شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / مہنگائی کا ہولناک سونامی اور بلکتی عوام

مہنگائی کا ہولناک سونامی اور بلکتی عوام

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نیا سٹاک مارکیٹ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں فرمایا ہے کہ ہمیں معاشی مشکلات کا اندازہ ہے حکومت نے بہت مشکل فیصلے کئے ہیں دنیا کے ساتھ چلنے پر ہمیں کاکردگی دکھانا ہو گی اب رو پے کی قدر مارکیٹ سے ہم آہنگ ہو گئی ہے،یہ اقوال زریں اس شخصیت کے ہیں جو ایسے ہی اقدامات پر مخالف حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے تھے،کئی دہائی قبل گندم نکالنے کے لئے بیلوں کا استعمال ہوتا تھا وہ سارا دن گندم کے ڈھیر پر چکر کاٹتے رہتے پھر دانے نکلتے،بعد میں تھریشر آ گئی مصیبت کے مارے لوگ سخت موسم میں گندم کی کٹائی کرتے انہیں اپنے ناتواں کاندھوں پر ڈال کر ایک جگہ یکجا کرتھریشر چلتی تو ایک جانب بھوسے کاڈھیر اور دوری جانب گندم کے دانے نکل آتے گندم کاٹنے ،یکجا کرنے اور تھریشر پر کام کرنے والوں کو محض چند من گندم دے کر فارغ کر دیا جاتا وہ اسی پر بہت خوش ہوتے کہ چلوکم از کم ایک سال تو روٹی نصیب ہو گی، اب مزید جدید ذرائع آ چکے ہیں مگر سارے کام کا نتیجہ ایک ہی ہے،وقت گذرتا گیا گذر رہا ہے مگر حال تھریشر میں ڈال کر دانے اور بھوسہ الگ کرنے کا کام جاری ہے پی ٹی آئی میدان عمل میں آئی تو سب سے قبل سونامی کا نعرہ بلند ہوا تب الراقم نے اپنی ایک تحریر میں درخواست کی تھی کہ سونامی جیسا لفظ استعمال کرنے سے اجتناب کیا جائے سونامی بہت خطرناک ہوتے ہیں،مگر میرے جیسوں کروڑوں لوگوں کی آواز تھریشر کے شور میں دب جاتی ہے کوئی نہیں سنتا نہ سننے کو تیار ہوتا ہے ،سونامی نام کی حکومت آئی تو اسے تبدیلی کا نام دیا گیاہم بھی دیگر اپنے جیسوں کی طرح بہت مطمئن تھے کہیں بات ہوتی توان کی تائید میں بات کرتے ، عوام کی حالت بہتر بنانے کے دعوے بجلی کی طرح عوام پر آن گرے ہیں ،ایک سہی دو سہی مگر جب طوفان ہی آن گرے تو بچاؤ کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا ،اس ملک کو بہت لوٹا گیا بلکہ ایسے نوچا گیا جیسے ہمارے رہبر رہنماء نہیں کوئی گدھ ہیں،حکومتیں آتی گئیں ،اقتدار کی راہداریوں میں مجموعی طور پر اکثر وہی مکروہ کردار پھر آن دھمکتے جن کے ہوتے ہوئے عوام سے دو قت کی روٹی بھی چھین لی گئی یہ بات بھی سبھی حکمرانوں کے درمیان مشترک ہے کہ جو کوئی بھی عوام کا نام نہاد خیر خواہ اقتدار میں آیا انکا پہلا سال کیا سارا دور حکومت ہی اسی گردان میں گذر گیا کہ سابق حکمرانوں نے قومی خزانے کو اس قدر لوٹا کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا اس لئے ہمیں مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں شرمناک بات یہ کہ ان کے نافذ کردہ مشکل فیصلے صرف عوام کے لئے ہی ہوتے خود انہیں کچھ فرق نہ پڑتا ،ان کی مراعات ،ان کے اختیارات،ان کی رعونت،ان کی اداروں میں مداخلت ،مراعات سبھی کچھ پہلے سے بھی بڑھ کر ہوتا،کئی ممالک کی مثال واضح ہے کہ ان کے سابق جس حکمران نے بھی قومی خزانے کو لوٹا اس کی گردن پر شکنجہ کس کر وہ دولت واپس لے کر ملک و قوم پر خرچ کی گئی ،اٹلی نے180ملین ڈالر،انڈو نیشیا نے 118ملین ڈالر ،برطانیہ میں52بلین پونڈ،جرمن میں140ملین یورو اور ہنگری جیسے ملک میں124ملین ڈالر واپس جمع ہوئے ایسی اور بہت مثالیں ہیں ،مگر موجودہ نئی حکومت نے تاحال اس حوالے سے کچھ نہیں کیا بلکہ ان کی نالائقی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ چوروں کو چھوڑے گے نہیں جیسے دعوے جن کی ہر تقریر کا لازمی جزو ہیں مگر عملاً کچھ بھی نہیں مگر جب بھی نیب ریفرنسز میں کسی اعلیٰ شخصیت کے خلاف کوئی کاروائی ہوتی ہے تویہ بڑھک باز سمندر کی جھاگ کی طرح بہہ جاتے ہیں اس کا کریڈٹ لینے کی بجائے صفائیاں پیش کرتے ہیں کہ یہ مقدمات تو سابقہ حکومت کے ہی ہیں اگر یہ سب سابق حکومت کا ہی ہے تو پھر تم نے لوٹ مار پر کیا کیا؟ کیا 12بلین ڈالرز میں سے صرف2ارب روپے کی واپسی کو کرپشن کے خلاف بہترین اقدامات کہا جا سکتا ہے ؟بلکہ یہ تو شرمناک صورتحال ہے، اس وقت دنیا بھر میں18بڑے ایسے ادارے ہیں جو کرپشن بے نقاب کرنے اور اس کی واپسی میں مکمل معاونت فراہم کرتے ہیں مگر پی ٹی آئی حکومت نے کسی ایک سے بھی رابطہ نہیں ، جو حالات ہیں نہیں لگتا کہ کچھ بھی واپس آئے گا،اگر ایک طرف مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا جائے،ٹیکسوں کی بارش کر دی جائے اور دوسری جانب مال مسروقہ کے لئے بھی مؤثر اقدامات نہ کئے جائیں تو عوامی خدشات کیوں نہ عروج پر پہنچیں،لگ رہا ہے کہ عمران خان جن کی ذاتی اور اچھی سوچ سے نہ انکار کیا جا سکتا ہے نہ ان پر کرپشن کا سوچا جا سکتا ہے مگر جو حالات جا رہے ہیں اس واضح ہے کہ حکومت کی قیادت ایک پیچ پر نہیں عمران خان جس اسٹیٹس کے حالت جنگ میں ہیں عمران خان کی ساتھیوں کی اکثریت ہی اسی اسٹیٹس کو کی حامی ہے، وزیر اعظم ان کے ساتھیوں ،اپوزیشن اور نظام کے درمیان سینگ پھنس چکے ہیں ،عمران خان کے بعد عوام کو معاشی حالت بہتر بنانے پر اسد عمر پر بہت توقعات تھیں مگر ان کے سب سے بہتر کسی کسی کام کو کہا جائے تو وہ ہے جس کی وجہ سے عوام تھریشر سے بھوسہ بن کر نکلتے ہیں اس کے اصل ذمہ دار بھی وہی ہیں،کھانے والے للکار رہے ہیں،عوام کی پالیسیوں کو جوتوں کی نوک پر رکھنے کا دعویٰ کر رہے ہیں ذوالفقار علی بھٹو کی برسی جس پر اربوں روپے لگ گئے میں نہ جہاں نہ صرف حکومت کو دھمکیاں دی گئیں وہیں پیپلز پارٹی کو ایک مذہب بھی قرار دے دیا گیا استغفراللہ ،یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم پر مسلط ہی وہی ہوتے ہیں جو ہمارا خون بھی چوستے ہیں اور ہمیں اپنے آگے نچاتے بھی ہیں ،اسد عمر کے اس بیان پر بہت شرم اور رونا بھی آر ہا تھا جس میں وہ کہتے ہیں خدارا لوگوں کو گمراہ نہ کریں غریب عوام پریشان ہو جاتی ہے ذرہ یہ تو بتائیں کہ عوام تمہارے اس سونامی کی لہروں میں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئی ان کے لئے آپ نے کیا کیا ہے؟تبدیلی عام طور پر پسند نہیں کی جاتی سبحان اللہ بھوکے رہنے کو بھی کوئی پسند کرتا ہے جن سے روٹی کا حق بھی چھین لیا جائے ان بارے بات کرتے کچھ شرم بھی نہیں آتی،تھریشر میں عوام کو ڈالنے کے بعد رہ کیا جاتا ہے گندم کے دانے تمہارے اور سارا بھوسہ عوام کا بلکہ عوام ہی بھوسہ ،شریف بردارن پر اربوں ڈالرز کی کرپشن کے الزامات ہیں مگر نیب کی جانب سے نا اہل پراسیکیوشن کی وجہ سے سب ٹھیک،یہ تو اعلیٰ عدلیہ اور آرمی اسٹیبلشمنٹ اگر وطن کی خاطر اپنے کردار سے ریاست کی جڑیں مضبوطی سے پکڑیں ہوئے ہیں ورنہ کھانے والوں کو ہر وہ قانون کالا نظر آتا ہے جس میں وہ خود کو قابل گرفت سمجھیں ،عوام کو مزید بدحال کرنے والی حکومت کہتی ہے اگر یہ کالا قانون ہے تو اسے بدل دیا جاتا انہیں ایسا کہنے کی کیا ضروت ہے ان کا کام تو ان کے خلاف اقدامات کرنا ہیں یا صفائیاں دینا؟ مگر وہ تو عوام کے خلاف اقدامات میں مصروف ہیں ،اسد عمر صاحب خدارا اب بس کریں عوام ایسے حالات کی متحمل نہیں ہو سکتی بہتر ہے اس قوم کو زبانی سونامی کی بجائے حقیقی معنوں میں سمندر کی نظر کر دیا جائے حیرت تو یہ بھی ہے کہ عمران خان بھی ا ن عوام دشمن اقدامات کو معاشی بہتری سے تعبیر کر رہے ہیں،یہ سب دھوکا ہے عوام کے ساتھ،عمران خان کے ساتھ،وزارت خزانہ میں بیٹھے چند سابق بیوروکریٹس کو فوری طور پر اس اہم ترین وزارت سے نکالا جائے اور ساتھ ہی اسد عمر جو شاید پی ٹی آئی منشور پر نہیں کسی اور منشور پر عمل پیرا ہیں کی بجائے بھی کچھ اور ہی مشن پر ہیں ان کی ماضی کی تقاریر اور موجودہ پالیسی پر زمین آسمان کا فرق ہے،غضب خدا کا دوائی،خوراک،پٹرول ڈیزل،سبزی،دودھ،آٹا،سفر،ضروت کی ہر چیز پہنچ سے باہر کیا یہی پاکستانی عوام کی قسمت میں ہے ؟معاشی حالت بجائے سدھرنے کے بد سے بدترین ہوتی جا رہی ہے اور یہ مطمئن ہیں،

یہ بھی پڑھیں  غیرمعیاری دودھ،گوشت ودیگر خوردونوش کی اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا محض مذاق بن کر رہ گیا