تازہ ترینکالممحمد جاوید اقبال

میرا درد نہ جانے کوئی

یوں تو انسانی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کے ماتھے کا جھومر اور قوموں کیلئے عزت و وقار کی علامت ہوتے ہیں، ۴۱ اگست برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ میں ایک یادگار دن ، ولولہ انگیز اور روح پرور دن میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک ایسا دن جب برصغیر کے مسلمانوں کی جد و جہد آزادی کو نقطہ عروج حاصل ہوا۔ ان کے سچے جذبوں اور اَن دیکھے آرزوئوں کی تکمیل ہوئی، اس دن مسلمانوں کو غلامی کے بعد آزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہوا۔ ہر سال لوٹ کر آنے والے اس دن کا طلوع ہوتا ہوا سورج علامت ہے اس بات کی کہ قدرت کو ابھی پاکستان کا وجود اور استحکام اور بقائ مطلوب ہے اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ہمیشہ قائم رہنے کیلئے بنایا گیا ہے۔ ہماری قوم ہر سال اس دن کو جشنِ آزادی کے طور پر مناتی ہے مگر اس دن کے بعد پھر سب کچھ بھول کر وہی ڈَگر پر چل پڑتی ہے جو بادل نہ خواستہ اس عظیم ملک کی تباہی کی طرف جاتی ہے۔
جد و جہدِ آزادی میں کامیابی اس بات کی دلیل ہے کہ بکھرے ہوئے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح (رض) نے انگلستان سے واپس آکر اپنی بکھری ہوئی قوم کو ایک جھنڈے کے نیچے متحد کیا۔اور پھر شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال نے اس سلسلے میں فعال کردار ادا کر کے راہ ہموار کی۔ ۷۲ رمضان المبارک بمطابق ۴۱ اگست ۷۴۹۱ئ کی پُر رونق شب تھی جب دنیا کے نقشے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کے نقشے پر مملکت کی حیثیت سے ابھرا۔ یہ پاکستان کی بدقسمتی تھی کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے صرف ساڑھے تیرہ ماہ بعد ﴿کسی جگہ تیرہ ماہ بھی درج ہے﴾ ہم سے بانیٔ پاکستان باری تعالیٰ کی کُوچ کر گئے۔ اب تو ہمارے ملک میں اور یہاں بسنے والوں میں نہ ہی خوفِ خدا باقی ہے اور نہ ہی قانون کا احترام نظر آتا ہے۔ ہمارے ہی سربراہان کی کوتاہ عقلی کی وجہ سے انیس سو اکھتر میں ملک دو لخت ہو گیااور یہ سب کچھ ہوتے ہوئے ہم سب دیکھتے رہ گئے بجائے اس کے ہم اس فیصلے کی گھڑی میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوتے ملک کو دو لخت ہونے دیا۔
اس سانحہ سے بھی ہم نے کچھ نہیں سیکھا اور اب پھر اسی ڈگر میں چل نکلے ہیں جہاں صرف تباہی ہے، بربادی ہے۔ پتہ نہیں ہماری قوم کب جاگے گی ۔ آج پاکستان کا کوئی شہر ایسا نہیں ہے جہاں دہشت گردی کی واردات نہیں ہوتی، قتل و غارت گری نہیں ہو رہی، اگوا کی وارداتیں عروج پر ہیں۔ عظیم مملکت کی زمین خون سے لال ہے۔ وہ زمانہ تھا جب پاکستان حاصل کرنے کیلئے ہمارے بزرگوں نے خون بہایا تھا اور آج ہم غیروں کے اشاروں پر اپنی زمین لال کر رہے ہیں۔
پاکستان بنانے کیلئے جو خواب دیکھا گیا اس کے لئے قربانیاں دی گئی، تحریکیں چلائی گئیں ، گھر بار چھوڑے گئے، لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیکر اور اپنے پیاروں کو بے گور و کفن چھوڑ کر خون کے دریا عبور کرکے اس ملکِ عظیم میں کامیابی سے آئے۔ یہ سب کچھ صرف پاکستان کی آزادی اور آزاد مملکت حاصل کرنے کیلئے کیا گیا اور آج ہم نے اسی مملکت کو کہاں کھڑا کر دیا ہے۔ جہاں صرف دہشت گردی نظر آتی ہے۔ جہاں کے حکمران بلٹ پروف گاڑیوں میں بھی نکلتے ہوئے ڈرتے ہیں وہاں کے عوام کا کیا حال ہوگا اس کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ ہم لوگ آزادی کا مطلب بھلا چکے ہیں، ہمارے ملک میں ۵۶ کی پیپسی کا تو بڑا دھوم ہے مگر ہمارا پیارا پاکستان بھی دو دن بعد ۵۶ کا ہونے جا رہا ہے مگر افسوس صد افسوس کہ ہم نے اس پاک سر زمین کی قدر آج تک پہچاننے میں کوتاہی برتی۔ اللہ ہم سب کو عقلِ سلیم عطا فرمائے۔ جہاں ہم ہر سال آزادی کا جشن بہت دھوم دھام سے منایا کرتے ہیں اس مملکتِ اسلامی کی قدر جان لینے کی کوشش نہیں کرتے۔ آزادی کی قدر ان لوگوں سے پوچھا جائے جو آج بھی غلام بن کر جی رہے ہیں۔ مجھے تو اس موقعے پر ایک شعر بہت شدت سے یاد آ رہا ہے جس کو اسی سطر کے نیچے درج بھی کروں گا۔
بے عقل بھی ہم لوگ ہیں غفلت بھی ہے طاری
افسوس کہ اندھے بھی ہیں اور سو بھی رہے ہیں
۵۶ سالہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہم سب کیلئے مثلِ راہ ہے۔ یاد رکھو! پاکستانیو ں آزادی ایک نعمت ہے اس کی قدر کرنا سیکھ لو ورنہ تو بس یہی ہوگا کہ ہم جشنِ آزادی کی خوشیاں ہی منائیں گے اور ایک دوسرے کو اس کی مبارک باد بھی دیتے رہیں گے اس سال بھی اور ہر سال کیونکہ پاکستان تو قیامت تک دنیا کے نقشے پر قائم و دائم رہے گا مگر شاید ہم نہیں ہونگے۔ وہ اس لئے کہ جو حالات و واقعات رونما ہو رہے ہیں اس سے تو یہی نظر آتا ہے کہ شاید یہ اقبال و قائد اعظم کے خوابوں کی تعبیر سے بہت دور نکل گیا ہے۔
آج جاگتی آنکھوں میں بچوں کا دہشت زدہ چہرہ دکھائی دیتا ہے تو ماں باپ کے سینوں میں کئی کئی خنجر ایک ساتھ اتر جاتے ہیں۔ کیونکہ یہاں انصاف ناپید ہے، قصور واروں کے ساتھ ساتھ بے قصور جوان بچے بھی مارے جا رہے ہیں، الزام لگا کر جیلوں میں بھی ڈالے جا رہے ہیں، اگر حالات ایسے ہی رہے تو وہ دن دور نہیں جب اس ملک کے غریب ماں باپ یہ کہتے ہوئے سنے جائیں گے کہ اگر یہی حالات رہے تو ان قوم کے جوان مستقبل کا کیا ہوگا ۔
بہرِ کیف ہماری تعمیر میں کوئی خرابی کی صورت چھپی ہوئی ہے یا کوئی بد دعا آسیب کی صورت بن کر ہمارے تعاقب میں ہے، اس کا پتہ لگا نا بے حد ضروری ہے۔ ملک میں بگاڑ ختم ہونے کی کوئی صورت ہی نظر نہیں آ رہی ہے۔ ہمارے انقلابی مسیحائوں کے اپنے نعرے اور اپنے ہی انداز ہیں، لیکن سلامتی اور وجود کو لاحق خطرات کے سلسلے میں لاپروا، اپنی مصلحتوں کے شیش محل سے باہر نہیں نکلتے اور نہ ہی عوامی سمندر میں کوئی تغیانی آتی ہے ، اس کی ترجیحات بدستور سیاسی، جماعتی اور مسلکی مفادات کے کھونٹے سے ہی بندھی ہیں اور ملک و ملت کو بے یقینی کی دلدل میں دھکیل رہی ہے۔ عوام کو بے ثمر سیاسی تماشوں کی عادت لگا دی گئی ہے۔ اور اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اربابِ اقتدار کی عبادت گاہ میں سجدۂ شکر بجا لانے کی جلدی میں رکوع کرنا بھی بھول جاتے ہیں۔
قمر جلالی صاحب کے اس شعر اور ان دعائوں و نیک تمنائوںکے ساتھ اپنے آزادی کے اس مضمون کا اختتام چاہوں گا کہ اللہ رب العزت ہمارے ملک کو اور ہمارے ملک کو لوگوں کو لسانی، سیاسی اور عصبیت سے مبّرا ہو کر بھائی بھائی بن کر ایک ساتھ مل جل کر رہنے کی پھر سے عادت کو پروان چڑھا دیں۔باہر ﴿مغربی دنیا﴾ سے کئے گئے فیصلے اپنے اوپر مسلط کرنے کی جو روایت چل نکلی ہے اسے اللہ ہم سب کو بچائے تاکہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللّٰہ کا روحانی مقصد حاصل ہو سکے۔ ﴿آمین﴾
دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھِلے
کہیں جگہ نہ ملی میرے آشیانے کو

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button