تازہ ترینصابرمغلکالم

آنجہانی ڈیگومیرا ڈونا۔دنیائے فٹ بال کا سب سے عظیم کھلاڑی

ارجنٹائن جنوبی امریکا کا دوسرا بڑا اور رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا8واں بڑا،ہسپانوی زبان بولنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جو23صوبوں اور ایک خود مختار شہر بیونس آئرس پر مشتمل ہے،اس انتہائی خوبصورت ملک کا ہزاروں کلومیٹرحصہ ساحلی پٹی پر سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے معدنی وسائل سے مالا مال جہاں تعلیم افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے اس ملک کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے سائنسدانوں نے تین مرتبہ دنیا کا سب سے بڑا اعزاز نوبل نعام جیتا،نوبل انعام جیتنے والوں میں سب سے پہلے1947میں برناڈوہو تھے وہ پہلے لاطینی امریکی بھی تھے اسی ملک کے سائنسدان نے دنیا میں پہلا مصنوعی انسانی دل نہ صرف بنایا بلکہ اس کی کامیابی سے پیوند کاری بھی کر ڈالی،دارلحکومت بیونس آئرس سب سے بڑا شہر اور خوبصورت بندر گاہ کا حامل جودیوڈی لاپلاتا دریا کے مشرق اور بر اعظم جنوبی امریکا کے مشرقی ساحلوں پر واقع ثقافت،صنعت وغیرہ کا محور مرکز ہونے کی وجہ سے اسے جنوب کا پیرس یاجنوبی امریکہ کا پیرس بھی کہا جاتا ہے،لاطینی امریکہ کے اہم ترین شہروں میں شمار اس شہر پر16جون1955میں فضائی حملہ بھی ہو چکا ہے جس کے نتیجہ میں 365شہری لقمعہ اجل بنے یہ حملہ اس فوجی بغاوت کا نتیجہ تھا جو صدر پیرون کو ہٹانے کی وجہ سے ہوئی،ارجنٹائن کی تاریخ کا مہلک ترین قدرتی سانحہ بھی اسی شہر میں پیش آیا 30دسمبر2004کو ری بیلکاکروماگنون کنسرٹ ہال میں آگ بھڑک اٹھنے سے 200سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی تھی،کھیلوں کے حوالے سے انتہائی زرخیزخطہ کے اسی شہر میں 1951میں پین امریکہ کھیل،1950اور1990میں باسکٹ بال عالمی چیمپئین شپ،1982اور2002میں عالمی والی بال چیمپئن شپ اور1978میں فیفا ورلڈ کپ کا انعقاد ہوا جس کا فائنل 25جون کو ارجنٹائن اور نیدر لینڈ کے درمیان کھیلا گیا جو ارجنٹینانے3/1سے جیت لیا تھا، جنوبی امریکا کے دوسرے بڑے ملک ارجنٹیناکے دارلحکومت بیونس آئرس نواحی قصبے ویلانیوررتوکے رہائشی ایک غریب گھرانے میں چار بیٹیوں کے بعد بچے کی پیدائش ہوئی چھیتارو نامی محنت کش کا یہ بیٹا 30اکتوبر1960کوپولی ایومیاہسپتال میں پیدا ہوا،بیٹیوں کی پیدائش کے بعد بیٹے کے جنم پر اس کی لاطینی نژاد والدہ سلوا ڈوراانتہائی خوش تھی،اس کے بعدمزید دو بیٹے ہوگو اور راہوول پیدا ہوئے تینوں نے ہوش سنبھالنے کے بعد جہاں اپنی تعلیم جاری رکھی وہیں ان کا رجحان ارجنٹینا کے سب سے مقبول کھیل فٹ بال کی جانب رجحان قابل دید تھا،محنت کش کے بڑے بیٹے نے محض16کی ہی عمر میں مقامی فٹ بال کلب آرجینوجونیئرزمیں شمولیت اختیار کر لی اور پانچ سال تک اس کی جانب سے کھیلتا رہا،یہ نوجوان نوجوان اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت دنیا بھر میں شہرت کی بلندیوں کا پہنچ گیا کر فٹ بال کی تاریخ کا سب سے بڑاکھلاڑی ثابت ہوا،یہ مایہ ناز اسٹارفٹ بالرڈی ایلگو میرا ڈونااب اس دنیا میں نہیں رہا،60سال کی عمر میں ارجنٹائن کے سابق اٹیکنگ فیلڈراور مینجر کومیونس آئرس کے گھر دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا،رواں ماہ ہی اس کی برین سرجری بھی ہوئی تھی،میرا ڈونا کی موت کی اطلاع ملتے ہی دنیا بھر میں فٹ بال اور ان کے ذاتی پرستاروں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی،ارجنٹائن کے صدر نے اس عالمی اسٹار کی موت پر ملک بھر میں تین روز کے قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہاآپ ہمیں دنیا کی چوٹی پر لے گئے آپ نے ہمیں خوش کیا تھاآپ سب میں سے عظیم تھے شکریہ ڈی ایگوہم تمام زندگی آپ کو مس کرتے رہیں گے،برازیل کے عظیم کھلاڑی پیلے نے میرا ڈونا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاایک دن ہم اوپر آسمان پر اکٹھے بال کو کک لگاتے اکٹھے ہوں گے،ان کے انتقال پر دنیا بھر میں اظہار تعزیت کیا گیا، پاکستان فٹ بال ایسوسی ایشن نے بھی نیشنل فٹ بال کپ لاہورکے پہلے میچ میں ڈیاگو میرا ڈونا اور حال ہی انتقال کرنے والے قومی کھلاڑی ولی محمد کو خراج عقیدت پیش کرے گی،فیفا نے تمام رکن 211رکن ممبران کواس ویک یا اس کے بعد اپنے پہلے میچ میں فٹ بال لیجنڈ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک منٹ خاموشی اختیار کرنے کا کہا ہے، ان کے چاہنے والے انتہائی غمزدہ ہیں، 2018کے ورلڈ کپ منعقدہ روس کے فائنل میچ دیکھنے کے لئے آنے والے غیر ملکی رہنماؤں میں فلسطین کے صدر محمود عباس بھی شامل جن سے ملاقات میں ڈیگو نے تاریخی جملے ادا کرتے ہوئے خود کو فلسطینی قرا دیااور کہا ہمیشہ میرا دل فلسطین سے جڑااور اس کے حق میں ہے جس پر فلسطینی صدر نے میرا ڈونا سے بغلگیر ہونے والی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھایہ وہ شخص ہے جو فلسطین مین امن چاہتا ہے، ان کی آخری رسومات شہر کے مضافات بیلا ویسٹا کے مقام پر ادا کی گئیں جہاں ان کے والدین بھی مدفون ہیں کورونا کے باعث اس وقت ان کے صرف قریبی عزیز ہی موجود تھے تاہم اس وقت لاکھوں افرادان کے اعزاز میں سڑکوں نکل آئے،پولیس کو لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بھی استعمال کرنا پڑا،اس روز نیپولی کلب کے کھلاڑیوں نے یوٹیفایولیپا لیگ میں ایچ این رجیکا کے خلاف میچ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے10نمبر کی شرٹس زیب تن کیں اور سیاہ پٹیان باندھے رکھیں اس سے پہلے ان کے کپتان لورینزوای لسائن نے ساؤن پاولو سٹیڈیم کے باہر جمع ہزاروں شائقین کے ہمراہ تعزیتی تقریب میں شرکت کی،ڈیگو کے وکیل کے مطابق ان کی وفات کے وقت ان کے اکاؤنٹ میں صرف75ہزار ڈالرزموجود تھے اب ان کے ورثاء کو باقی اثاثوں مالیتی150ملین ڈالر حاصل کرنے میں قانونی طریقہ کار اختیار کرنا پڑے گاانہوں نے اپنے کیرئیر میں بہت دولت کمائی تھی وہ آخری وقت بھی بیلاروس ڈائناریرسٹ سے اعزازی چیرمین کے ناطے15ملین ڈالر وصول کر رہے تھے،آنجہانی عظیم فٹ بالر کی شرٹ بھی2ملین ڈالر میں فروخت ہونے کی امید ہے یہ شرٹ انہوں نے ورلڈ کپ 1986میں پہن رکھی تھی میچ کے بعدانگلش فٹ بالراسٹیوہوج نیان سے حاصل کی تھی جو اب انگلینڈ کے نیشنل فٹ بال میوزیم میں موجود ہے، ڈی ایگو میرا ڈونانے 1981میں پہلے کلب کو چھوڑتے ہوئے دوسرے مقامی کلب آرجینٹینوجونیئرزکلب کو جوائن کر لیااس کلب نے ان کی وجہ سے جونیئرزٹائٹل جیت لیاجو اس لیگ کا آج تک واحد ٹائٹل ہے،قومی ٹیم میں شمولیت اور شہرت کی بلندیوں پر جانے کے باوجودانہوں نے 1987سے1990تک لیگ میچ کھیلے اور اپنی ٹیم کو نیپولی لیگ اٹلی میں کیرئیرکا بہترین میچ کھیل کر لیگ کو پہلی بار فائنل میں فتح سے ہمکنار کیا 1990میں پوٹیفا کپ بھی جتوا ددیا،ڈی ایگو میرا ڈونا نے 1982سے1994تک لگا تار چار ورلڈ کپ میگا ایونٹس میں اپنی قومی ٹیم کی نمائندگی کی،وہ1986میں ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان بھی تھے انہوں نے اس ورلڈ کپ میں 5گول اور15سسٹ کئے جو آج تک کسی بھی ورلڈ کپ میں کوئی اور کھلاڑی نہیں کر سکا،اس ایونٹ میں فائنل میچ میں مغربی جرمنی کو شکست سے دوچار کر کے نہ صرف کپ اپنے ملک کے نام کیا بلکہ ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا،بلجئیم کے خلاف مقابلے میں انہیں گولڈن بال ایوارڈ بھی ملا،انہیں فٹ بال کی تاریخ کا سب سے بڑا اور عظیم ترین کھلاڑی مانا جاتا ہے اس حوالے سے فیفا نے2000میں صدی کے بہترین کھلاڑی کے چناؤ کے لئے پول کرایا جس میں وہ 53.6دفیصد ووٹوں کے ساتھ سر فہرست ٹھہرے اور اس ایوارڈ کا بھی اعزا حاصل کیاجو آج تک کوئی اور کھلاڑی حاصل نہیں کر سکا،FIFAفٹ بال کی عالمی تنظیم ہے جس کے تحت 1930سے لے کر آج تک ہر چار سال بعد فٹ بال کے ورلڈ کپ کا انعقاد کیا جاتا ہے اس دوران دوسری عالمی جنگ کی وجہ سے دو مرتبہ ملتوی کرنا پڑا تھا،ہر ٹورنامنٹ میں 32ٹیمیں شرکت کرتی اور یہ میگا ایونٹ تقریباً ایک ماہ تک ساری دنیا کو اپنے سحر میں جکڑے رکھتا ہے،کل 21عالمی مقابلوں میں 8اقوام کو کامیابی نصیب ہوئی جن میں برازیل 5بار کپ جیت کر سر فہرست جبکہ جرمنی،اٹلی 4/4،ارجنٹینا،فرانس،یوروگوئے 2/2،انگلینڈ اور سپین نے1/1بار ٹائٹل جیتا،1986میں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں ارجنٹائن اور انگلینڈ مد مقابل تھے اس میچ میں دو تاریخی کارناموں نے میرا ڈونا کوتاریخ میں مزیدنمایاں کر دیا،پہلے گول کے بعد میچ کی صورتحال ڈرامائی اور کشیدہ ہو گئی،یہ کشیدگی اس بنا پر بھی مزید بڑھی کیونکہ گراؤنڈ میں مد مقابل ٹیموں کے ممالک کے مابین کشیدگی چلی آرہی تھی صرف4سال قبل فاک لینڈ کی جنگ ہو ئی تھی،میچ کے51ویں منٹ تک میچ کا ایک بھی گول نہیں ہو سکا تھا کہ اسی اثناء میں میرا ڈونا حریف گول کیپر پیٹر نسلٹن کے ساتھ ہوا میں اچھلے اور مکا مار کر گول کر دیایہ گول کچھ سر پر لگنے اور ہینڈ آف گارڈ کی مدد سے قرار دیا گیا،میچ رک گیا تاہم کافی دیر بعد میچ کا دوبارہ آغاز ہوا ایگو میرا دونا نے اس گول کے حوالے سے دلچسپ جواب دیا کہ اگراس گول میں میرا ہاتھ شامل بھی تھاتو وہ خدا کا ہاتھ تھا،اس میچ کا دوسرا گول بھی میرا ڈونا کی قسمت میں تھا جب وہ گراؤنڈ کے درمیان میں سے گینڈ کو لے کر دوڑے اور متعدد کھلاڑیوں کو ڈاج دیتے برق رفتاری سے گول پوسٹ تک جا پہنچے اور ایسا دلکش گول کیاجسے ماہرین فٹ بال نے باضابطہ طور پر صدی کا بہترین گول قرار دیا،یوں وہ صدی کے سب سے بڑھے کھلاڑی کے ساتھ ساتھ صدی کا دلکش گول کرنے والے کھلاڑی بھی بن گئے،میرا ڈونا کو نہ جانے کیسے کوکین اور شراب کے نشے کی لت پڑا گئی اسی وجہ سے1997میں ان کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آگیاایسا پہلے بھی ان پر اسی وجہ سے15ماہ کی پابندی لگ چکی تھی تاہم اس بار انہوں نے اپنی37ویں سالگرہ پر 30ستمبر1997کوٹیم سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیاان کی ذاتی زندگی بہترین اور تاریخ ساز کیرئیر کے باوجود مسائل اور مشکلات کا شکار رہی،،2000میں ان کی سوانح حیات۔میں ڈیاگو ہوں،(Yo Soy Diego شائع ہوئی جسے بے پناہ پذیرائی ملی،2008میں انہوں نے قومی ٹیم کے ساتھ بطور مینجر شرکت کی ان کی سرپرستی میں ٹیم2010میں کوراٹر فائنل تک پہنچ سکی اس میچ میں ارجنٹینا کو جرمنی سے 4/0سے گھر بھیج دیااس بڑی شکست سے دلبرداشتہ ڈونا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا،ڈونا انتہائی طبیعت کے مالک تھے ایک بار کروشیا کی ٹیم کے خلاف3/0سے شکست پر VIPایریا میں روپڑے،متحدہ عرب امارات اور میکسیکو کی ٹیموں کا انتطام بھی ان کی زندگی کا حصہ رہا،موت کے وقت بھی وہ ارجنٹائن میں مقامی ٹاپ کی ٹیم جمناسیاالیسگریماکے انچارج تھے،2نومبر کو نفسیاتی مسائل کی وجہ سے انہیں لاپلاتا کے ہسپتال میں بھی داخل کرایا گیا تھا،میرا ڈونادنیائے فٹ بال کے وہ کھلاڑی تھے جن کی وجہ سے برک اعظم ایشیا سمیت دنیا کے کروڑوں لوگوں نیفٹ بال میچ دیکھے،جتنی شہرت انہیں نصیب ہوئی کوئی کھلاڑی آج تک حاصل نہیں کر پایا،اب ان کے 25سالہ اطالوی نژادبیٹے ڈیگوارماندو سیاگرا میرا ڈونابھی فٹ بال کی دنیا میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں،

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ: بس کی چھت سے گر کر طالبعلم ہلاک، طلباء کی توڑ پھوڑ ٗٹائر جلا کرکئی گھنٹے روڈ بلاک

یہ بھی پڑھیے :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker