بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

مسیحی برادری پر حملہ اور اسلامی معاشرت کا تقاضا

bashir ahmad mirرواں ہفتہ ہمارے ملک میں حسب معمول بہت سے روح فرسا واقعات ہوئے البتہ لاہور میں عیسائی برادری پر حملہ انتہائی قابل افسوس اور جس قدر ظالمانہ کہا جائے اس کی مثال نہیں دی جا سکتی۔جوزف کالونی کے رہائشیوں کے لئے وہ دن قیامت سے کم نہیں گذرا جب ان غریبوں کے گھروں کو بے لگام ،بے حس،شتر بے مہار اور عقل کے اندھوں نے پیٹرول کا چھڑکاؤ کر کے جلا ڈالا ،یہی نہیں بلکہ ان مکینوں سے انتہائی بد اخلاقی اور کم ظرفی کے ساتھ رویہ اختیار کیا گیا ،ان کے معصوم بچوں پر بھی ذرا بھر رحم نہیں کیا گیا جو گھر وں کی تباہی کے بعد بے سر و ساماں کھلے آسمان تلے مبہوت ہو کر ہم مسلمانوں کے وحشیانہ کردار پر حسرت بھری نظروں سے نوحہ کناں دکھائی دے رہے تھے ۔اطلاعات کے مطابق تقریباً 200گھروں کو آگ کی نذر کیا گیا ،دو گرجا گھر جلائے گے ،اللہ تعالیٰ کا کرم رہا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ،جانی نقصان کیوں ہوتا۔۔۔؟؟؟ یہ غریب لوگوں کی بستی تھی ،بتایا جاتا ہے کہ زیادہ تر خاکروب پیشہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ،یہ بچارے روزی روٹی کے چکر میں اپنے شب و روز گذارنے والے اس ملک کے باسی ہیں ۔
اسلام کیا ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔۔۔؟ یہ وہ سوال ہے جو واضح اور کھلی دلیل کے ساتھ زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔یہ سارا واقعہ کہاں سے شروع ہوا ۔مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ ساون مسیح نامی شخص نے توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب کیا تھا جس کے ردعمل میں مشتعل ہجوم نے اس بستی پر ہلہ بول دیا ۔بتایا جاتا ہے کہ ساون مسیح نیٹ کیفے کا کاروبار کرتا تھا یقیناًاس کے دوست نما دشمن بھی اسی قبیل کے ہوئے ہوں گے جو خود بھی آوارہ ذہین رکھتے ہونگے اور اس ہی آوارگی میں مبینہ طورپر ساون مسیح سے ایسی کوئی بات منہ سے نکل گئی جو اس واقعہ کی بنیاد بن گی۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم ،صدر ،وزیر اعلیٰ نے فوری کارروئی کا حکم دیا کہ شر پسندوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے جس کے بعد اب تک کم و بیش150ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور چیف جسٹس سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لینے کے احکامات بھی صادر کر دئیے ہیں نیز حکومت پنجاب نے فی خاندان 5لاکھ روپے کی مالی امداد اور اگلے چار دنوں میں مکانات کی تعمیر یقینی بنانے کا حکم صادر کیا ہے ۔
یہ حکومت اور عدلیہ کا احسن اقدام قرار دیا جا سکتا ہے مگر کیا ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ تو لیں کہ آخر ایسے واقعات کیا ہمارے دین اسلام میں جائیز ہیں ،ہر گز نہیں ،ساون مسیح نے اگر بقول شخصے توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب کیا ہے ،یہ انتہائی بڑا جرم ہے جس کی سزا موت کے سوا نہیں ،لیکن اس ایک بد بخت کی وجہ سے سینکڑوں خاندانوں کو نشانہ بنانا درست تھا ۔۔۔؟؟؟ ہر گز نہیں ۔تو پھر یہ مشتعل ہجوم کس کی نمائندگی کر رہا تھا ،ویڈیو فلم کے مطابق سب حملہ آور عقل و شعور سے محروم ،آوارہ صفت اور ظالم انسان نما دہشتگرد نظر آ رہے تھے جو کسی رعایت کے لائق نہیں ۔
افسوس ہے کہ ہم صرف نام کے مسلمان بن کر کہیں دہشتگرد ،کہیں ڈاکو،کہیں راہزن،کہیں چور اور کہیں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہو چکے ہیں ۔ہماری صورت و سیرت ہمارے پیارے نبی ﷺ کے بالکل برعکس ہے ،ہم لٹیرے اور حیوانیت سے بھر پور خصلتیں رکھنے والے صرف نام کے مسلمان ہیں ۔گذشتہ دوسال قبل سیالکوٹ میں ایسا ہی ایک آوار صفت ہجوم دو نوجوان طالب علم بھائیوں کا مقتل سجا چکا تھا ۔کاش اس میں ملوث افراد کو سر عام پھانسی دی گئی ہوتی تو آج ایسا واقعہ ہر گز رونما نہ ہوتا ۔دراصل ہمارا نظام مملکت ایسے ہاتھوں میں ہے جو مجرم کی پشت پناہی تو کرتا ہے مگر اس کا احساس نہیں کیا جاتا کہ ان کی نادانی سے اس کے کیا اثرات مرتب ہونگے ۔
بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ ہجوم میں نہ تو کوئی مذہبی تنظیم ملوث تھی اور نہ ہی کوئی ایسا گروہ جو ظاہر کیا جائے ،البتہ یہ ہماری سماجی ناہمواری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔یہ ہماری سماجی کمزوری ہے کہ جب کوئی گروہ کسی بات پربضد ہوجائے تووہ اس کے نتائج سے بے خبر ہو کر انسانیت سوز حرکات کر جاتے ہیں ۔ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ہمارے سماج میں ظالم اور مظلوم دونوں پسے ہوئے طبقات ہیں جواپنے بالا دست طبقہ کو تو کچھ نہیں کہہ سکتے لہذا ان کا زور زیر دست طبقہ پر ہی ہوتا ہے ۔یہ امر لائق توجہ ہے کہ مذکورہ واقعہ میں ملوث افراد بظاہر آوار پن ،بے روزگار اور تعلیم سے محروم نظر آ رہے تھے ،لگتا ہے کہ ہمارے سماج میں جہالت اور بے روزگاری نے ہمارے اوصاف حمیدہ چھین لئے ہیں ۔ویسے بھی عوامی تشدد کی بڑی وجہ طبقاتی محرومیاں ،ریاستی جبر اور حکمران طبقہ کا استحصالی کردار توڑ پھوڑ ،انتقام شدت پسندی میں ممد و معاون کردار ہیں ۔جب معاشرتی انحطاط بڑھ جائے تو پر تشدد واقعات کا ہونا معمول بن جاتا ہے ۔اس ہجوم میں شامل سب لوگ مجرم بھی نہیں کہلائے جا سکتے کیونکہ اشتعال دینے والے چند لوگ ہی ہوتے ہیں ۔پھر ہمارے پیارے نبی ﷺ کی توہین کرنے والے سے کسی کی ہمدردی بھی نہیں ہوتی ۔یہ ایک واقعہ نہیں اس نوعیت کے بے شمار اشتعالی واقعات ہمارے ملک میں ہو رہے ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فرد سے معاشرے تک ان عوراض کا پہلے تعین کریں پھر ان کے علاج پر توجہ دیں ۔سب سے پہلے نظام تعلیم کی جانب فکری مہم چلائی جائے ۔طبقاتی نظام تعلیم نے ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کر دیا ہے ۔جبکہ ہر سال نصاب میں تبدیلی کرنے اور تعلیم کو کمرشلزم کی جانب جھونکنے سے جہالت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس سے چائلڈ لیبر میں خوفناک حد تک بڑھنا ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔بے روزگاری نے قدم قدم پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔ایسے حالات میں جب عوام کرب و بلا سے گذر رہی ہو تو ان جیسے حالات کا پیدا ہونا لازمی امر ہے۔ہمارے قومی رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ ووٹ کس لئے لیتے ہیں اور کن سے لیکر ایوان بالا میں پہنچ پاتے ہیں ،انہیں کوئی پوچھے کہ آپ ووٹ کیوں مانگنے آتے ہو ۔۔؟؟؟کیا یہ عوام کے خیر خواہ ہیں ،کیا انہیں اقتدار ملنے کے بعد عوام کے بارے کوئی ہوش ہوتا ہے ۔۔؟؟ جیسے ہم انگریز اور ہندؤوں بنئے سے آذاد ہونے کے بعد تھے ویسے آج ہی ہیں ۔ہمارے اوپر ایسا نظام مسلط کر رکھا ہے جو استحصالی قوتوں کی مدد کرتا ہے مگر ہماری آواز کوئی نہیں سن پاتا ۔انتخابات جب آتے ہیں تو رنگ رنگ کے نعرے ،حسین خواب اور مستقبل کو چار چاند لگانے کی باتیں کی جاتی ہیں مگر جب وہ منصب اعلیٰ پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر یہ ہجوم ،مخلوق اور ریوڑ انہیں اچھا نہیں لگتا ،کبھی ان سے عوام بے زار آ جائے تو پھر کوئی آمر اپنے نکات لیکر عوام کو بیوقوف بنائے رکھتا ہے ۔یہ چوہے بلی کا کھیل عوام کے لئے عذاب جاں سے کم نہیں ۔بہر حال اب ایک خوش آئند امر یہ ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت نے پھلنا بھولنا شروع کر دیا ہے ۔میڈیا اور عدلیہ آذاد ہے ۔اگر کہا جائے کہ اس نظام کی بہتری کی جانب صرف 5سال ہوئے ہیں ،امید کی جاتی ہے کہ جمہوری نظام کے استحکام سے عوام کی حالت بہتر ہونا شروع ہو جائے گی ۔حکومت کو چاہئے کہ مذکورہ افسوسناک واقعہ کی انصاف پر مبنی تحقیقات کروائی جائے ،متاثرین کی آباد کاری اور ان کے نقصانات کے ازالے کے لئے معقول معاوضہ دیا جائے ۔بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہوئے اسلامی شعائر کا احترام لازم رکھا جائے۔جہاں تک ساون مسیح پر توہین رسالت کا الزام ہے اس کی صحت اور جملہ سچائی کے حامل شہادتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مقدمہ درج کیا جائے ،اگر کسی رنجش،عداوت یا کاروباری تصادم کی بنیاد پر الزام لگایا گیا ہے تو ایسے الزام لگانے والوں کو کڑی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہونے پائیں۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button