تازہ ترینکالممیرافسر امان

مذاکرات، مذاکرات اور صرف مذاکرات !

mir amanلاہور میں علماء مشائخ کانفرنس طالبان کمیٹی کے سربراہ کے زیر قیادت اہتمام قائم کی گئی اس کانفرنس میں ۳۲ سے زائدجماعتیں شریک ہوئیں اس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ ہم علماء سیاسی پارٹیاں،مشائخ، سول سوسائٹی،حکومت،طالبان اور میڈیا سے امید رکھتے ہیں کہ سب مل کر مذاکرات میں حائل رکاوٹیں ختم کریں گے پارلیمنٹ اور اے پی سی کی سفارشات پرعمل کریں گے اس غیر ملکی جنگ سے ملک کو نکالیں گے قرآن کہتا ہے ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے سب سے گذارش ہے ملک کو نارِ نمرود سے بچائیں فریقین رکاوٹ نہ پیدا ہونے دیں کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کانفرنس کے اختتام پریہ ا علامیہ پڑھ کر سنایا جس میں حکومت اور طالبان سے اللہ اور رسولؐ کے نام پر فوری جنگ بندی کی اپیل کی گئی ہے۔اس سے قبل وفاق ا لمدارس نے ملک کے تمام علماء کو جمع کر اللہ کا واسطہ دے کر دونوں فریقین سے جنگ بندی کا کہا تھا۔جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے مذاکرات کی ناکامی کے باوجود فوجی آپریشن نہ کرنے کی درخواست کی ہے ان کے مطابق اس طرح کہہ کر وہ افواج پاکستان کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ فوج کو اپنے ہی شہریوں سے الجا دیا گیا ہے نقصان کسی فریق کا بھی ہو نقصان پاکستان کا ہے نقصان امت مسلمہ کا ہے اس وقت یہ تجزیے نہیں کرنے چاہیے کہ کون قصوروار ہے اور کون قصوروار نہیں اس وقت ایک ہی ایجنڈا ہونا چاہیے کہ ہر حالت میں مذاکرات ہوں اور کسی فیصلے پر پہنچا جائے دونوں طرف سے خون خرابے سے اجتناب کرنا وقت کی ضرورت ہے یہاں تک طالبان کی شریعت کے نفاذ کی بات ہے وہ ہر موقعے پر کہہ چکے ہیں بم دھماکوں اور خود کش حملوں سے شریعت نافذ نہیں ہو سکتی شریعت پرامن طریقے سے ہی نافذ ہو سکتی ہے اور ملک میں امن بھی جیٹ طیاروں کی بمباری اورٹینکوں کی گولہ باری سے امن قائم نہیں ہو سکتا اس لیے اس طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے رہنماء خورشید شاہ نے کہا ہے دہشت گردی کے بعد مذاکرات کی افادیت ختم ہوئی ہے نواز شریف کو لیڈر بن کر سوچنا ہو گا حکومت کی کمزور پوزیشن کی وجہ سے نقصان پہنچ رہا ہے۔بلاول کی زبانی کہ وہ وحشی درندوں کا قانون نہیں مانتے دمادم مست قلندر ہو گا ہمیں شریعت نہ بتائیں ہمیں معلوم ہے ۔جو شریعت وہ جانتے ہیں اس کا مظاہرہ وہ سندھ ثقافتی پروگرام میں کر چکے ہیں اور ان کی تو پوری زندگی ہی شریعت کے مطابق ہے اگر ان جیسے نوجوانوں کو قوم کا لیڈر مان لیا گیا تو وہ اپنے نانا کے دور حکومت میں منظور ہونے والے اسلامی آئین کی تشریع اسی طرح کریں گے اس بہتر سے بیان تو زرداری صاحب کا ہے۔پی پی پی کے سابق وزیر داخلہ کہتے ہیں حکومتی کمیٹی بننے سے طالبان کی اہمیت بڑھی ہے اس مسئلے کا ایک ہی حل آپریشن ہے ۔عمران خان نے کہا پی پی پی ،ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی اب آپریشن پر زور دے رہے ہیں انہوں نے اپنے دور میں شمالی وزیرستان میںآ پریشن کیوں نہیں کیا۔مولانا فضل ا لرحٰمان تو ہر حکومت کے ساتھ ہوتے ہیں وہ مشرف، پی پی پی اور اب ن لیگ کے ساتھ ہیں حکومت پہلے بھی آپریشن کر کے دیکھ چکی ہے اس سے قبل ۹�آپریشن ہو چکے ہیں جس میں ۲ شمالی وزیرستان میں کئے گئے۔
صاحبو!اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں نواز شریف مذاکرات میں مخلص ہیں اور کہہ چکے ہیں حکومت اور فوج ایک ہی پچ پر ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے فرمایا ہے کہ کراچی اور مہمند جیسے حملوں سے مذاکرات کو دھچکہ لگا ہے اور مذاکرات کو سبوتاژکیا گیا ہے حالیہ حملوں پر طالبان نے اپنے موئقف میں کہا ہے کہ ہمارے لوگوں کو فورسزقتل کر رہی ہیں اس لیے ہم نے بھی کراچی میں کاروائی کی ہے کراچی میں ہمارے ۲۱؍ افراد کو قتل کیا گیا ہے پشاور میں ۱۰؍ افراد کو قتل کیا گیا اس پر کراچی میں ہم نے پولیس وین پر حملہ کیا ملک میں دوسری کاروائیوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ادھر عسکری حکام کا کہنا ہے زیرحراست دہشتگردوں کے قتل کا الزام بے بنیاد ہے یہ بات چل رہی تھی کہ مہمند ایجنسی میں ایف سی کے ۲۳مغوی اہلکاروں کو قتل کر کے مذاکرات کو ڈیل ریل کرنے کے لیے ایک اور گھناونی کوشش کی گئی ہے جس کی جتنی بھی مزاحمت کی جائے کم ہے۔ اس واقعے پرحکومتی کمیٹی نے طالبان کمیٹی سے طے شدہ میٹنگ میں شمولیت سے انکار کر کے مذاکرات کو زیادہ مشکل بنا دیا ہے دس سال سے زیادہ جاری جنگ کو فوراً ختم ہونے کے خواب دیکھنے والے حقائق کی دنیا سے باہر ہیں طالبان نے پاکستان کے آئین کے تحت مذاکرات میں شرکت کا مان کر اچھی بات کی تھی اگر دونوں فریق پر پوئنٹ اسکور کرنے کا الزام لگ جائے تو کسی طرح بھی مناسب نہیں دونوں فریق بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس آگ کو بجھا دیں تو یہ تاریخی کامیابی ہو گی۔
قارئین!قوم کو اس وقت اس بعث میں نہیں پڑنا چاہیے ہے کہ کس کی غلطی ہے اور کس کی نہیں! تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں ہر لڑائی آخر مذاکرات پر ہی ختم ہوئی ہے اس لیے وطن سے محبت کرنے والے حلقے مذاکرات ،مذاکرات اور صرف مذاکرات پر ہی اس مسئلے کے حل پر یقین رکھتے ہیں اللہ سے دعاء کہ وہ اس مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو دشمنوں کی سازشوں کی وجہ سے برپاہ اس جنگ سے نکالے آمین۔

یہ بھی پڑھیں  فرعونِ مصرکی واپسی

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker