علاقائی

میرپورماتھیلو: شراب کی فروخت سر عام جاری، نوجوان نسل تباہی کے دہانے پہنچ گئی

میرپورماتھیلو۔ ﴿کرائم رپورٹر ﴾ میرپورماتھیلومیں شراب کی فروخت سر عام جاری، نوجوان نسل تباہی کے دہانے پہنچ گئی،کم عمر بچے بھی شراب پینے کے عادی ہونے لگے۔ شہر کے مین بازار میں موجود شراب کے اڈے پر شراب کی خریداری پرنوجوانوں میں جھگڑے معمول بن گئے، معاملات قبائلی تصادم تک جا پہنچے، الٹی گنگا بہنے لگی، قانون کے الٹ شراب مسلمانوں کو فروخت کی جانے لگی، کچی شراب کی بوتلوں پر اصل شراب کے لیبل لگا کر فروخت کرنے کا انکشاف، اپاک نیوز لائیو نیوزکی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر کم عمر مسلمان بچوں کو شراب فروخت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا، شراب کے اڈے کا مالک نیوز ٹیم کی پر سیخ پا، ، میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، شراب کے اڈے کے مالک نانک رام کا نیوز ٹیم سے مکالمہ، ہوٹلوںپر بھی سر عام شراب پینے پلانے کا رواج زور پکڑنے لگا، شراب نوشی کی بہتات دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ یہاں پر کوئی مسلم ملک ہے۔ پولیس اور ایکسائیز ڈپارٹمنٹ ہر ماہ لاکھوں روپے منتھلی لے کر پشت پناہی کرنے لگے۔ منتخب عوامی منتخب نمائندے بھی ہندو کمیونٹی کے ووٹ کے سامنے بے بس بن گئے۔عوام کی نظریںکسی مسیحا کی منتظر، اب مسیحا ملتا ہے یا مایوسی کچھ خبر نہیں، ایکسپریس نے اٹھایا پردہ، سیاسی سماجی حلقوںکی جانب سے ملی پزیرائی۔ تفصیل کے مطابق۔ یوں تو کہنے کو مملکت پاکستان اسلامی ریاست ہے، جس کا وجود دو قومی نظریے کے اصول پر رکھا گیا، الگ ملک حاصل کرنے کامقصد اسلامی اصولوں کی پاسداری کرناتھا، مگر اسی اسلامی ملک میں گویا شراب نوشی کو قانونی حیثیت مل گئی ہو، کچھ ایسا ہی حال میرپور ماتھیلو کا ہے جوکہ ضلع گھوٹکی کے ہیڈ کوارٹر کی حیثیت رکھتا ہے، مگر حالت یہ ہے کہ شہر کے وسط میں موجود شراب کا اڈہ ہر جرم اور برائی کی ماں بن کر رہ گیا ہے،جہاں پر دن رات شراب کی فروخت اس طرح جاری رہتی ہے،گویا جیسے کسی بالی ووڈ کا فلمی سین ہو، قانون کو اپنی جیب میں رکھنے والا مافیا، خود تو دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہا ہے مگر نوجوان نسل معاشرتی اور مذہبی برائیوں میں دھنستی جا رہی ہے، قانون کے لحاظ سے شراب کی فروخت صرف ان غیر مسلم افراد کو ہے جنہیں حکومت پاکستان نے شراب نوشی کا خصوصی پرمٹ یا لائسنس جاری کیا ہو مگر یہاں پر گنگا الٹی بہتی ہوئی نظر آتی ہے، شراب کی فروخت نہ صرف مسلمانوں کوکی جا رہی ہے بلکہ کم عمر بچے اور نوجوان بھی شراب خرید کر اس بری عادت میں پھنستے جا رہے ہیں۔حالت تو یہ ہے کہ شہر میں موجود ہوٹلوں پر سر عام شراب نوشی کا رواج زور پکڑنے لگاہے، شام ہوتے ہی شہر کی ہوٹلوںپر شراب پینے کے عادی افراد شراب کی بوتلیں لے کر پہنچ جاتے ہیں۔ اس عالم کو دیکھ اندازاہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ شہر مسلم سٹیٹ کا حصہ ہو۔جب اپاک نیوز لائیوکی ٹیم نے موقع پر پہنچ کرشراب کے اڈے کے مالک نانک رام کی جانب سے کم عمر مسلمان بچوں کو شراب فروخت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا، تو شراب کے اڈے کا مالک نانک رام انیوز ٹیم پر سیخ پاہوگیا، اور اس نے کہا کہ ایک اخبار تو چھوڑو جتنی اخباروں میں دل کرے دے دو، میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کچی شراب کو اصل شراب کی بوتلوں میں ڈال کران پر اصل شراب کے لیبل لگا کرانہیں فروخت کیا جا رہا ہے، جو کہ انتہائی خطرناک عمل ہے کسی بھی وقت قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتا ہے۔۔ مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چپ سادھ رکھی ہے،جو کہ مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔مصدقہ اطلاعات کے مطابق شراب کے اڈے کے مالک کو چالیس سے پچاس ہزار روپے یومیہ بچت ہوتی ہے اس صورت میں اس کے لیے پیسے کے زور پرقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا خاموش کرانا کوئی مشکل عمل دکھائی نہیں دیتا۔پولیس کی ناک کے نیچے ہوتے ہوئے اس قبیح عمل کوپولیس کی جانب سے دیکھتے ہوئے ان دیکھا کرنا خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس کے علاوہ با اثر افراد تک شراب کی مفت ترسیل ہوتی ہے، ان کی جائز اور نا جائز خواہشات بھی پوری ہوتی رہتی ہیں۔ضلع میں اچھی شہرت رکھنے اور امن و امان بحال کرانے ، ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن کر کے ان کا صفایا کرنے والے ایس ایس پی پیر محمد شاہ بھی اس برائی کے اڈے کو بند کرانے اور نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے کے کے لیے کوئی بھی خاطرخواہ اقدامات نہیںکرسکے جس کی وجہ بھی وہ ہی بتا سکتے ہیں۔جبکہ عوامی منتخب عوامی نمائندوں نے بھی اس سلسلے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا جس کی وجہ شاید الیکشن میں ہندو کمیونٹی کا ووٹ لینا ہو، مگر کیا صرف اقتدار میں آنے کے لیے ووٹ لینے کی خاطر اس طرح کے قبیح فعل پر خاموش رہا جا سکتا ہے اس کا جواب شاید با شعورحلقے ان سے دوران الیکشن پوچھیں۔اس ساری صورت حال کے پیش نظر عوام کسی مسیحا کے متلاشی ہیںجو اس برائی سے انہیں نجات دلا سکیں اور نئی نسل کو تباہی کے دہانے پر پہنچاے والے شراب کے اڈے کے مالک نانک رام کو کیفر کردار تک پہنچائے، اس کا پرمٹ کینسل کرے کیونکہ سلامی ملک میں اس طرح سر عام شراب نوشی کی بے راہ روی نہ صرف اسلامی اقدار کے خلاف ہے بلکہ نوجوان نسل کے لیے بھی زہر قاتل ہے، اب اس ساری صورت حال کے پیش نظر عوام کی نظریں ڈی۔ آئی۔ جی سکھر اور دیگر اعلیٰ حکام کو اپنے مسیحا کے طور پر دیکھ رہی ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام کو مسیحائی ملتی ہے یا پھر انکی خواہش صرف خواہش ہی رہ جائیگی اور نوجوان نسل مزید تباہی کے دہانے پر پہنچ جائی گی۔