بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

معصوم ملالہ اور ہمارا مستقبل

ملالہ یوسفزئی پر دہشتگردوں کا حملہ دراصل انسانیت پر کھلم کھلا وار ہے۔آج پوری قوم اس حملہ کے بارے فکر مند ہے کہ ہمارے ملک میں کون لوگ ہیں جو معصوم جانوں پر شبِ خوں برسا رہے ہیں؟کیا اس ملک کے با صلاحیت شہریوں کو نشانہ بنانے والے قوم کے بہی خواہ ہو سکتے ہیں؟کیا یہی درسِ دین ہے؟ یہ ایسے سوال ہیں جن کا جواب ہر انسان مانگ رہا ہے۔ہمارا دین امن ،محبت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے ۔اسلام میں ہر ذی روح کی حرمت کو ترجیح دی گئی ہے۔افسوسناک بات تو یہ ہے کہ نام نہاد طالبان کی جانب سے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول کی جانا مسلم امہ کو بدنام کرنے کی بڑی سازش ہے۔اللہ تعالیٰ زخمی ملالہ یوسفزئی اور ان کے ساتھ زخمی ہونے والی طالبات کو صحت کاملہ عطا کرئے یقیناًیہ دعا ہر دکھی انسان کی ہے۔
ہمیں ملک و قوم کو دہشت گردوں ،غاصبوں اور انسان دشمنوں سے بچانا ہے ۔ہمارے وطن عزیز کو توڑنے والوں کے عزائم سب کے سامنے ہیں ۔ان دہشت گردوں نے پوری ملت اسلامیہ کو مشکلات میں الجھا رکھا ہے۔ہر سو عدم تحفظ اور غیر یقینی حالات پیدا کر کے ملک کے بد خواہ عوام کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ان بد بختوں کی وجہ سے مہنگائی،بے روز گاری ،جہالت،توانائی کا بحران اور ان سے پنپنے والے بے شمار جرائم سے عوام کا جینا دوبھر ہو چکا ہے جبکہ ہمارے منصوبہ ساز ملک کے لئے کم اور اپنے مراعات کے لئے زیادہ سوچتے ہیں۔گذشتہ دنوں آذادکشمیر مظفرآباد کے معیشت دان ڈاکٹر انور چوہدری نے حیرت انگیز اعلان کیا ہے کہ انہیں اگر پلانیگ کمیشن کا ڈپٹی چیئرمین بنا دیا جائے تو وہ آذاد کشمیر سے’’ ایک ارب ‘‘روپے سالانہ آمدن کے ذرائع پیدا کر سکتے ہیں اور ہر یونین کونسل میں چالیس آسامیاں بھی تخلیق کر کے بے روزگاری کے بحران کو کم کر سکتے ہیں۔یہ اعلان پڑھ کر ہر قاری تجسس میں ہے کہ آخر کونسا’’ الٰہ دین کا چراغ‘‘ ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ آگیا ہے جو’’ امریکہ کے خیر خواہ ‘‘سابق وزیر اعظم شوکت عزیز اور موجودہ وزیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کو نہیں مل پایااگر مان لیا جائے کہ ڈاکٹر چوہدری انور معیشت کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو پھر ان کی خدمات کیوں نہیں لی جا رہی ہیں؟
ہمارے ملک میں با صلاحیت افراد کی کمی نہیں، مگر ہماری سوچ و فکر میں مثبت پہلو نہیں ہے۔ہمارے نظام کو بیوروکریسی نے جھکڑاہوا ہے جو سی ایس پی کر کے آتا ہے اس کا دماغ پہلے دن سے خراب کر دیا جاتا ہے ۔درحقیقت جیسے ہمارے سیاسی نظام میں سیاست وراثت بنی ہوئی ہے اسی طرح بیوروکریسی میں بھی مخصوص خاندان اس بے بس عوام کے مستقبل سے کھیلتے جا رہے ہیں۔عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کو پامال کرنے والوں نے پورے معاشرے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔پولیس کا نظام ہو یا محکمہ مال کا نظام سبھی کا ایک مقصد ہے کہ کوئی غریب الحال پُرسکون زندگی بسر نہ کر سکے۔ہمارے ملک میں قانون بھی گناہ گار اور بے گناہ میں تمیز نہیں کرتا جہاں پیسا ہوتا ہے وہیں قانون کا راستہ بھی بدل جاتا ہے ۔جب انصاف کی قیمت مقرر ہو جائے تو پھرسماج کی شکل بدل جاتی ہے۔یہ جو آج ہم دیکھ رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہم یہ 65برسوں سے سب کچھ دیکھے جارہے ہیں اور ہماری مردہ ضمیری کا یہ حال ہے کہ ساری ذمہ داری صرف حکمرانوں پہ ڈال کر ہم اپنی بے گناہی ظاہر کئے جارہے ہیں۔کسی محبِ وطن نے کبھی غور کیا ہے کہ ہمارے ملک میں منافع بخش ادارے ’’پی آئی اے،ریلوے ،سٹیل ملز،واپڈا ‘‘کیوں خسارے کا شکار ہیں؟
ہمارے معاشرے میں ہر وہ شکل جو کسی بھی دلچسپ نعرے یا فکری جد و جہد سے تعلق رکھتی ہے اس کے وارث ہماری بد قسمتی سے ایسے لوگ ہیں جن کا عوام سے کوئی لینا دینا نہیں،اسلام کے نام پر عوام کو بیوقوف بنانے والے ہوں یا سماج کو بدلنے کے دعوے دار سبھی اندر سے عوام کے حقیقی دشمن رہے۔اب ’’طالبان ‘‘کے نام پر عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔میرے ایک دوست نے حیران کن
بات کی ہے کہ اگر ہمارے اربابِ اختیار باز نہ آئے تو طالبان کی شکل میں عذاب کا انتظار کیا جائے جو ہمارے سروں پر سوار ہے۔مجھے ایک اور دوست کے ساتھ ایک صنعت کار سے ملنے کا اتفاق ہوا تو انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں منصفانہ معاشرہ تشکیل نہ پا سکا تو ایک دن خوف ناک خونی انقلاب سب کچھ بہا لے گا۔
ان خطرات اور خدشات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہمارے سیاست کاروں ،نوکر شاہی کے کُل پرزوں،انتظامی امور کے ان داتاؤں اور انصاف کے علمبرداروں کو عقل کے ناخن لنے کی ضرورت ہے ۔سب سے پہلے ملک کی سلامتی یقینی بنانے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنے کی کوشش کی جانی چائیے جو عوام کے جان و مال سے تصادم رکھتے ہوں۔جب وطن عزیز کا ہر شہری امن اور سلامتی کے ثمرات محسوس کرلے گا پھر ایسے دہشت گردوں کا پنپنا مشکل تر ہو جائے گا۔دراصل ہم نے سطحی دلیلوں اور بے معنی جوازیت سے بگاڑ پیدا کر رکھا ہے ۔ہم جن حالات کا بطور مجموعی شکار ہیں ان کا ادراک از بس ضروری ہے۔یہ بات سو فیصد درست ہے کہ’’کفر کی حکمرانی چل سکتی ہے مگر ظالم کی نہیں‘‘ اس پہلو پر صبر کے ساتھ غور کریں تو ہمیں ہر کونے میں ظالم انسان نظر آئیں گے جو مختلف بھیس بدل کر عوام کا خون چوس رہے ہیں۔ان میں ہمارے منصوبہ ساز سرِ فہرست ہیں جبکہ بیورکریسی کے شاہزادے ،انتظامی امور چلانے والے عوام دشمنوں کے دُم چھلے اور عوام کو دونوں ہاتحوں سے یرغمال رکھنے والے سیاسی اداکار پیش پیش ہیں۔اگر کہیں کوئی ’’ملالہ‘‘جیسی سچی بات بھی کرئے تو اسے راستے سے ہٹانے کے لئے گم نام گولی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ملالہ جس نے ستارہ جرات کا اعزاز پایا اور کم عمر ہونے کے باوجود اس نے اپنی خدا داد صلاحیتوں سے ملک کا نام روشن کیا ،ایسی شخصیات کا عدم تحفظ کا شکار ہونا انتہائی افسوسناک امر ہے۔ ایسے سماج دشمن عناصر کا گھیرا تنگ کرنے کے لئے اپنی اصلاح کیوں نہیں کی جارہی ہے؟ جب کہ ہم بھر پور صلاحیت بھی رکھتے ہیں مگر ہماری فکری جد و جہد کیوں رنگ دار نہیں ہوتی دراصل اس کے لئے ہر ایک شہری کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے عام انتخاب کی شکل میں عوام کو ایک موقعہ دیا ہے جس کو بروئے کار لانا ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے جب ہمارے نمائندے ہمارا بہتر انتخاب ہوں گے تو از خود تبدیلی کی شروعات ہونگیں مگر ابھی مستقبلِ قریب میں ایسی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے کیونکہ عوام کی خواہشات کو کبھی آمریت اور کبھی جمہوریت کے نام پر سرمایہ کے بل بوتے ’’بلڈڈوز ‘‘کیا جا رہا ہے۔جب تک ہمارے رہبر راہزنی نہیں چھوڑئیں گے تب تک صبح نو کے خواب ادھورے ہیں۔ہاں البتہ بہت قریب ہے وہ وقت جب عوام کے جان و مال سے کھیلنے والے عبرت ناک انجام کو پہنچیں گے۔آخر پر معصوم ملالہ کو اس دعا کے ساتھ خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ اللہ اس کی زندگی میں برکت عطا فرمائے اور پوری قوم کو امن ،خوشحالی اور ترقی کے دور میں داخل کرئے ۔

یہ بھی پڑھیں  نئی نسل منشیات کی عادی۔۔۔ذمہ دار کون؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker