اعجاز راناتازہ ترینکالم

میڈیکل میرج کے لیے سرکاری جہیز

RANA AJAZمیڈیکل میرج ہمارئے معاشرئے میں جنم لینے والانیا سماجی عمل ہے یہ وہ شادی کے عمل کی اختراخ ہے جس میں دلہن کا بنیا دی وصف اُس کی MBBSکی ڈگری ہوتی ہے اِس اعلی تعلیمی ڈگری کے بل بوتے پروالدین کو اَپنی دختر نیک اخترکے لیے ایک اچھا سسرال کے حصو ل میں سہولت حاصل ہوتی ہے۔اس نئے سماجی عمل کو ہماری دولت اور طاقت کی بنیادوں پر استوار معاشرے میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے کہ اب دلہن کی بظاہر سماجی cvمیں ایک اعلی تعلیمی ڈگری اس کے ازواجی بندھن کے لیے فیصلہ کن محر ک ہے کی حیثیت اختیا ر کر گئی ہے مگر اس نئے سماجی عمل کی ہمارئے غریب بے وسیلہ کروڑوں شہریوں کو جو بھاری اذیت ناک قیمت ادا کرنی پڑے گی اس کا تصورہی رونگٹھے کھڑے کر دیتا ہے ۔یہ میڈیکل میرج کا عمل ہمارئے معاشرے کے اجتماعی روحانی تنزل ،فکری پراگندگی انفرادی وسماجی سطح پرمجرمانہ غفلت کا ایک ایسا شرمناک مظہر ہے جس کا فوری تدراک کیا جانا چاہیے بصورت دیگر پبلک ہیلتھ سیکٹر بے پناہ مشکلات کا شکار ہوسکتا ہے۔
پاکستان کے ایک موقر معاصر کی ماہ دسمبر کی شائع شدہ رپورٹ کے مندرجات قارئین کے ساتھ شیئر کررہا ہوں ۔جس کے مطابق’’ سا ل 2012-13 کے پبلک ہیلتھ سیکٹر کے میڈیکل کالجز میں کل 2942 طالب علموں کوداخلہ دیا گیا ان نئے طالب علموں میں میرٹ کی بنیاد پرداخلہ لینے والوں میں لڑکیوں کا تناسب 63.7%ہے جبکہ لڑکوں کی شرح داخلہ 36.3% ‘‘ہے ۔’’یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے مرتب کردہ ڈیٹا کے مطابق لڑکیوں کی میڈیکل کے شعبے میں لڑکوں کے مقابلے میں بڑھتی ہوئی شرح داخلہ خواتین کی میڈیکل کے شعبہ میں بڑھتی ہوئی دل چسپی کا غماز ہے ۔
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی سالوں سے سرکاری میڈیکل کالجوں سے MBBSکرنے کے بعد صر ف 10% لیڈی ڈاکٹرزنے میڈیکل کے پروفیشن کو جوائن کیا ہے90% نے ہاؤ س جاب یا اس سے پہلے ہی اس پروفیشن پرلات مار دی،مگر کیوں ؟؟؟
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے ذمہ دارذرائع کے مطابق ’’میڈیکل کی ڈگری صرف اچھے دلہے کے حصول کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہے اوراِسے میڈیکل میرج کا نام دیا جاتا ہے۔
میڈیکل میرج کا سماجی عمل گزشتہ کئی سالوں سے میر ج مارکیٹ میں ایک نئے رحجان کی غمازی کرتا ہے ماہرین کے مطابق والدین سرکاری تعلیمی اداروں میں اپنی بچیوں کے لیے میڈیکل کی تعلیم کو اس لیے ترجیع دیتے ہیں کہ اس شعبے کی تعلیم کے لیے حکومت بھاری سبسڈی برداشت کرتی ہے،MBBSکے پانچ سالہ کورس پر حکومت پنجاب فی طالب علم تیس لاکھ روپے کا مالی بوجھ اُٹھاتی ہے جبکہ پرائیوٹ میڈیکل کالجزہر طالب علم سے صرف ٹیوشن کی مد میں چھ لاکھ روپے سالانہ وصول کرتے ہیں،اِسی معاصر کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کو اگر جغرافیائی طو ر پر دیکھاجائے تو سنٹرل پنجاب میں کل داخلے1839ہیں جن میں لڑکیا ں 1215اور لڑکے 626ہیں ،جنوبی پنجاب میں کل داخلے 936جن میں لڑکیاں 506جبکہ لڑکے 430ہیں،شمالی پنجاب میں کل داخلے 167جن میں لڑکے27اور 140 لڑکیا ں شامل ہیں۔
ایک نظر پنجاب کے چار بڑے اضلاع سے MBBSمیں داخلہ لینے والے لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان داخلے کی شرح تناسب پر بھی ڈالتے جاتے ہیں ضلع لاہور سے داخلہ حاصل کرنے والے طالب علمو ں کی تعداد627جن میں لڑکیا ں 425 ،لڑکے125، ضلع فیصل آباد میں کل طالب علم 250 جن میں 158لڑکیا ں 92 لڑکے،ضلع ملتان میں کل طالب علم 230جن میں 139لڑکیا ں 91لڑکے، ضلع گوجرانوالہ میں کل 146طالب علموں نے داخلہ لیا جن میں 102لڑکیا ں اور 44لڑکے شامل ہیں۔
اگر میڈیکل میرج کاموجودہ ٹرینڈ اس ڈگر پر جاری رہتا ہے تو رواں سال داخلہ حاصل کرنے والے کل2942طالب علموں میں سے پانچ سال بعد 189لیڈی ڈاکٹر صاحبان اس میڈیکل پروفیشن کو اپنانے کی زحمت گوارہ فرمائیں گی ۔
موجودہ صورت احوال سے جنم لینے والے پریشان کن سماجی منظر نامے کو سمجھنے کے لیے اکنامکس سروئے آف پاکستان کے مطابق شعبہ طب پر نظر ڈالتے ہیں جس کے مطابق 2011-12میں پاکستان میں کل رجسٹرڈ ڈاکٹر کی تعداد 14لاکھ92ہزار12ہیں جبکہ رجسٹرڈ ڈینٹسٹ کی تعد اد 10958 ہے وطن عزیز میں 1206افراد کے لیے ایک ڈاکٹر جبکہ16426 افرادکے لیے ایک ڈینٹسٹ دستیاب ہے۔اس طرح سرکاری ہسپتالوں میں1665افراد کے لیے صرف ایک بیڈ بمشکل دستیا ب ہوسکتا ہے اور وطن عزیزمیں دوران زچگی1000 میں سے 63 نوزائیدہ بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ حکومت پاکستان نے2011-12میں طب کے شعبے میں55 ارب روپے مختص کیے جو کہ جی ڈی پی کاصرف 0.27%ہے جبکہ ایک میڈیکل میرج قومی خزانے کو 30لاکھ روپے میں پڑتی ہے۔
2012-13 میں 1874 طالبات سالانہ سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ لیں گی تو اگلے دس سالوں میں ان کے داخلے کی مجموعی تعداد 18740 ہو گی اگر ہر طالبہ پر سالانہ چھ لاکھ روپے خرچ ہو گاتو قومی خزانے پر گیارہ ارب چوبیس کروڑچالیس لاکھ روپے کی خطیررقم خرچ ہو گی اب ان میں سے 90% طالبات اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک دن کے لیے بھی میڈیکل پروفیشن جائن نہیں کریں گی تو اس غریب قوم کے دس ارب گیارہ کروڑ چھیانوے لاکھ روپے کے ہوشربا فنڈز اس میڈیکل میرج کی بھینٹ چڑھ جائیں گے یہ خطر ناک منظر نامہ اجتماعی قومی ضمیر سے چند سوالات کاطالب ہے کہ ؟؟؟
1۔پاکستان ایسے غریب ملک میں جہاں ڈاکٹر کی قلت موثر طبی خدمت کے عمل میں بڑی رکاوٹ ہے جہاں 2187 افراد کے لیے ایک ڈاکٹر کی خدمات دستیاب ہے جبکہ WHO کے مطابق ایک ہزار افراد کے لیے کم سے کم ایک ڈاکٹر کی خدمات میسر ہونی چاہیے،جہاں پہلے ہی 1187 افراد کے علاج معالجے کا بوجھ ایک اکیلے ڈاکٹر کو اُٹھانا پڑتا ہے وہاں فارغ التحصیل ہونے و الے ڈاکٹروں میں سے 54% لیڈی ڈاکٹرز اگر طب کے شعبے سے منسلک ہی نہیں ہوں گے تو مریضوں کا علاج کون کریں گا۔
2۔ حکومت پنجاب 3 ارب 87 کروڑ روپے کی لاگت سے پنجاب کے چار شہروں ساہیوال ،سیالکوٹ،گوجرانوالہ ،ڈی جی خان میں چار نئے کالجوں کااجراعمل میں لا چکی ہے جبکہ دو ارب روپے ان چاروں شہروں کے ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرہسپتالوں کو اپ گریڈ کر کے ٹیچنگ ہسپتالوں کے ہم پلہ بنانے کے لئے خرچ کیے جار ہے ہیں ان تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والی لیڈی ڈاکٹر صاحبان اگر میڈیکل پروفیشن سے منسلک ہی نہیں ہوں گی تو اس ملک کے غر یب مریضوں کو سوال کرنے کا حق ہے کہ کیا ایسی طالبات قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہیں ؟؟؟؟
3۔میڈیکل کالج میں عمومی طور پر معاشرے کی اپرکلاس اورمڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے گھرانوں کے چشم و چراغ داخلہ حاصل کرتے ہیں جبکہ اس کے مدمقابل نرسنگ
کے شعبہ میں عموماًکم وسائل رکھنے والی طالبات داخلہ لیتی ہیں ماہرین کے مطابق چارسالہ کورس مکمل کرنے والی فارغ التحصیل نرسزمیں سے 95% طب کے شعبہ سے منسلک ہوتی ہیں گویا میڈیکل میرج کا رحجان ہمارے معاشرے کے ظالمانہ بے رحم اور سنگ دل طبقاتی تضاد کا منہ ثبوت ہے یہ صورت احوال اِس امر کا تقاضاکرتی ہے کہ معاشرئے کے عظیم تر مفاد اور طبی شعبے کو مکمل بربادی سے بچانے کے لیے فوری طور پر ٹھوس اور موثر حکمت عملی مرتب کی جائے جو کہ درج ذیل خطوط پر مشتمل ہونی چاہیے۔
1۔حکومتی سطح پرمیڈیکل تعلیم مکمل کرنے والے میڈیکل گرایجویٹس صاحبان کو دس سال طبی خدمات سر انجام دینے کا قانوناً پابند بنایا جائے اور اس ضمن میں مناسب قانون سازی عمل میں لائی جائے۔
2۔دس سالہ لازمی خدمات سر انجام نہ دینے والے میڈیکل گرایجویٹس سے تمام تعلیمی اخراجات واپس وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کروائے جائیں۔
لیکن قار ئین محترم یہ ساری صورت احوال ہم سب سے سوال کرتی ہے کہ اِس ملک کے غریب کے ٹیکسوں سے اعلی تعلیم حاصل کرنے والے مراعات یافتہ طبقے کے غیرانسانی رویے میں کوئی تبدیلی آئے گی یا موجودہ روش جاری وساری رہے گی اور کیا یہ قوم تیس لاکھ روپے صرف اِس لیے خرچ کرتی رہے کہ امیر گھرانو ں کی صاحبزادیوں کے لیے میڈیکل میرج کے لیے قومی خزانے سے تیس لاکھ روپے کا جہیز لینے کا عمل جاری و ساری رہے ۔
راقم فکر ی اور نظریاتی طورپر صنفی امتیاز کو انسانی ترقی کے لیے زہر قاتل تصور کرتا ہے جینڈر ریفارمز کا حامی ہے ۔اور ویمن ایمپاورمنٹ کو اس عہد کی سب سے بڑی سماجی تبدیلی سے تعبیر کرتا ہے اور عصر حاضر کی اعلی تعلیم یافتہ خواتین کو سروسزسیکٹر شعبہ طب،انجیئرنگ،اور بیکنگ و دیگر شعبوں میں ان کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو بہتر انسانی سماجی تشکیل کی جانب خوش کن بشارت تعبیر کرتا ہے،میڈیکل میرج ایسے بے رحم انسانی رویے کربناک اخلاقی بحران کے غماز ہیں جس پر خاموش تماشائی نہیں رہاجا سکتا۔
یاد رکھیے معروف اطالوی شاعر ’’دانتے‘‘ نے کہا تھا کہ خدا نے ایسے تمام افراد کے لیے جہنم میں خصوصی جگہ مخصوص کی ہوئی ہے جو اخلاقی بحران کے موقع پر خاموش تماشائی رہتے ہیں

یہ بھی پڑھیں  دو سور روپے پرائزبونڈ کی قرعہ اندازی

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. It’s really thought provoking column and needs immediate attention by our politicians and quicekst possible legislation to address this "Government sponsored Medical Marriage scheme”.
    It’s really one of the major dilema of our soceity which is demoralizing majority of our future mothers and shatteing their constructive role towards up bringing of youth and help building healthy society.

  2. It’s really thought provoking column and needs immediate attention by our politicians and quicekst possible legislation to address this "Government sponsored Medical Marriage scheme”.
    It’s really one of the major dilema of our soceity which is demoralizing majority of our future mothers and shatteing their constructive role towards up bringing of youth and help building healthy society.

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker