تازہ ترینکالممیرافسر امان

عدلیہ پر نیا وار

کچھ دنوں سے ڈاکٹرارسلان چوہدر ی فرزند چیف جسٹس پاکستان جناب افتخارچوہدری صاحب اسکینڈل اخبارات کی زینت بن رہاتھا میڈیا کے مطابق کہ کچھ لوگوں نے ان پر چالیس کروڑ روپے انویسٹ کئے ہیں اور اس اسکینڈل سے ملک کے نام ور ٹی وی اینکر معلومات رکھتے ہیں ہمیں بھی ایک دوست نے جناب شاہین صبائی کی ایک ٹی وی اینکر کے ساتھ پروگرام کی وڈیو بھیجی تھی جو ہم نے دیکھی اس انٹرویو میں شاہیں صبائی صاحب نے ٹی وی اینکر کے نام تو نہیں لیے تھے مگر کھل کر اس اسکینڈل پر تبصرہ بھی کیا اور اس میں ملوث حضرات کے عزائم سے بھی عوام کو مطلع کرنے کی کوشش کی بعد میں پتہ چل گیا کہ وہ اینکر صاحبان کون کون ہیں جنکوایک صاحب نے کچھ ثبوت بھی دکھائے تھے اور ثبوت مانگنے پر ان ٹی وی اینکر صاحب کو نہیںدیے دوسرے دن ان ٹی وی اینکر صاحبان نے اپنے اپنے بیان بینچ کے سامنے بھی ریکارڈ کروائے اور عوام کو سب کچھ معلوم ہو گیا ۔اس کے پیچھے کون سی اسکیم کام کر رہی ہے کہ اس سے کس کو فائدہ پہچنا ہے؟ کس کو بدنام کرنا ہے؟ ہمارے ملک میں آئے دن کوئی نہ کوئی اسکینڈل بنتا رہتا ہے۔پچھلے دنوں میمو اسکیڈل زوروں پر تھا اس کی کاروائی چل تو رہی ہے مگر عوام اب کم ہی اس طرف دھیان دیتے ہے عوام نے اپنا ذہن بنا لیا ہے کہ اس کے پیھچے کون تھا؟ اس کا فائدہ کس کو حاصل ہونا تھا ؟اور کس کو بدنا م کرنا مقصد تھا؟ کون امریکہ کی حمایت سے باہر چلا گیا سیکورٹی کابہانہ بنا کر اور عدلیہ سے وعدے کے باوجود پاکستان واپس نہیں آ رہا۔ اس نئے اسکینڈل کو بھی عوام چند دنوں میں سمجھ جائیں گی ۔ویسے توفوراً چیف جسٹس پاکستان نے از خود نوٹس لیکر اپنے سمیت تین معزز ججوں کا بینچ قائم کر دیا ہے اور اپنے بیٹے کو الزام لگنے پر گھر سے نکال دیا اور آرٹارنی جرنل پاکستان کے کہنے پر اپنے آپ کو اس بینچ سے بھی علیحدہ بھی کر دیا دو ججوں پر مشتمل اس بینچ نے اپنا ابتدائی کام بھی شروع کر دیا ہے انشا اللہ جلد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی عوام کے سامنے آجائے گا۔
اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ الزام لگانے والوں کی طرف سے بینچ کو بڑا کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی جس سے پتہ چلتا ہے کہ جج حضرات ان قانونی باتوں سے خوب واقف ہیں کہ کسطرح وکیل حضرات معاملے کوطول دینے اور اثرانداز ہونے کے راستے نکالتے ہیں جس کے لیے وکلا تحریک کے روحِ رواں اور سینیٹر محترم جناب اعتزاز احسن خوب ماہر ہیں شنید ہے کہ جب ان کو اس اسکینڈل کا پتہ لگا تو وہ زاروں قطار رونے لگے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے انہیں صدمہ ہوا کہ جس چیف جسٹس کی گاڑی کے وہ ڈرائیور بنے تھے ان کے بیٹے کے خلاف اسکینڈل بن گیا ہے مگر واقفان حال سوچ رہے ہیں اپنے وزیر اعظم کے بیٹے کے اسکینڈل پر آنسو کیوں نہیں بہائے اور اب آنسو بہانے سے کیا مقصد ہے خیر ہم تو اتنی باریکیوںسے واقف نہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ محترم صدر مملکت جناب آصف علی زرداری صاحب نے حکومت کو حکم دیا ہے اس اسکینڈل پرغیر جانبدار رہیںاور اس پر تبصرہ بھی ہر گز نہ کریں مگر کیا کہا جائے کہ دوسری طرف ان کے گورنر پنجاب کھوسہ نے بیان داغ دیا ہے کہ چیف جسٹس صاحب کو اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے اس سے اندر کا حال کچھ کچھ معلوم ہوتا ہے ان صاحب سے کوئی پوچھے کہ صاحب آپ کی پارٹی کے وزیر اعظم صاحب سزا یافتہ ہو کر اور اپنے ایک نہیں دو بیٹوں کے خلاف اسکینڈل پر مستفیٰ نہیں ہوئے نہ آپ نے انہیں مشورہ دیا تو آپ چیف جسٹس صاحب کو مستفیٰ ہونے کا مشورہ کیوں دے رہے ہیں ذرائع کے مطابق یہی توسازش کرنے والے حضرات کے لیے عوام میں یہ بات عام ہو رہی ہیں کہ چیف جسٹس صاحب ۲۱ تاریخ کو ان کے کرپشن کے کیسز سن رہے ہیںاس سے پہلے ہی چیف جسٹس کے ساتھ کچھ ہو جائے اور وہ ان کی گرفت سے بچ جائیں
وغیرہ۔ اُدھر مشاہداللہ صاحب فر ما رہے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری صاحب ملک ریاض کو نگران وزیر اعظم بنانا چاہتے تھے۔پارلرلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف جناب چوہدری نثار خان صاحب فرما رہے ہیں کہ چیف جسٹس کے بیٹے کو پھنسانے میں زرداری صاحب کا ہاتھ ہے ۔عاصمہ جانگیر صاحبہ سابقہ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھاری فیس کے باوجود ملک ریاض کا وکیل بننے سے انکار کر دیا جس سے عدلیہ میں ان کی نیک نامی ہو گی۔ ڈاکٹر ارسلان نے میڈیا میں لگائے گئے الزامات کے خلاف اپنا بیان بینچ کے سامنے داخل کروایا ہے ملک ریاض صاحب کے میڈیا کے ذریعے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیںان سے اور ان کے داماد سے کسی بھی کاروباری سلسلے میں کبھی نہیں ملا متضاد بیانات پران کے خلاف کاروائی کی جائے ۔ لندن کے فلیٹ کا کرایہ انہوں نے خود ادا کیا ہے اس کی تفصیلات میرے پاس ہیں دورے پر ۹۰۰۲ئ میں فیملی کے ساتھ اپنے خرچ پر گیا تھا اس

یہ بھی پڑھیں  ڈی سی او بہاولنگرکا روجھاں والی موڑ پل فورڈواہ پرایک افتتاحی تقریب سے خطاب

۲
طرح۰۱۰۲ئ اور ۱۱۰۲ئ میں لندن گیا تھا بیرونی دورے پر۵۴ لاکھ روپے کی رقم چیک نمبر ۳۵۳۷۸۲۱ سے ادا کی یہ چیک ۵۱ اگست ۱۱۰۲ئ کو اپنے کزن حامد رانا کے ذریعے زید رحمٰن کو ادا کیا جس کا اکائونٹ نمبر۴۴۲۳۰۰۰۰۰۲۰۵۰۲۰ میزان بینک گلبرگ لاہور ہے میں نہیں جانتا کس کے کریڈٹ کارڈ سے لندن کے فلیٹ کا کرایہ ادا ہوا تاہم ادائیگی میں نے کی تھی ادھر ابھی ملک ریاض نے اپنا بیان داخل کرانا ہے ابھی تک تو میڈیا میں ان کی چلائی گئی مہم کے تحت عدلیہ نے از خود نوٹس بھی لیا گیا اور کاروائی کے لیے بینچ بھی تشکیل دے دیا گیا عدالت نے انٹرپول کے ذریعے ان کو ملک میں لانے کی درخواست دائر کر دی ہے تاکہ مقدمے کی کاروائی چل سکے۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے اور ذرائع سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں جس باپ کے رہنے کا اپنا گھر نہیں اپنی گاڑی نہیں اس نیک نام اور ملک کے چیف جسٹس کے بیٹے کے پاس اتنی رقم کہاں سے آئی جو ایک دفعہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ لندن ۹۰۰۲ میں گیا پھر دوسری دفعہ۰۱۰۲ ۔۱۱۰۲ میں ۵۴ لاکھ بیرونی دورے پر خرچ کئے !اور چیف جسٹس اور ان کی اہلیہ نے اپنے بیٹے ڈاکٹر ارسلان سے کیوں نہ معلوم کیا کہ اتنے پیسے کہاں سے آئے ہیں اس جواب کے عوام منتظر رہیںگے۔
قارئین! دوسری طرف جس چیف جسٹس نے ۲۱ تاریخ سے ملک ریاض کے خلاف مقدمے سننے ہیں اور فیصلے کرنے ہیں،جو لاپتہ افراد کے بارے میں فوج اور ایف سی سے بھی جواب طلب کر رہا ہے،جس نے ملک کے وزیر اعظم کو سزا سنائی ہے اور اسپیکر کے فیصلے پر ابھی کیس سننا ہے،جس نے ملک کے صدر کے خلاف این آر او کے مقدمات کھولے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے اور سوئس حکومت کو خط نہ لکھنے کے سلسلے ملک کے وزیر اعظم کو سزا دی جس کا ابھی بھی کیس چل رہا ہے، جس نے ملک کے اندر کرپٹ حکومتی اہلکاروں کے خلاف فیصلے دیے اور ان سے ملک کی لوٹی ہوئی کرپشن کے پیسے پاکستان کے خزانے میں جمع کروا رہا ہے ،جس نے کوڑیوں کے مول فروخت ہونے سے اسٹیل مل کے کیس کو رکوایا اور جس نے بھر پور انداز میں ملک میں مارشل لائ کا راستہ روکنے کے اقدام کیے اور جو حکومت نیٹو سپلائی کھونے کے لیے بے تاب ہے ان کو ایسا چیف جسٹس ہرگز ہرگز درکار نہیں؟ اور جس کے پاس اپنا گھر اور سواری کے لیے اپنی گاڑی نہیں ہے کیا پاکستانی قوم اس کو بے یارو مدد گار چھوڑ دے گی؟ نہیں نہیں ہر گز نہیں جیسے پہلے قوم نے چیف جسٹس کا ساتھ دیا تھا اب بھی دے گی انشا اللہ۔ ہاںان کے بیٹے نے اگر کوئی غلط کام کیا ہے تو اسے اس کی بھر پور سزا ملی چاہیے

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ: 2 روز قبل پولٹری فارم پر ہو نے والے دوہرے قتل کا ملزم گرفتار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker