تازہ ترینکالممحمد عمران فاروق

میڈیا کا لڑکپن

imran farooqجوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اندرونی خلفشار کا شکار ہے اور اسکی مقبولیت کا گراف تنزلی کی طرف گامزن ہے ۔ ہمارا الیکٹرانک میڈیا لڑکپن کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔ کچھ دانشورایڑھی چوٹی کا زور لگا کر یہ ثابت کرنے کی جد و جہد میں مصروف ہیں کہ پی۔ٹی ۔آئی بھی دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح سرمایہ دارانہ اور جاگیر دارانہ طبقہ کے حصار میں آچکی ہے ۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگی عقاب (Hawks) عمران خان کو طفلِ مکتب قرار دیتے ہوئے سیاست کے داؤپیچ سکھانے کا عندیہ دے رہے ہیں ۔ مئی 2013 ؁ء کے انتخابات کے نتائج کی روشنی میں یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب اور وفاق کی علامت پی پی پی سندھ تک محدود ہو گئی ہے ۔ پی ۔ ٹی ۔آئی واحد جماعت ہے جو تمام صوبوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔ حکومتی حاشیہ بردار ٹی وی چینلز اور نام نہاد دانشور بے پر کی اڑا رہے ہیں ۔ زمینی حقائق یکسر مختلف ہیں ۔ اُنہیں یہ بات کیوں سمجھ نہیں آرہی ہے کہ اگر پی ٹی آئی تنزلی کا شکار ہے تو دوسری جماعتوں کے کارکنان اور سابقہ ارکان اسمبلی پی ٹی آئی میں کیوں شامل ہو رہے ہیں ؟ مسلم لیگ (ن ) کے مقابلہ میں پی ٹی آئی ہی واحد عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے ۔1970 ؁ء کے الیکشنز سے پہلے بھی سیاسی جمود طاری تھا او ر بھٹو صاحب کو اخبارات میں خوب رگیدا جاتا تھا ۔ یہ سب کچھ جنرل ایوب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے تھا ۔ لیکن الیکشن کے نتائج نے ایوبی آمریت کو گہری نیند سلا دیا ۔ اسی طرح میاں صاحبان کی حکومتی کارکردگی کا جادو بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ آنے والے الیکشنز کے نتائج سب کچھ واضح کر دینگے۔
آجکل میڈیا پر ہر طرف جسٹس وجیہہ الدین اور حامد خان کا خوب چرچا ہے ۔ دونوں کا تعلق وکالت کے پیشے سے ہے ۔ حامد خان وکلاء سیاست کا بڑا نام ہے ۔ حامد خان سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کیلئے چلائی جانے والی تحریک کے ہیرو تھے ۔ وہ دور گزر چکا – یہ لوگ پارٹی کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتے ہیں ۔ لیکن دوسری طرف عوامی سیاست کے لوگ جہانگیر ترین ، شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک ہیں ۔سیاست کے یہ شہسوار اگر پی ٹی آئی سے ہٹ کر بھی الیکشن لڑیں تو قابلِ لحاظ ووٹ حاصل کر لیں گے لیکن حامد خان پی ٹی آئی کے بغیر اپنی ضمانت بھی نہیں بچا سکتے ۔ تاہم قانونی معاملا ت میں حامد خان کی رائے صائب سمجھی جانی چاہیئے ۔ جہانگیر ترین پر یہ الزام ہے کہ وہ اپنی دولت کے بل بوتے پر پارٹی اور چیئر مین پر حاوی ہو چکے ہیں ۔ جو سراسر غلط مؤ قف ہے ۔ ترین صاحب یا شاہ محمود قریشی اگر چاہتے تو مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو کر وزیر مشیر بن سکتے تھے ۔ کپتان نے جسٹس وجیہہ کو میڈیا پر انٹرویو دینے سے منع کر کے بالکل راست قدم اٹھایا تھا ۔ اختلافات ہر پارٹی میں ہو تے ہیں میاں صاحب کی کابینہ میں کئی دھڑے ہیں ۔ اکثر وزراء کی آپس میں بول چال بند ہے ۔ لیکن یہ اختلافات کبھی بھی میڈیا کی زینت نہیں بنے ۔ شائد اِسکی وجہ اقتدار ہے ۔ اسی طرح پی پی پی بھی شدید دھڑے بندی کا شکار رہی ہے ۔ تحریک انصاف کو بھی اختلافات کے خاتمہ کیلئے اقتدار کی ضرورت ہے ۔
مشاہد اللہ اور سعد رفیق نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران عمرا ن خان کو ’’سیاسی کھلنڈرا ‘‘ اور’’رند‘‘کے خطاب سے نوازا ہے ۔ یہ لوگ اپنے گریبان میں کیوں نہیں جھانکتے ہیں ۔ اپنا ماضی کیوں بھول جاتے ہیں ۔ لوڈشیڈنگ کے خلاف مینارِ پاکستان پر طویل ترین کیمپ کس نے لگایا تھا ؟ آصف علی زرداری کا پیٹ پھاڑ کر دولت نکالنے اور اُسکی لاش کو سڑکوں پر گھسیٹنے کے اعلانات پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے نہیں کیئے تھے ۔ اس طرح کی لغو یات مسلم لیگ (ن) کی ایجاد ہیں ۔ دھرنہ کے دوران برا بھلا ضرور کہا گیا لیکن اس حد تک سخت زبان استعمال نہیں کی گئی ۔ اور نہ ہی دوسرے سیاسی زعماء کی لاشوں کو سڑکوں پر گھسیٹنے کے اعلانات کیئے گئے ۔ ہمارا میڈیا بچپن سے نکل کر لڑکپن میں داخل ہو چکا ہے ۔ نان ایشوز کو خواہ مخواہ ایشوز بنا کر پیش کر نااس کا وطیرہ ہے ۔ کیا ہمارے ملک میں دیگر مسائل کی کمی ہے ؟ میڈیا کو چاہیئے کہ سنجیدہ موضوعات پر توجہ دے تاکہ ملک میں انتشار کی بجائے سیاسی استحکام کی راہ ہموار ہو سکے ۔

یہ بھی پڑھیں  ایم کیو ایم طالبانائزیشن کے خلاف ہے: فاروق ستار

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker