شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / محبو ب ہے اسے زیب دیتا ہے

محبو ب ہے اسے زیب دیتا ہے

سیا ست دان ، جی ہا ں سیا ست دان، ان کو عوام نے فل چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ الیکشن میں کا میا ب ہو نے کے بعد جو جی میں آ ئے کر تے پھر یں ، ما ضی والوں سے یہ سیا ست دان اقتدار میں آ کر ایک بات ضر ور سیکھتے ہیں ، کہ انداز ایسا اپنا یا جا ئے کہ عوام سمجھے ان میں اور گئے سیا سے دانوں میں کو ئی فر ق نہیں رہا ، مگر عوام انہی سیا ست دانوں کو ہی کا میا ب کر تی ہے ، جو چہر ے پرانے صر ف پا رٹیا ں بد لتے ہیں ، عوام کی تر جما نی کسی نے خو ب کی ہے
بات بات پر فر یب دیتا ہے خیر چھو ڑو محبو ب ہے اسے زیب دیتا ہے
تحر یک انصا ف پر آ ج کل چڑ ھ دوڑے ہیں ، زیا د ہ تنقید اس بات پر ہو رہی ہے کہ خاں صا حب جو دعو ے کر تے تھے کہ ہم اقتدار میں آ کر کشکو ل نہیں اٹھا ئیں گے اور نہ ہی ایسی پا لیسی پر عمل کر یں گے کہ کسی اور مما لک سے امداد لینی پڑ ئے ، اب صو رتحال جب سا منے آ ئی کہ قر ضے لینیکے سوا ء اور کو ئی حل نہیں ، تو خاں صا حب نے دوست مما لک کار خ کیا اور با رہ ارب ڈالر لے کر وا پس پہنچے ہیں ، تنقید وہ زیا دہ کر رہے ہیں ، جو زردار ی اور نو از دور میں ان کے بیر ون ممالک کیے گے دوروں پر صر ف اس بات پر فو کس کر تے تھے کی ان دوروں سے ما لی امداد کتنی حا صل ہو ئی ، گو کہ اس کے بد لے اب تک اور آ نے والے وقتوں تک عوام ہی سود سمت وہ امداد اور قر ضے واپس کر ئے گی ، تب یہی تنقید کر نے والے اس طر ف عوام کی تو جہ نہیں دلو اتے تھے کہ ایسی پا لیسی مر تب کی جائے کہ ملک پا ؤ ں پر کھڑ ا ہو سکے ، مگر تب لمبی قطا ربند وں کی بیر ون ممالک دوروں پر تب شا ہد با ہر کی ہوا ان کے کما ل کے ذ ہنوں کو بھی لگ جا تی تھی ، اب خا ں صا حب اس لمبی قطار کو لفٹ نہیں کر واتے رہے تو معا ملہ اور طر ح کا دکھا یا جا رہا ہے ، مگر عوام اتنا ضر ور سمجھتی ہے کہ جو دو پا رٹیاں اتنے قر ضے لے کر بھی ملک کو مسا ئل میں چھو ڑ کر گے ہیں ، وہ کچھ دنوں کی حکو مت پر کیسے تنقید کر سکتے ہیں، خیر تنقید خو ب اور بہت خو ب ہو رہی ہے ، ایک صا حب نے لکھا کہ دن کو کسی بڑ ے سردار کے خلا ف با تیں کر تے رہو اور شا م کو اسی کے ڈھیرے پر جا کر چا ول ما نگنا شر وع کر دیں ، خاں صا حب کے چین کے دور ے پر یہ کہا گیا ، ایک صا حب نے لکھا کہ چکوال سے نکلا اور پنڈ دادخاں سے ہو تا لا ہو ر تک پریشا نی دیکھی کیو نکہ سڑ کیں خر ا ب تھیں، یہ حکو مت نا کام ہو گئی ، اس میں جرا ت کا مظا ہر ہ نظر نہیں کہ کچھ بند وں کے گر و ہ سڑ کیں بلاک کر کے بیٹھے تھے ، ان صا حب سے بند ہ پو چھے پرا نی یاری جن کے سا تھ آ پ کی تھی ، جن کے نا م پر آ ج آ پ اپنا نا م کیش کر واتے رہے ، وہ دھر نے دینے والوں کو تعو یز دیتے تھے کے سڑ کیں بند کر نے والی جما عتیں گھر وں سے با ہر نکلتے سا تھ ارادے بد ل لیتی تھیں ، نہیں ایسا نہیں ہو تا تھا، چا ول کی مثا لیں دینے والے بتا ئیں گے کہ ان جیسے لو گ کچھ ما ہ میں اپنے آ با ئی گا ؤں سے بحر یہ ٹا ؤن جیسے علا قوں میں گھر کیسے بنا لیتے ہیں ،یہ سب صر ف نام کیش کر تے ہیں ، بس سیا ست دان جیسے پا رٹیاں بد لتے رہتے ہیں ، یہ لو گ بھی انداز بد ل کر اپنے چا ہنے والوں کا دفا ع کر تے رہتے ہیں ،
تحر یک انصا ف نے جیسے مذ ہبی جما عتوں کے رویے کو دیکھتے ہو ئے حکمت عملی اپنا ئی اس پر تنقید کہ زیا دہ لو گ بھی نہیں تھے پھر کیوں تین دن پورا ملک بند رہا اور تو ڑ پھو ڑ ہو تی رہی ہے ، خا کسا ر کہے گا یو رپ میں تو کچھ گھنٹوں کے لیے سڑ کیں بلا ک نہیں ہو تی ہیں ، پا کستان میں بھی ایسے ہی ہو نا چا ہیے ، مگر ہم یو رپ سے بہت پیچھے ہیں، تنقید کر نے والے یہ مثال بھی کوڈ کر دیں کہ توڑ پھو ڑ کے بعد اتنی تعداد میں گر فتا ریاں ان کے چاہنے والوں کے دور میں بھی ہو تی آ ئی ہیں ، یا وہ صر ف با تیں تھیں ،
تحر یک انصاف کی قیا دت دوست ممالک سے جو تعا ون کی اپیل کر رہی ہے ، اس پر مو جو دہ حا لا ت میں تنقید کر نا بنتی نہیں ہے ، ہاں کچھ خامیا ں بہت واضع نظر آ رہی ہیں ، وہ سا منے نہیں آ نی چاہیں ، منہ سے ادا ہو ئی کلما ت تا ریخ کا حصہ بنتے ہیں ، خاں صا حب کے آ گے پیچھے سیا ست دان وہ اس حقیقت سے با خو بی جا نتے ہیں ، مگر پھر تا ریخی غلطیاں کر رہے ہیں تو خاں صا حب کو اس طر ف تو جہ دینی چا ہیے ، جیسے کہ چو ہد ری فو اد صا حب کا انداز پر یس کا نفر نس میں یہ ان کو بھی زیب نہیں دیتا اور ان کی جما عت بر دا شت بھی نہیں کر سکتی کہ عوام اکے وزیر کی با تین لے کر تحر یک انصا ف کے خلا ف جا ئے ، حکمت ، تدبر ، ضر وری ہے، تا ریخ کا حصہ بنیں ، مگر ، ایسے نہیں کہ آپ کا مذاق بنا دیا جا ئے ، خاں صا حب نے ما ضی کے حکمر انوں سے بھی ایک با ت سیکھی ہے ، جیسے نوا ز شر یف آ ٹھ ما ہ قو می اسمبلی نہیں جا تے تھے ، تو خاں صا حب بھی اسمبلی سے دور دور ہیں ، سوال تو سا منے آ ئے گا ، بلکے زور سے آ ئے گا کہ ، اس اسمبلی میں آ نے کے لیے عوام سے ووٹ لیتے ہیں اور جب کا میا ب ہو کر یہاں بیٹھ کر عوامی مسا ئل کو حل کر نے کے مو ا قعے ملتے ہیں تو آ پ اس اسمبلی کار خ بھی نہیں کر تے ، ایک اجلا س پر دس کروڑ سے زیا دہ کا خر چ اس پر آ تا ہے ، عوام پو چھے گی خاں صا حب بعد میں آ پ کے لیے دفا ع کر نا مشکل ہو جا ئے گا ، پھر وہی آ ئیں گے جو آ پس میں با ری لگا تے رہے ہیں ، سیا ست دان ، جی ہا ں سیا ست دان، ان کو عوام نے فل چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ الیکشن میں کا میا ب ہو نے کے بعد جو جی میں آ ئے کر تے پھر یں ، ما ضی والوں سے یہ سیا ست دان اقتدار میں آ کر ایک بات ضر ور سیکھتے ہیں ، کہ انداز ایسا اپنا یا جا ئے کہ عوام سمجھے ان میں اور گئے سیا ست دانوں میں کو ئی فر ق نہیں رہا ، مگر عوام انہی سیا س دانوں کو ہی کا میا ب کر تی ہے ، جو چہر ے پرانے صر ف پا رٹیا ں بد لتے ہیں ، عوام کی تر جما نی کسی نے خو ب کی ہے
بات بات پر فر یب دیتا ہے خیر چھو ڑو محبو ب ہے اسے زیب دیتا ہے

یہ بھی پڑھیں  احتساب کے نام پر انتقامی کاروائیاں بند ہونی چاہیے، آصف زرداری