بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

صحافت اور سیاست

معاشرے کو نئی سوچ و فکر دینے کے لئے ذرائع ابلا غ کا بنیادی کردار ہوتا ہے ۔معاشرت کے ہر پہلو کو کسی سمت استوار کرنے میں صحافی کی قلم امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔درحقیقت صحافت سماج کی حقیقی ترجمانی کرتی ہے۔اس شعبہ کے استحکام کے لئے صحافیوں نے جان اور مال سے بے شمار قربانیاں دیں ہیں۔قلم کی حرمت کے پاسبان آج بھی مشکل تر حالات میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قومی افق پرروشنی کی کرنیں بکھیر رہے ہیں۔آج کے سیاست دان ان ہی قلمکاروں کی بدولت پُر آسائش زندگی بسر کر رہے ہیں۔اقتدار ہو یا اپوزیشن صحافی ان اقتدار کے متوالوں کا خیر خواہ ہوتا ہے۔قلم کی طاقت سے کسی کو انکار نہیں بلکہ آج کا دور ’’میڈیا‘‘ کا دور کہا جائے تو اس شعبہ کی اہمیت آشکار ہو جاتی ہے۔اب جنگ بھی ’’میڈیا وار‘‘ سے لڑی جا رہی ہے ۔توپوں اور ٹینکوں کی لڑائی گذر گئی ہے۔
گذشتہ پیر کے دن آذادکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سینٹرل پریس کلب میں درجنوں ن لیگی کارکنوں نے محض اپنی شہرت اور خود نمائی کے لئے حملہ کر کے مسلم لیگ ن کو بدنام کرنے کی قابلِ مذمت حرکت کی جس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن سٹی مظفرآباد کے کارکنان مبارک اعوان،دلاور خان،راجہ شجاعت خان ،آصف مصطفائی،عدنان عباسی ،اعظم رسول،شفیق انقلابی سمیت درجنوں حامیوں نے یلغار کر کے پریس کلب میں داخل ہو کر غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا اور تین صحافیوں کو مار پیٹ کر زخمی کر دیا ۔حملہ آور وں نے یہ نہ سوچا کہ قلم کی حرمت کے داعی تاریخ رقم کرتے ہیں تاریخ دانوں سے ایسا سلوک کرنے والے کبھی بھی سر خرو نہیں ہوا کرتے ۔
اس قابل مذمت واقعہ کے بعد تاجر تنظیموں،وکلاء اور سول سوسائٹی نے شدید برہمی اور صحافت کا گلا گھوٹنے کے مترادف اقدام قرار دیا۔صدر پریس کلب افضل بٹ نے ملزمان کی گرفتاری کے لئے فوری کارروائی کرنے پر زور دیا،آصف رضا میر نے کہا کہ ن لیگ نے ریاست کے اہم ستون پر وار کیا ہے جس کا انہیں خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔پریس فاؤنڈیشن کے وائس چئرمین سردار ذولفقارنے اس حملہ کو ریاست پر حملہ قرار دیا جبکہ سینٹرل پریس کلب کے سینئر نائب صدر سردار دلپذیر عباسی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ مسلم لیگ ن کی کسی بھی سرگرمی کو زیبِ قلم نہیں کیا جائے گا۔
صحافت مقدس پیشہ اور صحافی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔جو لوگ ان قلم کاروں کو بزور طاقت کچلنا چاہتے ہیں ان کی سیاہ کاریاں ایک نہ ایک دن قرطاس و قلم کا حصہ بنیں گئیں ۔ہمارے معاشرے میں ایسے ناسوروں کی کمی نہیں جو حق و انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہیں مگر اہل قلم کی مشترکہ جد و جہد ان کے مذموم عزائم کبھی بھی پورے نہیں ہونے دے گی۔ایسے استعماریت پسند عناصر ذلیل و رسواء ہو تے ہیں جو قلم کی حرمت کا پاس نہیں رکھتے ۔
تاریخ گواہ ہے کہ قلم کاروں نے محلوں اور کوٹھیوں کے بجائے اپنی زندگیوں کو فقیرانہ انداز میں گزارنے پر ترجیج دی ہے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران درجنوں صحافیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ثابت کیا کہ وہ اعلیٰ مقاصد کے لئے ہر ممکن قربانیاں دینے سے گریزاں نہیں ہیں۔انتہائی مشکل حالات سے نبرد آزماء ہونے کا جذبہ صحافی برادری میں موجود ہے۔کسی کی دھمکیوں اور حملوں سے قلم کی حرکت نہیں روکی جا سکتی اور نہ ہی کوئی اپنے مذموم عزائم ایسے پورا کر سکتا ہے۔
میڈیا نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ اب اس سے ٹکر لینے والے خواب میں بھی نہ سوچئیں کہ ان کی کرپشن سے پردہ نہیں اٹھایا جائے گا ۔صحافیوں کی اس مقابلے کی دوڑ میں ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے اپنی صفوں میں زرد صحافت کے جراثیموں کو ختم کر کے اصول پرست اور بے باک کردار کے حامل قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ معاشرے کی حقیقی ترجمانی ممکن ہو سکے ۔بلاشبہ آذاد کشمیر کے صحافیوں کا ہر شعبہ زندگی میں اہم کردار ہے ۔ریاست کے اخبارات کی قدر و منزلت مثالی اور صحافتی خدمات قابلِ قدر ہیں ان تاریخی لمحات میں جب ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے صحافیوں پر قومی ذمہ داری بڑھ چکی ہے ۔
اگر چہ وزراء حکومت سید بازل نقوی،سردار جاوید ایوب،میاں وحید،چوہدری رشید ،رفاقت اعوان،چئرمین معائنہ کمیشن صاحبزادہ اشفاق ظفر ،شوکت جاوید میر،چوہدری اسحاق طاہر ایڈووکیٹ،ناصر چک سمیت بہت سے اکابرین نے اس واقعہ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈپٹی کمشنر مظفرآباد فوری طور پر ملوث ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائے تاکہ ایسی حرکت کرنے کی حوصلہ شکنی ہو سکے اگر اس معاملہ میں قانون کے مطابق کارروائی نہ کی گئی تو پھر سیاسی غنڈہ گردی کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔
اس نازک اور اہم معاملہ پر مسلم لیگ ن کے صدر راجہ فاروق حیدر خان کو بھی ایک فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ صحافیوں کے ساتھ ہیں یا غنڈہ گردی کرنے والوں کے پشت پناہ ہیں چونکہ یہ واقعہ مظفرآباد میں ہوا ہے جو براہ راست صدر مسلم لیگ ن کا آبائی ضلع ہے اس اعتبار سے انہیں فوری طور پر موثر اقدامات کرتے ہوئے ایسے کارکنوں کی رکنیت معطل کر دینی چاہئے جو اس حملہ میں شامل تھے ۔ممبر اسمبلی بیرسٹر افتخار گیلانی کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام تر مجبوریوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے جماعتی کارکنوں کو ان کے عہدوں سے معزول کرنے اور ا ن کی رکنیت معطل کرنے کی صدر جماعت کو سفارش کرنے میں تاخیر نہ کریں ۔مسلم لیگ ن کی قیادت کا مثالی فیصلہ ان کی جمہوری جد و جہد کو تابناک کر سکتا ہے اب یہ گول لیگی رہنماؤں کے کورٹ میں ہے کہ وہ عدل و انصاف کا بول بالا کریں گے یا پھر اپنی تاریخ مسخ کرنے کی بڑی غلطی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں  یوم پاکستان:ایوان صدرمیں سول وملٹری اعزازات کی تقسیم

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker