔ اب سمجھ آئی کہ وہ ایسا کیوں کر لکھتے تھے جب وہ کام بھی ہونے لگے جن کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ۔
جمعہ کی صبح میں اپنے وقت پر اپنے کلینک میں آیا اور حسبِ معمول اپنا کمپیوٹر آن کیا ۔جب نیٹ آن کیا تو سنگنل نہیں آرہے تھے ۔پہلے تھوڑی دیر انتظار کا سوچا کہ بعض اوقات پرابلم بن جاتی ہے ہمارے ملک میں ۔مگر کافی دیر انتظار کے بعد جب انٹر نیٹ آن نہ ہوا تو م۔ میں نے ڈیوائس کے پلگ بدلنے شروع کر دیے۔مگرنیٹ نے نہ آنا تھا نہ آیا۔میں بار بار کبھی پلگ بدلتا رہا۔کمپیوٹر کو بار بار سٹارٹ کرتا رہا مگر نتیجہ وہ ہی ۔آخر تھک ہار کر بیٹھ گیا ۔ اسی دن لاہور جانے کا پروگرام تھا ۔سو لاہور کے لیے روانہ ہو گے ۔تقریباََ چار بجے کلینک میں کام کرنے والے میرے بھانجے نے مجھے کال کی کہ آج صبح سے نیٹ نہیں آ رہا کیا وجہ ہے میں نے اسے بتایا کہ میں نے بھی صبح سے کافی تگ و دو کی ہے مگر نہیں آیا اب تم بھی کوشش کر کے دیکھ لو پرابلم کا تو مجھے بھی پتہ نہیں کہ کیا ہے ۔خیر رات کو جب واپس آیا تو ایک موہوم سی امید کے ساتھ پھر صبح والا سلسلہ شروع کیا ۔حسبِ توقع نتیجہ پھر صبح والا ہی ۔یعنی نیٹ ندارد۔اب یہ ایک ضرورت بن چکی ہے ۔اور ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں ۔ایک نشے کی طرح یہ ہمارے رگ و پے میں سما چکا ہے ۔اب اس کے بغیر کمپیوٹر پر بیٹھنا ہی فضول لگتا ہے ( کوئی میرا بھائی یہ نہ سمجھ لے کہ شاید میں سارا دن انٹر نیٹ پر ہی بیٹھا رہتا ہوں ۔میں تو صرف اسے اپنی ضرورت کے تحت ہی استعمال کرتا ہوں یعنی کالم مضمون وغیرہ مختلف اخبارات و جرائد میں سنڈ کرنا یا فیس بک پر صحافی یا اطباء حضرات سے رابطہ کرنا وغیرہ)بہرکیف بات کافی آگے نکل گئی ۔خوب پتہ کیا دوستوں سے کہ نیٹ کو کیا ہوا ہے ۔ آخر کار ایک دوست سے پتہ چلا کہ جمعرات کی رات کو ۔پی ٹی سی ایل کی زمین اندوز تار ہی کاٹ کر لے گے ہیں ۔اور یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس سے ایک ہفتہ قبل چور بجلی کی مین لائن سے کافی زیادہ کھمبوں سے تار کاٹ کر لے گے ۔اب محکمہ کے افسران سے اپیل کی تو انہوں نے سارا نزلہ لائن مین پر گرا دیا ۔ایس ڈی او صاحب کہنے لگے کہ میں لائن مین سے بات کرتا ہوں ۔ایس ڈی او صاحب نے اتنا بتا کر کال منقطع کر دی ۔پھر ہم نے لائن مین سے بات کی تو اس صاحب نے فرمایا کہ ہم نے سامان وغیرہ لکھوا دیا ہے ایک دو دن تک آجائے گا اور ہم لگا دیں گے ۔۔۔۔ایک دو دن ۔۔۔۔۔ میں حیران رہ گیا کہ پورے علاقے کا نیٹ اور اگر کوئی ابھی پی ٹی سی ایل فون کا استعمال کرتا ہے تو ان کے لیے کتنی پریشانی کی بات ہے ۔
یہ نظام ہے ہمارے ملک کا ۔اب چوروں کو کن اقسام میں تقسیم کریں بجلی چور ،نیٹ چور، گھریلو چور ،مال مویشی چور ،راستے میں لوٹنے والے چور،اٹھائی گیر ، اب جائیں تو کس طرف جائیں ۔کس کا دروازہ کھٹ کھٹائیں ۔کس سے فریاد کریں ۔کس سے انصاف کی توقع کریں ۔کس سے کہیں کہ ایسے نظام کو کنٹرول کریں ۔اب تو وہ وقت آگیا ہے کہ پیسے ہاتھ میں ہیں اور کوئی چیز مل نہیں رہی ۔گاڑھی چلانے کے لیے اب گیس یا پیٹرول کی ضرورت ہے ۔ پیسے نقد ہاتھ میں ہیں اور پیٹرول پمپ مالکان نے گیس اور پیٹرول کی میشنوں پر اس طرح کپڑے لپیٹے ہوئے ہیں ۔جیسے کسی مریض کو سردی سے بچانے کے لیے کپڑے اوڑھا دیے جاتے ہیں ۔اور باہر لکھا ہوتا ہے ۔۔۔۔گیس بند ہے ۔۔۔ کیوں کیونکہ حکومت نے گیس کی قیمتیں بھول کر کچھ کم کر دی ہیں ۔ساری عوام مہنگائی کا رونا روتی ہے ۔اب اگر حکومت نے کچھ ترس کیا ہی ہے تو عوام نے مہنگائی کرنے پر زور دے دیا ہے ۔گیس بند کر دی ۔نہ کسی کا چولہا جلے نہ گاڑی ۔اگر کسی کے دل میں ترس آ ہی گیا تو وہاں کی صورتِ حال یہ ہے کہ ۔تا حدِ نگاہ گاڑیوں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں ۔باری آنے کے انتظار میں کھڑے ہو جاو کافی دیر کھڑا رہنے کے بعد اگر باری آگی تو بہتر ورنہ ایک آواز ضرور آتی ہے ۔۔۔۔پریشر ختم ہو گیا جی گیس جتنی تھی وہ ختم ہو گی یا بجلی چلی گی ۔۔۔اب بوجھل قدموں سے پھر واپس اور گاڑی کو سٹارٹ کیا اور ایک امید کے ساتھ آگے چلو شاید کوئی اور اللہ کا بندہ گیس دے دے ۔گیس تلاش کرتے کرتے پہلی بھی ہم ختم کر بیٹھتے ہیں اور پھر کہیں نہ کہیں بیٹھ کر وطن عزیز کے منتظموں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ ۔آخر اس ملک کا بنے گا کیا ۔اب کچھ سوچنے کی اور بھی باتیں ہیں ۔
چور جو مین لائن کاٹ کر لے گے کیا اسے کہاں فروخت کریں گے؟۔وہ تار تو فوراََ پہچانی جائے گی ۔اور اس کا خریدار کون بنے گا ؟یہ جو ٹیلی فون کے محکمے کی تار کاٹی گی یہ بھی عام گھریلو تار تو ہے نہیں یہ کہاں فروخت ہو گی ؟ ایسی کوئی بھی چیز جو عام گھریلو نہ ہو اس کو فروخت کرنا انتہائی مشکل ہے ۔پھر یہ چیزیں کہاں جاتی ہیں ؟کیا چوروں نے کویہ پلانٹ لگایا ہوا ہے جہاں وہ ان اشیاء کی ریسکلینگ کر لیتے ہیں ۔اگر کوئی ایسا پلانٹ ہے تو وہ کہاں ہے کیا کسی غار میں یا جنگل میں لگا ہوا ہے ،یا وہ اتنا چھوٹا ہے کہ کسی چور نے اسے اپنی جیب میں لگایا ہوا ہے ۔یا اپنے بیڈ روم میں لگایا ہوا ہے ۔پھر سوچتا ہوں کہ جائیں تو کہاں جائیں

یہ بھی پڑھیں  ہیپا ٹائٹس۔جگر کی بیماری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker