تازہ ترینکالممحمد مظہر رشید

میڈیا اپنی ذمہ داری کا احساس کرے

میڈیا کسی ملک کی نظریاتی سرحدوں کا پاسبان ہوتا ہے آج کے سائنسی دور میں میڈیا کی اہمیت اوراس کے معاشرے پر مرتب ہونے والے اثرات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا،آج سے پندرہ سال پہلے الیکٹرانک میڈیا اتنا پاور فل نہیں تھا جتنا آج کل ہے۔ملک بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے جس کے الیکٹرانک میڈیا نے ہماری نوجوان نسل کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے بھارت نے اپنے الیکٹرانک میڈیا کے زریعے اپنی مذہبی اور ہندو روایات اور خاص طور پر ہندی زبان کوڈراموں،فلموں کے زریعے بہت فروغ دیا ہے بچے کی پیدائش سے لے کر موت تک ،زندگی کے تمام پہلوں کو اپنی ہندو روایات اور مذہبی رنگ کے ساتھ بھر پور انداز میں پیش کیا ہے جس کی وجہ سے وطن عزیز پاکستان اور ہمسایہ ممالک کی نوجوان نسل ہندی زبان کے الفاظ اپنی روز مرہ زندگی کے معمولات میں استعمال کرنے لگ گئی ہے۔یہاں تک کہ ہماری شادی بیاہ ،اوردیگر رسومات میں اب انڈین ڈراموں اور فلموں کا رنگ نظر آنے لگا ہے جوکہ انتہائی افسوس ناک پریکٹس ہے آج ساٹھ سے زائد چینل وطن عزیز میں اپنی نشریات جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن افسوس چند مفاد پرست /ہوس ذدہ افراد نے اپنی اعلی روایات کو چھوڑ کر گھٹیا لچر پن ڈراموں ،فلموں،کا بنانا شروع کر رکھا ہے ایسے افراد نے الیکٹرانک میڈیا سے پاکستانی معاشرے کا وہ عکس دکھایا ہے جسکو دیکھ کر محب وطن لوگوں کا سر شرم سے جھک جاتا ہے ڈراموں فلموں میں نوجوان طلبا وطالبات کوکالجوں یونیورسٹیوں میں مادر پدر آزاد اور بے سروپا باتیں اور محبت رومانس کرتے دکھایا جاتا ہے اکثر ڈراموں میں طالبات /لڑکیوں کو ایسا لباس زیب تن کیے دکھایا جاتا ہے جو وطن عزیز کے کسی کالج یا تعلیمی ادارے میں پہنا نہیں جاتااور نہ وطن عزیز کے کسی مخلوط تعلیمی ادارے میں ایسا ماحول ہوتا ہے جیسا کہ اکثردکھا دیا جاتا ہے یہ سب چیزیں زمینی حقائق سے دور اور اپنی زبان ثقافت،رسم ورواج سے نئی نسل کو دور رکھنے کی انتہائی گھناونی کوشش ہے ڈراموں میں جب سے کمرشلزم نے جگہ بنائی ہے اس وقت سے اچھے موضوعات پر ڈرامے بننے کی بجائے لچر و واہیات موضوعات کو فروغ ملا ہے عشق ومحبت کے پاکیزہ جذبے کو وقتی سرور اور لذت بنا کر نوجوان نسل کو گمراہ کیا جا رہا ہے خدارا الیکٹرانک میڈیا اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے معاشرے کا حقیقی عکس دکھائے تاکہ نوجوان نسل کو کرپشن،جھوٹ، غنڈہ گردی کے خلاف متحد کیا جاسکے۔خاندانی نظام کی مضبوطی کے لیے اعلی پائے خاص طور پر محب وطن لکھاریوں سے رابطہ کر کے پروگرام پیش کیے جائیں پروگراموں میں اسلام کے بلند پایہ فلسفہ حیات کو موضوع بنایا جائے تاکہ نئی نسل ایک باوقار قوم بن کر ابھرے اور دنیا میں اپنی ایک اعلی الگ شناخت بنائے نئی نسل اپنی زبان اسلامی رسم ورواج پر فخر کر سکے میڈیا اپنے پروگراموں کے زریعے زیادہ سے زیادہ کرپشن،جھوٹ وفریب،غنڈہ گردی ملاوٹ کے خلاف نوجوانوں کو متحد کرے تاکہ وطن عزیز پاکستان دنیا میں ایک باوقار ملک کے طور پر جانا پہچانا جائے۔***

یہ بھی پڑھیں  صحافت اور سیاست

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. سر جی بہت خوب لکھا ہے کاش ہمارا میڈیا ہمارے معاشرے کی عکاسی کرے نا کہ ہندی معاشرے کی

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker