تازہ ترینعلاقائی

اوکاڑہ:سینکڑوں غیررجسٹرڈ میڈیکل سٹوروں پر ممنوعہ نشہ آورادویات کی فروخت

اوکاڑہ (نمائندہ خصوصی)محکمہ ہیلتھ کے ضلعی افسران اور ڈرگ انسپکٹرز کی مبینہ ملی بھگت کے باعث سٹی ایریا میں سینکڑوں غیر رجسٹرڈ میڈیکل سٹوروں پر ممنوعہ نشہ آور ادویات کی فروخت دھڑلے سے جاری سینکڑوں غیر قانونی طور پر ڈرگ انسپکٹرز کی آشیر باد میں چلنے والے میڈیکل سٹوروں پر نشہ آور گولیاں ،انجکشن ، غیر ملکی جنسی ادویات اور حمل گرانے جیسی ادویات کی فروخت کا کام عروج پر ہے ۔یہ میڈیکل سٹور سٹی ایریا کے اندرون بازروں میں غیر قانونی طور پر اپنے کام کو کر رہے ہیں جبکہ ڈرگ انسپکٹر اور ان کا ماتحت ان غیر قانونی میڈیکل سٹوروں کے خلاف کاروائی کے بجائے ان کو مکمل شیلٹر فراہم کر رہا ہے ۔جس کے باعث نوجوان نسل نشہ کی لت میں مبتلاء ہو کر اپنے مستقبل کو تباہ کر رہی ہے لیکن محکمہ ہیلتھ کی کسی بھی جگہ کوئی رٹ ہی دکھائی نہیں دے رہی غیر قانونی طور پر چلنے والے ان میڈیکل سٹوروں پر سرکاری ہسپتالوں سے چوری ہونے والی ادویات کو بھی فروخت کیا جاتا ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ محکمہ ہیلتھ کے کسی ذمہ دار یا ڈرگ انسپکٹر نے ان غیر قانونی چلائے جانے والے میڈیکل سٹور مالکان کے خلاف کبھی بھی کوئی کاروائی ہی نہیں کی بلکہ ذرائع کے مطابق سینکڑوں میڈیکل سٹور مالکان چار سو روپے ماہانہ اکٹھا کر کے ڈرگ انسپکٹرز کو دیتے ہیں جس کے عوض ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی کاروائی ہی نہیں ہوتی معززین شہر طارق لغاری ،منیر رازی،اسلم طاہر،سجاد حیدر،ضیغم آفریدی،ملک مبشر اعوان اور دیگر نے چیف سیکرٹری پنجاب نوید اکرم،سیکرٹری ہیلتھ پنجاب ،کمشنر ساہیوال شیر عالم محسود،اور ڈی سی او اوکاڑہ سیف اللہ ڈوگر سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر سے عطائیت اور غیر قانونی میڈیکل سٹور کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروائی کے احکامات صادر کر دئیے گئے ہیں اگر ڈرگ انسپکٹر یا محکمہ ہیلتھ کا کوئی بھی اہلکار یا آفیسر ملوث ہوا تو اس کے خلاف بھی سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی

یہ بھی پڑھیں  نیویارک ملین مارچ جیسے سنجیدہ اقدامات وقت کا تقاضہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker