امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

مہنگائی کا عذاب

imtiazتنقید اپنی جگہ لیکن بہتری کی طرف اُٹھنے والے اقدامات پر حکومت کی اچھی الفاظ میں حوصلہ افزائی ہوتی رہنی چاہئے ۔وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کو ترکی کے سب سے بڑے سول ایوارڈ تمغہ جمہوریت سے نوازا گیاہے جو ہمارے لئے ایک بہت بڑا عزاز ہے۔ترکی کی طرف سے ملنے والا ایوارڈ میاں نوازشریف کی پاکستان میں جمہوریت کیلئے بحالی کی سنجیدہ کوششوں اور خدمات کا اعتراف ہے ۔راقم کی طرف سے وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف اور پوری قوم کو ترکی کا سب سے بڑا سول ایوارڈ تمغہ جمہوریت بہت بہت مبارک ہو۔اب بات کرتے ہیں آج کے موضوع پر۔اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ڈھائی ماہ میں 547ارب روپے قرض لیا ۔اس عرصے میں مہنگائی کی سطح 3فیصد بلند ہوئی اور آنے والے دنوں میں مہنگائی میں مزیداضافہ ہوگا۔قارئین ذرہ غور کیجئے گا اسٹیٹ بینک کاکہنا ہے کہ لگتا ہے نئی حکومت معاشی اصلاحات کررہی ہے لیکن بامعنی ٹیکس اصلاحات کا اب بھی فقدان ہے ۔گورنر اسٹیٹ بینک نے جب حکومت کی طرف سے معاشی اصلاحات کئے جانے کا ذکر کیا تب لگتا ہے۔کہ یہ کہہ کر بے یقینی کا اظہار کردیاہے اور جہاں مہنگائی میں مزید اضافے اور بامعنی ٹیکس اصلاحات کی بات کی وہاں صاف صاف لفظوں میں بیان کردیا کہ مہنگائی مزیدبڑھے گی اور حکومت بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود ابھی تک بامعنی ٹیکس اصلاحات کرنے میں ناکام رہی ہے۔کوئی سمجھے نہ سمجھے بات سادہ سی ہے کہ حکومت آنے والے دنوں میں غریب عوام کو مہنگائی کے مزید تحفے دینے کی تیاری کررہی ہے ۔سوال یہ پیداہوتا ہے کہ وسائل سے مالامال ملک میں عوام کے حصے میں صرف مسائل ہی کیوں آرہے ہیں ؟کیا وجہ ہے جو دنیا کے امیر ترین خطے (پاکستان جہاں سال میں چار موسم ،دریا،سمندر،پہاڑ،سرسبز میدان،سونا اگلتی زرخیز زمینیں،قدرتی گیس،کوئلہ،تیل،نمک،سونے کے ذخار کے علاوہ دیگر وسائل موجود ہیں)پر بسنے والی مخلوق غریب اور کمزور ہے؟حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا میں خُدا کی پناہ مانگتا ہوں5چیزوں سے کہ تم ان کوپاؤ۔جب کسی قوم میں فحاشی ،شراب نوشی،بدکاری،ناچ گانا وغیرہ اعلانیہ ہوں گے تو وہ طاعون یعنی ایسی بیماریوں اور وباؤں میں مبتلاہوگی جوان سے پہلے لوگوں میں کبھی نہیں ہوئی ہوں گی،جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرے گی تو قحط ،مصیبت اور حاکم کا ظلم ہوگا،یعنی جو قوم تجارتی بدعنوانیوں میں ملوث ہوگی اُس پر مصائب نازل ہوں گے۔جوقوم زکوۃٰ نہیں دیتی تو اللہ تعالیٰ ان پر باران رحمت روک دیتاہے،اگر روح زمین پر جانور نہ ہوتے تو کبھی ان پر بارش نہ برستی،جب کوئی قوم اللہ اوراس کے رسولؐ سے عہد شکنی کرتی ہے تواللہ تعالیٰ غیرقوم سے ان کے دشمن کوان پر مسلط کردیتا ہے جوان کے مال(یعنی دولت ،تجارت اور زراعت وغیرہ)کو زبردستی چھین لیتے ہیں۔جب مسلمان حاکم اللہ کی کتاب (قرآن کریم)پرعمل نہیں کرتے اور جواللہ نے نازل فرمایاہے اس کو اختیار نہیں کرتے تواللہ تعالیٰ ان میں لڑائی (جس کوہم آج کل خانہ جنگی کہتے ہیں)کرادیتا ہے ‘‘رسول اکرم ؐ نے جن چیزوں سے پناہ مانگی ہم بڑی خوش دلی کے ساتھ نہ صرف ان کو اپنا چکے ہیں بلکہ بڑی دلیری کے ساتھ فرماتے ہیں کہ ان چیزو ں کے بغیر زندگی ادھوری ہے ۔فحاشی ،ناچ گانا ،بدکاری اور بے حیائی اعلانیہ کی تمام حدیں ٹوٹ چکی ہیں ۔ناپ تول میں کمی ہم اپنا فرض سمجھ کے کرتے ہیں ۔جہاں تک بات ہے زکوۃٰ کی تو وہ حلال مال پر دی جاتی ہے ۔جو ناپ تول میں کمی ،بے ایمانی ،بدکاری اور بے حیائی کے راستے پر چل کر مال ودولت کماتا ہوراقم کے خیال میں اُس کا زکوۃٰ دینا نہ دینا ایک برابر ہے۔اللہ اور اُس کے رسولؐ کے ساتھ عہد شکنی تو ہم ہرگزنہیں کرتے کیونکہ یہ کام ہمارے بڑے کرچکے ہیں ،جس عہد کو ہمارے بڑوں نے توڑ دیا اُس کے ہم کس طرح پابند ہوسکتے ہیں ۔جوقوم اللہ تعالیٰ اور نبی کریمؐ کے ساتھ عہد شکنی کرے ،اللہ تعالیٰ کے سختی سے منع فرمانے کے بعد فحاشی ،بدکاری ،شراب نوشی،ناچ گانا ،ناپ تول میں کمی اور زکوۃٰ ادا نہ کرے اُسے اللہ تعالیٰ کی کتاب(قرآن کریم)پرعمل کرنے والے حکمران کہاں سے نصیب ہوسکتے ہیں ؟گناہوں کی دلدل میں گری قوم دہشتگردی،ناانصافی،مہنگائی ،کرپشن،بدعنوانی،بد امنی اور دیگر مسائل پر احتجاج کرے،خودکشیاں کرے ،حکمرانوں کو بُرابھلا کہے یا طاقتور دشمن ملک کو گالیاں دے اُس کے حالات زندگی تب تک نہیں سنور سکتے جب تک اللہ تعالیٰ کے حضورسچے دل سے توبہ کرکے گناہوں سے جان چھڑا نہیں لیتی ۔مہنگائی کے عذاب سے نکلنے کے لئے ہمیں اصل رازق کی بارگاہ سے اپنے لئے حلال رزق مانگنا اور پھر اُس کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق محنت کرنا ہوگی۔گورنر اسٹیٹ بینک نے یہ سارا بیاں سود کی شرح میں0.5فیصد اضافے کے اعلان کے ساتھ دیا ۔سودجو اُوپر بیان کردہ حدیث مبارکہ میں درج گناہوں سے کہیں بڑا گناہ ہے ۔اللہ تعالیٰ اور رسول اکرمؐ نے سود کا لین دین کرنے والوں کے ساتھ اعلان جنگ کررکھا ہے اور ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری دن بدن سود کی لعنت میں لت پت ہوتے جارہے ہیں ۔حکومت نے آئی ایم ایف سے سود پرمزید قرض لے لیا اور قومی اسمبلی میں سودی نظام کے خاتمے کیلئے قراداد بھی منظور کرلی گئی ۔ایسی کئی قراردادیں مسئلہ کشمیر،ڈرون حملوں کیخلاف،کراچی اور بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے معاملوں پر بھی منظور ہوچکی ہیں جن کاسالوں گزر جانے کے بعد
بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔پھر بھی نااُمیدی اور مایوسی گناہ ہے اس لئے میں پوری قومی اسمبلی کوسودی نظام کے خلاف قراردادمنظور کرنے پر سلام پیش کرتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ ہم بہت جلد سودی نظام جس کودوسرے لفظوں میں اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول حضرت محمدؐ کے خلاف جنگ کہا جاسکتا ہے سے جان چھڑا لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں  اسرائیلی طیاروں کی شام کے سرحدی شہر میں بمباری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker