تازہ ترینکالم

ْمیڈیا کی بے ضابطگی

ارئین۔ ہمارے ملک میں میں میڈیا چوتھے ستون کی حیثیت رکھتا ہے اس کی نگرانی کے لیے ادارہ قائم ہے جسے پیمرا کے نام سے گردانہ جاتا ہے مگر کیا کیجئے کہ اس ادارے کی اتنی ناقص نگرانی ہے کہ میڈیا پر چاہے جو کچھ مرضی نشرکردیا جائے مجال ہے کہ کبھی پیمرا نے اس کا کوئی زرا برابر بھی نوٹس لیا ہو ہمارا معتبر میڈیا عریانی و فحاشی دکھانے میں تمام تر حدیں پار کئے ہوئے ہے یہاں غیر ملکی مواد تو دکھایا ہی جاتا ہے مگر پاکستان کی ہونہار حسینائیں کیوں کر کسی سے پیچھے دکھائی دیں اور ریٹنگ کی دوڑ میں پروڈیوسرز اتنے آگے جاچکے ہیں کہ وہ بے ڈھنگے کپڑے پہنوا کر انہیں کیمرے کے آگے بٹھا دیتے ہیں یہ ہی لوگ ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے باشعور لوگوں کو اخلاقی اقدار سکھاتے دکھائی دیتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کا اپنا کردار بے حد خراب ہے مشرف دور میں جہاں میڈیا کی آزادی پر شبِ خون مارا گیا اس کے بعد جنرل مشرف ہی نے میڈیا کی آزادی و بالادستی کا سحرا اپنے سر لیا اور پھر کیا تھا الیکڑانک میڈیا نے غیر ذمہ دارانہ صحافت کوفروغ دیا اور عوام کو پریشان کن ماحول عنایت کیا عوام میں نا امیدی کی لہر دوڑانے کی سر چڑھ کے کوشش کی ۔پی ٹی وی ماضی میں بھی اپنی اچھی پیشکش سے عوام کو محضوظ کرتا رہا ہے اور اب بھی کر رہا ہے مگر فرق یہ ہے کہ اس ماضی میں اذان اور قرآن کی تلاوت سے نشریات کا آغاز ہوتا تھا اور اب نہیں ہوتا جیو بھی عوام کو پُر لطف پروگرام دکھا رہا ہے دکھاتا رہا ہے ؂شائستہ لودھی کے پروگرام میں اہلِ بیت کی توہین کا معاملہ اٹھا اور یہ بات جنگل میں لگی آگ کی طرح پھیل گئی مگر ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا کے جیو کو بند کردیا جائے کیبل اپریٹرز نے متعدد شہروں میں جیو کی نشریات یا تو بند کردی یا پھر جیوکو آخری نمبروں پر دھکیل دیا جیو کے نائب سربراہ عامر لیاقت نے اس غیر دانستہ غلطی پر مکہ مکرمہ سے اپنے رب کی بارگاہ میں سرخرو ہوئے اور معافی مانگی مگر مجھے یہ دیکھ کر شدید افسوس ہوا کہ نام نہاد علماء یہ کہتے دکھائی دئیے کہ معافی نہیں ملے گی جبکہ معافی والا معاملہ اﷲ اور اس کے بندے کا معاملہ ہے خدا کی ذات معاف کرنے والی ہے اور توبہ کو پسندفرماتی ہے۔19 اپریل 2014 ْ کو جب جیو کے اینکر حامد میر کے اوپر حملہ ہوا تو انہوں نے ایک بڑی غلطی سرزد کرتے ہوئے ڈجی ائی ایس آئی پر الزام لگایا اور اس غلطی پرشرمندگی کا اظہار کیا اور معافی مانگی مگر دیگر میڈیا چینلز اس پر وپگنڈا کرتے دکھائی دئیے اور مٹھی بھر لوگوں نے فوج سے یکجہتی کے لئے ریلیاں نکالیں یہ لوگ یہ بھول گئے تھے کہ پوری قوم فوج سے دلی محبت اور قرب کا جذبہ رکھتی ہے فوج کو ان کے اِکا دُکا ریلیوں کی کوئی ضرورت نہیں۔مشرف دور میں کوڑی کے بھاوُٹی وی لائسنس دیئے گئے اور اپنا کاروبار چمکانے کی لالچ میں چینل مالکان اتنے اندھے ہوگئے کہ وہ تمام تر اسلامی اقدار کو بھول گئے مارننگ شوز شادی بیاہ کی سیج بن گئے یہاں فیملیز کو فحش رقص دکھایا جانے لگا اور دکھایا جا رہا ہے یہاں اداکاروں کو بلایا جاتا رہا اور عوام کے سامنے انہیں گھریلو مسئلہ ٹی وی پر بیان کرتے دکھایا گیا اور عوام کو غلط تاثر دیا جاتا رہا۔جو توہین جیو سے ہوئی دیگر چینلز اس سے بڑھ چڑھ کر وہ غلطی کرتے رہے اس قوالی کی ورڈنگ وینا ملک کی تصویر کے نیچے نیوز چینلز اپنی ہیڈ لائنز میں چلاتے رہے جو کہ جیو کی غلطی سے بھی بڑی غلطی ہے۔میڈیا میں شاید کوئی ہی ایسا فرد ہو جو کسی اسکینڈل سے بری الذمہ ہومگر ہمارا میڈیا بے غیرتی اور بے حسی میں اس قدر آگے جا چکا ہے کے انہیں لوگوں کو عام عوام کا معلم بنا کر پیش کیا جارہا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی بنیادی اصولوں پر کاربند رہ کر نہیں گزارپاتے ان کی اپنی زندگی اضطراب اور بے چینی کی نذر رہتی ہے۔پیمرا کو اب خود مختار اورغیر متنازعہ بنانا ہوگا اور اس کے آرڈیننس 2002 ء پرمکمل عملدرآمد کرنا ہوگا یہ معذول پیمراہرگز اس اہل نہیں کہ یہ کسی چینل پر بھی ایکشن لے سکے غیر ملکی مواد اپنی حدوں کو چھو رہا ہے ٹرکش ڈرامے خرید کر ہمارے انٹرٹینمنٹ چینلیز ٹی وی ون ،ہم ٹی وی ،اپنا چینل اور دیگر گھٹیا چینل ہمارے خاندانوں کو بے بہا غلط مناظر دکھا رہے ہیں اورر ہماری نئی نسلیں بے راہروی کا شکار ہوتی جا رہی ہیں نیوز چینلز پر نشرشدہ Re-enacment میں اخلاقیات سے گرے ہوئے مناظر دکھائے جاتے ہیں حتیٰ کے انہیں بلر یا سینسر تک نہیں کیا جاتا۔پروگرام ہوسٹنگ میں متیرا،کندیل بلوچ اور ان جیسے Demoralized لوگوں کو نہ صرف بین کرنا چاہیئے بلکہ انہیں ملک سے ہی جلاوطن کردیا جانا چاہیے۔ نہایت رنج کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ چھوٹے چینلز بھارتی ڈراموں سے بھی زیادہ فحاشی دکھا رہے ہیں ان چینلز کا یہ نظریہ بلکل غلط ہے کہ ایسا کرنے سے ان کی گڈی چڑھ جائے گی اور وقت پڑنے پر یہ مہذب بن کر بیٹھ جائیں گے قوم چاہے آواز بلند نہیں کرتی مگر اس کا یہ مطلب کسی صورت اخذ نہیں کرنا چاہیے کہ قوم سب کچھ بھول گئی ہے۔اب ہمیں احتساب چاہیئے پورے میڈیا کا کسی ایک میڈیا ہاوُس کو ٹارگٹ کرنے سے کچھ حاصل حصول نہیں ہوگا ہمیں اسلامی قوانین کے تحت اس سب کا سیٹل کرنا ہین کیونکہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باشندے ہیں ہم اپنی عزتِ نفس آدھی سے زیادہ کھو چکے ہیں اور اسلام پر قائم اس ملک میں ہم اپنے اصل مقاصد کھو بیٹھے ہیں۔ حکومت کااسٹانس اس ایشو پر بلکل بجا ہے کہ کسی ایک گروپ کو ٹارگٹ کرنے سے کوئی مثبت تبدیلی رو نما نہیں ہونے والی یہ کیس اس وقت سپریم کورٹ میں زیرِسماعت ہے اب اس کا انحصار سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر ہے اور امید ہے ک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker