انور عباس انورکالم

ماروی میمن لاجواب ہو گئی

ماوی میمن چیرمین بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے اور اسے وزیر مملکت کا کا درجہ حاصل ہے، 9 فروری کو لاہور آئیں تو انہوں نے لاہور کے صحافی برادری کو اہم ( اپنے خیال میں) بریکنگ نیوز شیئر کرنے کا پروگرام بنایا اور لاہور میں پی آئی ڈی آفس کی بجائے پریس کانفرنس لاہور پریس کلب میں کرنے فیصلہ کیا ابھی تک مجھے ان کے اس فیسلے کی سمجھ نہیں آئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ عموما وفاقی وزرا صحافیوں سے باچیت کے لیے فائیو سٹار ہوٹلوں کا انتخاب کرتے ہیں۔۔۔ میں تو ویسے ہی الجھ گیا ہوں شائد ماروی مین کی طرف سے لاہور پریس کلب کا انتخاب کرنے کے پس پردہ مسلم لیگ نواز حکومت کی سادگی اپنانے اور ملک کی معاشی اور اقتصادی صورتحال کے پیش نظر اخراجات میں کمی لانے کا جذبہ حب الواطنی کا ر فرما ہو۔
پریس کانفرنس کا وقت چھ بجے شام مقرر تھا اس کے باوجود میں پانچ بجے ہی نثار عثمانی ہال کی اگلی نشستوں میں سے ایک نشست پر براجمان ہوگیا تھا،یہ محض اس لیے تھا کہ وزیر مملکت موصوفہ جب آئیں گی تو ان کے ہمراہ ایک لاؤ لشکر بھی وارد ہال ہو گا،ا تو پھر مجھے نشست کی تلاش میں پریشانی لاحق ہو سکتی ہے اس لیے پہلے ہی اور وہ بھی اپنی مرضی کی نشست پر قبضہ کیوں نہ جما لیا جائے تو بہتر ہوگا۔ بڑی بے تابی سے وزیر مملکت مارطی میمن کا انتظار ہونے لگا ایک ایک پل ’’کمزور موڈیاں‘‘ پر بھاری محسوس ہونے لگا، گھڑی کی سوئیوں پر نظریں جما کر بیٹھے کئی مرد وزیروں سے کہیں بولڈ ماروی میمن کی آمد کی منتظر میرے علاوہ بیسیوں نگاہیں تھیں، الیکٹرانک میڈیا کے لوگ ستیج پر اپنے اپنے اداروں کے مائیک سیٹ کرنے میں مگن تھے۔
ٹی وی کے کیمرہ مین صحافیوں کی فوٹیج بنانے میں مصروف تھے بار بار آکر کہتے کہ’’ بابا جی‘‘ ہاتھ سے کچھ لکھتے رہیں اور آپ کی نگاہیں ادھر سٹیج کی جانب ہونی چاہئیں چنانچہ ان کی فرمائش پر کاغذ پر لکھتا رہا’’ نواز شریف بڑے فراخدل ہیں ،انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام نہیں بدلا اور نہ ہی ایسے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔ نواز شریف نے بی آئی ایس پی کے بجٹ میں اضافہ کیا ہے ‘‘
چھ بج کر چھبیس منٹ پر نثار عثمانی ہال میں طاری سکوت کو توڑتے ایک آواز بلند ہوئی’’ کہ آ گئی جے اوے‘‘ مطلب یہ اشارہ تھا کہ باادب با ہشیار ظلم سبحانی تشریف لا رہے ہیں، ماروی میمن پورے پروٹوکول کے ساتھ لاہور پریس کلب کے حال میں داخل ہوئیں اور سیدھی سٹیج پر بیٹھ گئیں اور بغیر کسی تمہید کے انہوں نے مائیک سنبھالا اور اپنی گفتگو کا آغاز کرنے لگیں۔ ماروی ممین نے لاہور کے صحافیوں کو خوشخبری دینے کے انداز میں کہا کہ میں لاہور کو ایک بریکنگ نیوز دینا چاہتی ہوں اور وہ بریکنگ نیوز یہ ہے کہ ’’ کل ہم بے نظیرسپورٹ انکم پروگرام کے تحت امدادی سپورٹ لینے والی 54.5 ملین خواتین کو درپیش مشکلات اور مسائل سے نجات دلانے کے لیے ایک آگاہی مہم کا آغاز کررہے ہیں،جس کا افتتاح کراچی کیا جا رہا ہے۔ اس آگاہی مہم میں خواتین کو ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے، کرنسی نوٹوں کی گنتی کرنا سیکھانے اور دین اسلام میں دئیے گئے حقوق اور آئین پاکستان کے ٹھت حاصل اختیارات و حقوق فرائض سے روشناس کرانے کے علاوہ انہیں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مد میں دی جانے والی سپورٹ میں سے بچت کرنے کے گر بھی بتائیں جائیں گے۔ ، ‘‘
اس کے بعد سوال و جواب شروع ہوئے تو نوجوان صحافیوں نے انتہائی مہذب کہجے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی افادیت، مقاصد میں کامیابی اس پروگرام کے تحت دی جانے والی امداد ی رقم اور اس سے پاکستان میں غربت میں کمی واقع ہونے اور اس سے متعلق بہت سے سوالات نشتروں کی برسات کی صورت کیے، ماری میمن نے اپنے دیگر وزرا کی نسبت بہتر رویہ اختیارر کیا، کسی بھی تلخ تیز سوال پر غصے میں نہیں آئیں ،اپنی بساط کے مطابق انہوں نے صحافیوں کو مطمئن کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ٹھہرریں، بعض سولات کے جواب دینے میں لاجواب ہوئیں،مثال کے طور پر وہ خواتین کو سہ ماہی 4834 روپے دینے سے خواتین کی ضروریات پوری ہونے کے سوال پر یہ کہنے پر اکتفا کیا گیا کہ یہ انکم سپورٹ ہے امداد نہیں۔ اسی طرح ان سے دریافت کیا گیا کہ اس پروگرام سے دی جانے والے 1611
روپے مہوار سے پاکستان سے کتنی غربت کم ہوئی ہے، اور آپ کے محکمہ کی جانب سے اس پروگرام سے رقم منظور ہونے کے حوالے سے لوگوں کو ملنے والی ایس ایم ایس پر کیا کارروائی کی گئی ہے اور اب تک کتنے فراڈیوں کو گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا ہے، تو ماروی میمن نے یہ کہہ کر جان چھڑوائی کہ یہ ان کے محکمے کا کام نہیں۔ابھی سولات پوچھنے کے حوالے سے کئی لوگ بے تاب تھے اور باری دی جانے کے لیے ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے کہ ماروی میمن نے پریس کانفرنس ختم کرنے میں ہی بہتری محسوس کی اور اتھ کھڑی ہوئیں۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مقاصد اور اسکی افادیت اور اس کے موثر ہونے کے متعلق بہت کچھ جاننے کے لیے اتنی دیر انتظار کی زخمت اٹھائی لیکن پھر بھی تشنگی ویسے کی ویسے رہی،لگتا یوں ہے کہ بی بی ماروی میمن بھی اپنے ساتھی وزرا کی طرح پانامہ کے ہنگامہ میں گم شم تھیں اور شائد سوچ رہی ہوں کہ اگلے انتخابات کس پارٹی کے جھنڈے تلے لڑنا ہے کیونکہ مشرف بھی وطن واپس لوٹ رہے ہیں کہ ان کے پاپا جانی کی ان سے کافی گہری دوستی ہے، اور ممکن ہے کہ وہ مشرف کی کشتی میں سوار ہوجائیں تو بیٹی کو بھی مجبورا پاپا جانی کے پیچھے پیچھے چلنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں  حرمین کا تحفظ ایمان کا تقاضا ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker