شہ سرخیاں

میں نہ مانو ہار

پاکستان میں ہرشخص کرپشن کرپشن کہتا نظر آتا ہے۔ لیکن اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے ڈرتا ہے۔ ویسے تو پاکستان کا کوئی ایسا محکمہ نہیں جس کو ہم کہہ سکیں کہ یہ رشوت یا بدعنوانی سے پاک ہے مگر ہمارے محکمہ تعلیم نے ان چند سالوں میں جو نام کمایا ہے اتنا زیادہ نام تو پولیس اور واپڈا کے محکمے نے بھی نہیں کمایا ہوگا۔اسی نوعیت کا ایک واقعہ میرے سامنے پیش آیا۔ ہمارے مقامی گورنمنٹ کالج کی پرنسپل نے 2011میں ایف اے کے امتحانات میں بچوں سے داخلے کے نام رقم تو جمع کرلی اور بورڈمیں جمع نہ کرائے اور اپنے کلرک کی ملی بھگت سے لاکھو ں کا فراڈ کر لیا۔جب بچیوں کے رول نمبر وصول کرنے کا وقت آیاتو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے تو داخلے سیکنڈری بورڈ میں نہیں پہنچے۔ پھر والدین اور مقامی معززین کی مدد سے سیکینڈری بورڈمیںدوبارہ رقم جمع کرائی اور رول نمبرسلپ حاصل کیں۔ اس کے باوجود کتنی بچیاں امتحان دینے سے قاصر رہیں اور اپنا قیمتی سال ضائع کردیا۔ افسو س اس بات کا ہے وہ پرنسپل آج بھی اس سیٹ پر قائم ہے کیا وہ ان بچیوں کا قیمتی سال واپس لاسکتی ہے ۔
2011میں اسی کالج میں سی ٹی آئی ﴿عارضی لیکچرار﴾کی سیٹ نکلی تو ان میں کچھ لیکچرار میری واقف کار بھرتی ہوگئیں۔ انہوں نے چھ ماہ کالج میں ملازمت کی اور پھر ان کا معاہدہ ختم ہوگیا۔ اب جب2012میں ان کا تنخواہ لینے کا وقت آیا تواس پرنسپل نے پہلے تو بل پاس کرانے کے نام کئی ہزار روپے لیے اور اس کے بعد اپنے ذاتی خرچے کی لسٹ ان لیکچرارز کے ہاتھ میں تھامادی۔جس میں ان کو بتایا گیا کہ اتنی رقم کی سی این جی تمھارے بل پاس کرانے میں خرچ کی۔ سوال یہ ہے کہ اگر بل پاس کرانا اس ادارے کی پرنسپل کا کام نہیں تو پھر اس کو لیکچرار بھرتی کرنے کا کیا حق ہے؟ اور اگر جس ادارے کا سربراہ سی این جی کے پیسے مانگنے لگے تو پھر اس ادارے کے کلرک کیا کرتے ہونگے؟ جب یہ لیکچرارز تنخواہ بغیر رشوت کے اس پرنسپل سے نہ لے سکیں تو انہوں نے میڈیا کا سہار ا لیا اور جب میڈیا والوں نے کالج کی پرنسپل سے رابطہ کیا تو اس نے ہیلو ہائے کرنے کے بعد اپنے کلرک کو فون تھما دیا جس نے نام پوچھنے کے بعد سوالوں کے جوابات دینے کی بجائے فون کو فوراًبند کردیا۔اور وہاں پر موجود لیکچرارزجو تنخواہ لینے کے لیے آئی ہوئی تھیں ان سے پرنسپل نے کہا ’’کہ اب یہ میڈیا کو بتا رہی ہیں تو یہ مجھ سے تنخواہ لیکر دکھائیں‘‘ اس کو کہتے ہیں چوری اور سینہ زوری
محکمہ تعلیم میرے مطابق تو ایک قابل احترام محکمہ ہے مگر جس قسم کی حرکات اس محکمے میں ہورہی ہیں تو ایک دن یہ محکمہ پولیس سے زیادہ نام کام لے گا کیونکہ اس کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ابھی پچھلے سال ایف کے امتحانات میں اس محکمہ نے جو کارنامہ سرانجام دیا اس سے ہمارے تعلیمی نظام کا چرچہ پوری دنیا میں کھل کر ہوگیا۔ اور ایک طرف ہر دور میںپنجاب کے وزیرا علیٰ تعلیم کے لیے بڑے بڑے پوسٹر اخبارات میں لگوا دیتے ہیں مگر اس محکمے کی حالت نہیں دیکھتے جہاں تعلیم سے وابستہ ایک ٹیچر بھی اپنے کسی بل کی منظوری کے لیے رشوت دیکر پاس کرواتا ہے۔ سیکنڈری بورڈ میں کروڑں کے گھپلے منظر عام پر آئے ہیں ۔اس سے پہلے اس ہی محکمہ کی ڈگریوں میں کرپشن کی انتہا ہوئی کہ ہر محکمے میں کچھ نہ کچھ اشخاص کی ڈگری جعلی نکلی۔ اب ان سے پوچھا جائے کہ یہ جعلی ڈگریاں انہوں نے کدھر سے حاصل کی۔ لازمی بات ہے انہوں نے یہ گھر تو بنائی نہیں یہ بھی کسی محکمے کے افراد کی ملی بھگت سے بنی ہوگی۔ اس میں بھی محکمہ تعلیم کا نام آئے گا خواہ وہ کوئی کلرک ہی کیوں نہ ہو؟ استاد کو ہر معاشرے میں عزت کی نگا ہ سے دیکھا جاتا ہے اور اگر یہ استاد اپنے کاموں کے لیے رشوت دیں گے تو وہ کس طرح بچوں کو برائی سے روکنے کا درس دے سکتے ہیں۔ میرا اپنا نظریہ یہ کہتا ہے جو شخص اپنے آپ کو غلط کام سے نہیں روک سکتا تو پھر وہ دوسروں کو کس منہ سے منع کر سکتا ہے۔ یہ کرپشن ہمارے ملک کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے۔ اور اب تو ہم اس قدر بے حس ہو گئے ہیں کہ ہر کام کراتے ہوئے رشوت دینا اپنا فرض سمجھتے ہیںخواہ کوئی بھی محکمہ ہواور بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں کہ یار اس غریب کا بھی پیٹ ہے۔جیسے اس کو گورنمنٹ تنخواہ نہیں دیتی بلکہ اللہ واسطے کام کرواتی ہے۔اور کلرکوں کا یہ حال ہے کہ کام بعد میں پوچھتے ہیں رقم پہلے بتا دیتے ہیں ۔ حتی کہ ایک سرٹیفیکیٹ پر اے ای او کے دستخط کے لیے بھی رشوت دینا پڑتی ہے۔ کیا محکمہ تعلیم صرف رشوت پر چل رہا ہے؟ کیا اس کو پوچھنے والا کوئی نہیں؟ جبکہ حکومت تو معیار تعلیم بلند کرنے کے دعویٰ کررہی ہے مگر اس کا معیار کا تو نہیں پتا چل رہا بلکہ معیار رشوت بہت زیادہ بڑھ رہا ہے۔اگر ان کے خلاف درخواست دی بھی جائے تو اس پر کونسا ایکشن ہوتا ہے ۔ اسی ڈیپارٹمنٹ سے کسی کو انکوائری آفیسر مقرر کردیا جاتا ہے جواپنے ساتھی کی مدد کرکے درخواست گزار کو فارغ کر دیتا ہے یا اس کو جھوٹی تسلی دیکر بھیج دیا جاتا ہے۔ اگر اس پر سچائی کے ساتھ تقاضے پورے کیے جائیں اور سزاوار کو سزا دی جائے تو شاید اس طرح کسی کی رشوت لینے یا دو نمبر کام کرنے کی ہمت کسی میں نہ ہو۔
حکومت کو چاہیے کہ اس محکمے کو مزید بدنام ہونے اور اگر ملک میں خواندگی کی شرح بڑھانی ہے تو پھر اس محکمہ سے کرپشن کو ختم کرنے کے سخت سے سخت اقدامات کرنے چاہئیںتاکہ پوری دنیا میںاس کانام عزت کی نگاہ سے لیاجاسکے۔

یہ بھی پڑھیں  ہم ہیں پڑھے لکھے جاہل
error: Content is Protected!!