ذیشان انصاریکالم

مارچ ، میچ اور کپتان سے قوم کی امیدیں

مارچ کے آغاز سے لیکر اختتام تک میچوں کا سیزن رہا۔کبھی سیاستدانوں تک آپسی میچ میڈیا کے ذریعے عوام کو دیکھنے کو ملتے۔کبھی مقننہ کاعدلیہ سے مقابلہ ہوتا۔مزیدبرآں عوام کو میچ دکھانے والوںکے درمیان بھی میچ ہوتا رہا اور پریس کلبوں کے 2012-13کے انتخابات میں میڈیا کے سپاہیوں کو نئی قیادت میسر آئی۔ اسی اثنائ میں عوام اور واپڈا کے درمیان بھی میچ کی جھلکیاں دیکھنی کوملتیں اگر کبھی بجلی کی آمد ہوتی۔
مارچ کے آغاز میں سب سے پہلا میچ سینٹ انتخابات کے درمیان دیکھا گیا۔جس میں نام نہادجمہوریت کا نعرہ لگانے والی پیپلزپارٹی نے واضح کامیابی حاصل کی ۔بیشتر ذرائع ابلاغ نے عوامی نمائندوں کی میچ فکسنگ کی دلچسپ کہانیاں عوام کودکھانے کاشرف حاصل کیا۔سب سے بہترین Bookingپنجاب اسمبلی میں ہوئی؟جس میں آیک آزاد ممبر نے تین صوبوںومرکز میں حکومت کرنے والی جماعت کے ممبر کو عبرت ناک شکست دیتے ہوئے۔مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کیا۔
مارچ میں عوام کو ریاست کے دوستونوں کے درمیان میچ کی جھلکیاںبھی دیکھنے کو ملیں،جس میں عوامی سپورٹ کے حامل چیف جسٹس آف پاکستان ودیگرجج صاحبان اپنی باری بڑے تحمل اور پرجوش انداز میںکھیلتے رہیے۔جوہر بال پر بھی آفریدی کی طرح جوش کی بجائے مصباح الحق کی طرح تحمل مزازی کا مظاہرہ کرتے نظر آئے جبکہ اپوزیشن ٹیم نے Bad Bowlingکا مظاہرہ جاری رکھتے ہوئے، میچ حکمت عملی تبدیل کرنے کی بجائے یہ واویلا مچائے رکھا کہ گیلانی ٹیم دوسری ٹیم کے ٹارگٹ سکور کو بلند تر کرنا چاہتی ہے تاکہ سکور کے حصول میں لمبی باری کھیلی جاسکے اور بہتر ہو گا اگر شکست ﴿سیاسی شہادت﴾حاصل ہوجائے تاکہ اگلے انتحابات میں عوام کے سامنے اپنی زیادتی کا رونا رویا جا سکے؟
مارچ کے میڈل میں پاکستانی عوام کو ایشیائ کپ کے میچوں کی خبریں Facebook,Smsنیوز پیپرز اور نیوز ہیڈلائن میںسننے اور دیکھنے کو ملیں۔کیونکہ اس دوران واپڈا نے اپنی کارکردگی میں اضافہ کرتے ہوئے 15-20گھنٹے عوام کو بجلی کے بلوں سے محفوظ رکھا۔ورنہ بیچاری عوام پہلے ہی 120-250گھنٹے فی ماہ کا بل ادا کرنے کی حثیت نہیں رکھتی وہ کیسی 720گھنٹے ایک ماہ کا بل ادا کرتے۔خیر22مارچ کو پاکستان v/sبنگلہ دیش کے درمیان ایشیائ کپ کا فائنل کھیلاگیا۔جس میں پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 236رنزبنائے اور 237رنز کا ٹارگٹ بنگلہ دیش کے قدموں میں پیش کیا اور پاکستانی عوام سمیت کھلاڑیوں نے دعائو ں کا سلسلہ شروع کر دیا۔عوامی دعائوں کی بدولت پاکستانی ٹیم نے مدمقابل ٹیم کو 234رنز پر بریک لگادی اور 2 رنز سے کامیابی وصول کی۔میچ کے اختتام پر ملک بھر میں پاکستانی عوام نے ایشیائ کپ کی کامیابی کا جشن جوش و جذبہ سے منایا Cricket Loverمٹھائیاں تقسیم کرتے رہے اور ڈھول کی ٹھائپ پر ڈانس کر کے2بار ایشیائ کپ کی کامیابی کا جشن مناتے رہے۔
22مارچ کی کامیابی پر پوری پاکستان میں جشن کا سمائ تھا۔لیکن سابقہ کرکٹر اور عوامی لیڈر عمران خان اور ان کی ٹیم 23مارچ کو سیالکوٹ میں اپنے تاریخی جلسہ کی تیاریوں میں مصروف نظر آئے۔ جلسہ کی تیاریاں تو کافی عرصہ سے جاری تھی، مقامی لیڈر ان کارنر میٹنگز، جلسوں ، BILL HOARDING ، پمفلٹ اور اخبارات کے ذرایعے سیالکوٹ کی عوام کے دلوں میں سونامی کی لہر پیدا کر رہے تھے۔ 22مارچ کی رات سے PTI ممبران نے جناح سٹیڈیم کی سکیوڑٹی سنبھال لی تھی۔ سکیوڑٹی کے نوجوانوں کو اسپیشل طور پر ہدایات تھی کہ جلسہ کے اختتام میں کسی قسم کی بد انتظامی نہ ہو۔ 23مارچ کے دن کو مزید یادگار بنانے کیلیے عمران خان نے سیالکوٹ کی سونامی کو VIOCE SMS کیے۔24مارچ کو کپتان صاحب اپنے آبائی شہر میانوالی میں سونامی کی پاور کو شو کرواتیہوئے کرپش کے خلاف آواز بلند کی۔
25مارچ کو ۰۲ سال پرانی یادیں تازہ ہوگی، جب کپتان صاحب کی قیادت میں پاکستانی پرچم پوری دنیا میں بلند ہوا، پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے پہلا ورلڈ کپ اپنے نام کیا۔ 1992 میں پاکستان کی ٹیم کے حالات موجودہ پاکستانی سیاست جیسے تھے؟ماہرین کے مطا بق جس طرح ۲۹ میں عمران خان نے پاکستان کی ٹیم نہ صرف متحد کیا بلکہ کرپش کا خاتمہ کرتے ہوئے قوم کو ورلڈ کپ کا گفٹ دیا۔ موجودہ حالات میں سیاست کے میدان میں بھی سارا پاکستان ایک مرتبہ پھراپنی امیدیں عمران خان سے لگائے ہوئے ہیں۔
ٓٓآج ۰۲ سال بعد قوم ایک ایسی کپتان کی راہ دیکھے رہی ہیں ، جو پاکستانی سیاسی ٹیم کونہ صرف متحد کر بلکہ پاکستان کو اقبال اور قائد کے نظریات کی روشنی میںملک کی باگ ڈور چلائے، راقم کے نزدیک اگر کوئی شخص پرائیویٹ طور پر صحت و تعلیم کے میدان میں انقلاب لاسکتاہے اور غریب خاندان کے افراد کو تعلیم اور کینسر جیسی ملحق بیماری سے فری میں نجات میسر آسکتی ہے، تو جب اس شخص کے ہاتھ اقتدار آئے گا توعین ممکن ہے کہ وہ پاکستان کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو دوبارہ سمندر کی لہروں سے مقابلہ کرنے کے قابل بنادے؟ امید ہے کہ کپتان صاحب کی کشتی میں ایماندار، محب الوطن ، عوامی خادم اور سیاست کو خادمت تصور کرنے والے افراد ہی شامل ہونگے، اوکپتان اپنی ٹیم کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرے گا جس سے اسے چیلنجز سے نمٹنے میں آسانی رہے گی اور قوم پرامید ہے کہ کپتان پاکستانی قوم کو وہ دن ضرور دکھائے گا جس کے بارے کبھی فیض احمد فیض نے کہا تھاò
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ
ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ
جس کا وعدہ ہے

یہ بھی پڑھیں  یا رب دل مْسلم کو وہ زندہ تمنا دے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker