پاکستان

سپریم کورٹ نے میمو کمیشن کی مدت میں ڈیڑھ ماہ کی توسیع کر دی

اسلام آباد ﴿بیورو رپورٹ﴾سپریم کورٹ آف پاکستان نے میمو کمیشن کی مدت میں ڈیڑھ ماہ کی توسیع دیتے ہوئے سابق سفیر حسین حقانی کو 4 دن کے نوٹس پر کمیشن یا سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم برقرار رکھا ہے۔جمعرات کے روز سپریم کورٹ میں میمو ایشوز پر درخواست کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں دس رکنی لارجر بنچ نے کی ۔قبل ازیں کیس کی سماعت شروعت ہوئی تو اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کیا بعد ازاںاٹارنی جنرل تاخیر سے عدالت پہنچے اور انہوں نے تاخیر سے آنے پر معذرت کی ۔دوران سماعت چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ میمو کمیشن کی تحقیقات کے لئے مزید کتنا وقت دینا چاہیے اس پر انہوں نے کہا کہ چھ ہفتے دے دینے چاہئیں تاہم عبد القادر بلوچ کے وکیل صلاح الدین مینگل نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن اپنا زیادہ تر کام مکمل کرچکا ہے لہذا کمیشن کو صرف ایک ہفتہ دیا جائے تاہم عدالت نے میمو کمیشن کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے کمیشن کی مدت مںی 6 ہفتوں تک توسیع کر دی جبکہ سپریم کورٹ نے حسین حقانی کی ویڈیو لنک سے بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ۔عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر چونکہ بیرون ملک ہیں وہ واپسی پر عدالت میں سماعت کے لئے درخواست دے سکتی ہیں ۔عدالتی آرڈر میں کہا گیا ہے کہ حسین حقانی کا خط 28 مارچ کو صبح دس بجے موصول ہوا تھا جس میں خط کو خفیہ رکھنے کی درخواست کی گئی تھی ۔عدالت نے حسین حقانی کی استدعا منظور کرتے ہوئے ان کے خط کو آئندہ سماعت تک خفیہ رکھنے کی ہدایت کی ہے جبکہ عدالت نے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح براہ راست ججز کے نام خط کی حوصلہ شکنی کی جائے گی ۔بعد ازاں عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

یہ بھی پڑھیں  بلوچستان میں عوام نے بلدیاتی نظام اور امن پسند حلقہ بندیوں پرعدم اعتماد کردیا، یوسفرضا گیلانی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker