پاکستانتازہ ترینرپورٹس

محکمہ بہبود آبادی میں اربوں روپے کی مالی بے ضاطگیوں اور خورد برد کا انکشاف

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) حکومت پنجاب کی تازہ ترین آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ محکمہ بہبود آبادی (پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ) میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگی اور خورد برد سامنے آئی ہے۔ یہ مالی بے ضابطگی ریکارڈ کی عدم فراہمی‘ گاڑیوں کے عدم استعمال ‘ ناقابل استعمال گاڑیوں کی نیلامی اور عدم نیلامی اور عمارتوں کے کرائے کی مد میں کی گئی ہے آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 30 جون 2014 ء کو ختم ہونے والے سال تک محکمہ بہبود آبادی کا مجموعی بجٹ 2783.21 ملین روپے تھا۔ اس رقم میں سے مجموعی اخراجات 3230.730 ملین روپے تھے۔ تاہم آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب بجٹ مینول کے چیپٹر 14 کے رولز کے مطابق رقوم خرچ کرنے والے اداروں پر لازم ہے کہ وہ بچت شدہ رقوم وقت پر واپس کریں تاہم 1.763 ملین روپے کی رقوم سال 2013-14 ء کے اختتام تک صحیح وقت پر واپس جمع نہیں کروائی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رولز کے تحت کسی مقصد کیلئے مجموعی اخراجات اس مقصد کیلئے مختص اخراجات سے نہیں بڑھنے چاہئیں۔ تاہم سال 2013-14 ء کیلئے 449.276 ملین روپے کی رقم ابھی تک باضابطہ اور ریگولرائز نہیں کی جاسکی ہے یہ رقوم پر قانون سازی کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے آڈٹ کے دوران بار بار کی درخواست کے باوجود آڈٹ سکروٹنی کیلئے ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔ جن اداروں کا ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا ان میں ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر اوکاڑہ ‘ آر ایچ ایس اے حافظ آباد‘ ڈسٹرکٹ پاپولیسن ویلفیئر آفیسر جھنگ ‘ ڈسٹرکٹ پاپولیشن آفیسر ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘ ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر قصور‘ آر ایچ اے سنٹر سیالکوٹ اور آر ایچ اے سنٹر ٹوبہ ٹیک سنگھ شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈ کی عدم فراہمی کی وجہ سے اکاؤنٹس کی تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔ یہ معاملہ انتظامی محکمے کے حوالے کیا گیا تاہم رپورٹ کے آنے تک کوئی جواب نہیں آیا اور نہ ہی ڈی اے سی کی میٹنگ بلائی گئی۔ آڈٹ میں واوچڑ اکاؤنٹس کی فرہامی کے علاوہ ذمہ داروں کے خلاف سخت انضباطی کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔ ادویات ‘ مشینری ا ور ساز و سامان کی بے ضابطہ خریداری میں بھی 398.50 ملین روپے کی بے ضابطگی سامنے آئی ہے۔ یہ خریداری پی پی آر اے رولز کے بغیر کی گئی ہے گاڑیوں کے اعدم استعمال کی مدمیں 46.48 ملین روپے ناقابل استعمال گاڑیوں کے عدم نیلامی میں 37.47 ملین روپے ‘ ڈرائیورز آسامیوں اور تنخواہوں کی مدمیں 4.34 ملین روپے عمارت کے بے ضابطہ کرایے کی ادائیگی میں 1.77 ملین روپے‘ انکم ٹیکس کٹوتی اور 7 عدم کٹوتی کی مد میں 9.92 ملین روپے کی مالی بے ضابطگی‘ سامنے آئی ہے آڈٹ میں ذمہ دار اداروں ‘ ذیلی اداروں اور مالی بے ضابطگی میں ملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  بہاولنگر:طوفانی با رش مختلف واقعات میں تین بچوں سمیت4افراد جاں بحق 25 زخمی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker