تہمور حسنکالم

مظلومیت کی آغوش میں پلتی زندگی۔۔۔۔!

چند حروف پر مشتمل لفظ ’’زندگی‘‘ اپنی اصلیت اور حقائق میں بہت وسعت رکھتی ہے اور اسی جملہ و حقوق کے گرد گھومتی ہے کہ انسانیت کس کس کمال کی مالک ہے‘ شاید یہ دُور کی بات ہے‘ در اصل حقیقت کچھ اور ہے جس کے نتائج ہماری زندگیوں کی عکاسی کرتے ہیں‘ ایمانداری‘ میانہ روی اور اعتدال پسندی جو کبھی انسان کی میراث ہوا کرتی تھی اب وہ ہماری جرات کو جواب دیتی جا رہی ہے اور انسان کے حصار سے خود کو آزاد کروانے کے جتن میں مصروف ہے‘ اگر کبھی انسانی وقف سے واقفیت حاصل کرنی ہو تو ادب کی کسی اچھی سی کتاب کا مطالعہ کر لیجئے گا‘ ان کو تلاش کرنے میں خود کو مت ڈالیئے گا ورنہ خالی ہاتھ لَوٹنا آپ کی عادت سی ہو جائے گی‘ اقبال کے مطابق خودی جسکے زینے طے کرنے کے بعد بشر کی تابع دکھائی دیتی تھی ‘ پھر آج کہاں ہے اقبال کا بشر جس کی پیروی تقدیر کو بھی بُری نہیں لگتی‘ لیکن شاید ہم یہ بھول چکے ہیں کہ اوپر والے لفظ میں اقبال کے انسان ہونے کی بات ہو رہی ہے جس کو کبھی نہ دیکھا نا سمجھا اُسے تقدیر کے بندھن سے سونپ دیں۔۔؟؟؟ اور خودی ‘ وہ تو اس ندامت سے سر پٹختی رہتی ہے کہ میری میراث لکھا ہوا انسان آج ایسی بغاوت پر اُتر آیا ہے اور میرا سوداگر بنا مجھے بِیچ بازار میں نیلام کرنے پر تُلا ہوا ہے‘ یہ سب کیا ہے؟ کیا ہم نے اسی مختصر سی سانسوں کی روانی کا نام انسان رکھ دیا ہے؟اور پھر اس کو اتنا پابند کر رکھا ہے وہاں بھی لفظ زندگی ہی استعمال کیا جاتا ہے جہاں خوشیوں اور امنگوں کے دیپ لمحہ با لمحہ اپنی پوری آب و تاب سے روشن ہیں اور امیدوں میں کئی آزمائشوں کا سامان بھی موجود ہے‘ وہاں بھی جہاں زندگی صرف رسمی سوغات کی حد تک تصور کی جاتی ہے اور ہر لمحہ گن گن کر بسر کرنا معمول ہے وہاں بھی لفظ زندگی سے استفادہ حاصل کیا جاتا ہے‘ لیکن اپنی جگہ پر فرق زمین و آسماں کا ہے جس کوختم کرنے میں ایک لمحہ بھی بسر کرنا بھی ہم گوارا نہیں کرتے تو زندگی سے اتنے گلے شکوے کیوں؟ اگر یہی حقیقت ہے تو پھر لاکھوں گلے شکوے زندگی کو ہم پر بھی ہیں جو ابھی سماعت سے معذور ہیں‘ لیکن اس وقت کے انتظار میں خود کو اس سسکتی‘ بکھرتی زندگی تک لے آئے ہیں جو خود اپنے پائوں پر کھڑے ہونے سے قاصر ہے‘ اس کے آگے لاج اور مجبوریوں کے اتنے بندھن کس لئے؟ جو خود پسند ہے اس کو دوسروں کے لئے پسند کرنا اتنا محال کیوں؟ تاریخ کب تک داغدار کرتے رہیں گے‘ جو سوال کسی کے لئے تیار کر رکھا ہے وہ خود سے پوچھنے کی ہمت تک نہیں‘ وہ اس لئے کہ خود میں پناہ لئے انسان تک اپنی رسائی نہیں بس دوسروں کے قبلہ درست کرنے میں ہی اصلاح کی حقیقت باقی رہ گئی ہے‘ پر افسوس اس بات کا ہے کہ انسانی ساخت پر راج کرنے والے یہ کنگلے اصول آج بھی اپنی اصلیت کے ساتھ انسانی حیات میں کار فرما ہیں‘ زندگی کے دھانے پر کھڑی مظلومیت ہر روز بشر کی جھولی میں نیا دکھ ڈال دیتی ہے‘ اور اسی رسم و رواج کو نبھانے والے کئی زندگیوں کا سودا اک لمحے میں کر دیتے ہیں‘ کبھی بھی یہ احساس ان کے کانوں میں سرگوشی تک نہیں کرتا کہ میراچند منٹوں کا کھیل کسی کیلئے حیات کا روگ بھی بن سکتا ہے‘ نائبِ خدا‘ اولادِ آدم (ع)‘ آدم (ع) کے اوصاف کے ٹھیکیدار ہرگز نہیں زندگی کی شرمندگی ہمارے کندھوں پر ہے‘ ہم میں اور بھیڑ بکریوں میں رتی برابر بھی فرق نہیں‘ ہماری صف شر سے پاک نہیں‘ ہم آئینے کے سامنے بھی کھڑے اہل نظر نہیں‘ ہماری نظر کی وسعت وہاں تک کہاں جو لب و رخسار پر جمی فرعونیت کو عیاں کرے اور خود میں پناہ لئے برسوں کے انسان کا سایہ تک سامنے لائیں‘ ایسا ہو کیوں‘ چند لفظوں کی سازش عزت بھی دلا سکتی ہے اور قد بھی اونچا کر سکتی ہے‘ ہجوم میں کسی پر جملے کسنا آسان ہے لیکن حقیر ہو کر کسی کے لفظوں کو سہنا بہت مشکل ہے‘ جس کے پاس اپنی تعریف کے لئے اتنا بھی کہنے کو نہیں کہ مجھ میں رہتا ہے مظلوم اور ہم جس کے ہونٹوں پر خوشی مچل مچل کر دم توڑ رہی تھی اور یہ انا دوسروں کی تعریف کروا بادلوں کی اوٹ میں چھپ رہی تھی کیا یہ ہے مظلوم کی تعریف؟
شاید اسی وجہ سے آج تک ایک مظلوم کو سر اٹھا کر جینے کا طریقہ نہیں آیا‘ جو معاشرے کے لئے باعث امن کا پیغام تھا‘ جس کے پاس لفظوں کی وہ دوری تھی جس سے انسانی ساخت مجروح نہیں ہوتی‘ افزائش حیات کے پھول ہر عام و خاص میں ہوتے ہیں‘ اور وہ زندگی جہاں مشکلات زندگی کو کم سے کم کرنے میں ہر کام میں مصروف ہے جس میں سوائے جنگ کے اور کچھ نہیں‘ وہ بھی ایسی جو بندش سانس تک حاصل فتح نہیں‘ ہمیں یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہئے کہ زندگی کی بازی میں سہارا سانس کا ہے جو ایسی کشتی پر سوار جس کے الٹنے میں ایک لمحہ سے لیکر ایک صدی تک کی مہلت موجود ہے‘ پر یہ تک نہیں پتہ کہ پلک جھپکنے کے بعد پلک کے لوٹ آنے کا درست فیصلہ میری زندگی کا حصہ ہے‘ لیکن اک مظلوم کی سفید پوشی پر لاکھوں باتوں کا تجزیہ کر سکتے ہیںصرف اس لئے کہ چند اوصاف صرف جھاڑ پونچھ کر اختیار کر رکھے ہیں ہم کو کسی اور کے اوصاف کی بھی حفاظت کرنی ہے ‘ اک عہد جو ہر انسان خدا کو حاضر ناظر جان کر کرے گا وہی اک مظلوم کو اس کا حق دلائے گا‘ یہی عہد خود چل کر آپ کی دہلیز پر بھی آیا ہے‘ آئیں اسی عہد کے ساتھ اپنی نئی زندگی کا آغاز کریں اور مظلوم کو آزادی کی فضا سے لبریز کریں‘ یہ ہو سکتا ہے یہ عہد تقدیر بدلنے میں اک پروانہ ثابت ہواور اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے‘ کل مظلوم ہم میں سے بھی ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  وطن کے غداروں سے نبٹنے کا وقت آگیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker