تازہ ترینصابرمغلکالم

میرا گھر میری جنت کا خواب اب تعبیر کے قریب

تحریر :صابر مغل

اپنا گھر جنت سے کم نہیں ہوتا غربت کی لکیر کے بوجھ تلے دبے افراد کو وزیر اعظم عمران خان نے بر سر اقتدار آنے کے بعداپنی چھت کا خواب دکھایا تھا جس پر سیاسی مخالفین نے اس نعرے کو آسمان پر اٹھا لیا مگر جس نیت صاف ہو جذبہ نیک ہو تو انسانیت کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور ہو جاتا ہے کچھ نہ بھی ہو،منزل کھٹن بھی ہوتو کم از کم اس منزل کی جانب سفر ضرور شروع کر دیا جاتا ہے،اب بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کی جانب عملی اقدام شروع کر دیا گیا ہے، وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان ہاؤسنگ پر جیکٹ کے تحت شہر اقتدار میں اپنے اسی ویژن کو عملی جامہ بنانے کی غرض سے20ہزار گھروں کے سات منصوبوں کا با ضابطہ سنگ بنیاد رکھ دیا،یہ ایک ایسا کام ہے جس کی جس قدر بھی تعریف کی جائے جتنا بھی سراہا جائے کم ہے،یہاں لوگ اپنے گھروں کو ترستے ترستے چند گز کے گھر میں جا پہنچتے ہیں،نہ کبھی ان کے لئے کسی نے سوچا نہ غور کیا بڑی سے بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی ہر جانب بھرمار ہے مگر وہ سب کچھ ایک غریب کی پہنچ سے باہر ہے،پاکستانی تاریخ میں یہ پہلی حکومت نے جس نے اس جانب عملی کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، گھروں کی تعمیر جیسے عظیم منصوبے کی تعمیر کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ہم پر بہت تنقید کی جاتی تھی جسے ہم نے تحمل سے برداشت کیا،اب 20ہزار گھروں کی تعمیر کا آغاز ہو رہا ہے اور یہ ٹارگٹ آئندہ پانچ سالوں کے دوران 50لاکھ گھروں تک پہنچائیں گے،ہماری حکومت نے اس ہدف کے حصول کی خاطرڈیڑھ سال تک منصوبہ بندی کی،عمران خان نے سچ کہا جب معیشت ہی گوڈوں گٹوں تک دھنسی ہو تب ایسے فلاحی منصوبوں پر اتنا بلکہ اس سے بھی زیادہ وقت لگتا ہے،خیر عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں تھے،ہم نے ایسی منصوبہ بندی کی ہے کہ اب یہ سب کام نجی شعبہ کے ذریعے ہی ہو گا جبکہ حکومت اس تعمیراتی شعبے کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی،تام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی،گھر بنانے کے لئے فنانسنگ کا نظام تشکیل دیا گیا ہے تنخواہ دار طبقہ بھی اس سے مستفید ہو گامنصوبہ بندی کے بغیر بڑے شہروں کا پھیلاؤ عمل میں لایا گیا جس سے زرعی اراضی بری طرح متاثر ہوئی،شہروں کے اندر کچی آبادیاں قائم ہیں،ہم ابتدائی طور پر اسلام آباد،کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں کے لئے ماسٹر پلان کو عملی جامہ پہنانے جا رہے ہیں کچی آبادیوں کو فلیٹس بنا کر دئیے جائیں گے جبکہ بلیو ایریا کی طرح کئی پروجیکٹس کا بھی آغاز ہو گا،بڑی اور اونچی عمارتوں میں حائل رکاوٹوں کو ختم کر دیا گیا ہے،اپنے گھر سکیم سے جڑی40صنعتیں پروان چڑھیں گی جس سے انقلاب آئے گا روزگار کے کئی نئے مواقع پیدا ہوں گے ہمیں اس منصوبے کے لئے نیا اسٹرکچر بنانا پڑا،نئی ہاؤسنگ اتھارٹی قائم کی،ہم بڑی تیاری کے بعد یہاں تک پہنچے کے قابل ہوئے ہیں اب ہمارا کام آسان ہو چکا ہے،امریکہ اور برطانیہ میں 80گھر مورگیج نظام کے تحت بنائے گئے ہیں ملائیشیا میں یہ شرح 30جبکہ انڈیا میں 12فیصد ہے اور ہمارے یہ شرح شرمناک حد تک صرف0.02ٖیصد ہے کیونکہ کبھی کسی نے ان غیربوں کی جانب پالیسی بنانے کی زحمت ہی نہیں کی،اب لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے نتیجہ میں بھی یہاں کی دنیا بدل جائے گی،،عمران خان نے کہا حضرت علی ؒ کا قول ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے مگر ظلم کا نظام نہیں چل سکتا،ہم تعلیم،صحت اور نظام عدل کو درست سمت لے کر جائیں گے میری ہمیشہ سے یہی ترجیح اور خواہش رہی کہ غریبوں کو چھت فراہم ہر حالت میں کرنی ہے اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ملک بھر میں 160پناہ گاہیں بھی بنائیں عمران خان نے اس موقع پر شعبہ تعلیم میں انتہائی ابتری میں بہتری کے حوالے سے بھی انقلابی بات کرتے ہوئے کہا اس ملک میں نام نہاد اشرافیہ کے قائم کردہ تین تعلیمی نظام کا اب خاتمہ یقینی ہے ان کی اس بات میں بہت وزن تھا کیونکہ جہاں نظام تعلیم کی شاخیں ہی مختلف نوعیت یا خطوظ پر استوار ہوں وہاں طبقاتی سسٹم مزید پروان چڑھے گا کئی طرح کے کلچر ابھرتے ہیں جو اسلامی روایات،اقدار اور تہذیب کے برعکس ہے،ایسے معاشروں میں نہ تو انصاف ملتا ہے نہ ہی مجموعی طبقات کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوتی ہے،آئندہ سال سے ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم کی نوید یقیناً ویزر اعظم عمران خان کی بڑی سوچ کی عکاسی ہے انہوں نے ملک بھر میں مہنگائی کا بھی اعتراف کرتے ہوئے کہایہ سب مشکل فیصلوں سے ہوا مگر اب اس مہنگائی میں بتدریج کمی کا رجحان سامنے آ رہا ہے جو بہت حوصلہ افزا بات ہے اب شرح سود میں خاطر خواہ کمی لائی جائے گی کیونکہ اس سے قبل مہنگائی اور افراط زر کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسی شرح سود برقرار رکھنا ہماری مجبوری تھی،عمران خان نے مزید کہا صحت کارڈز کی فراہمی اب معذوروں اور خواجہ سراؤں کو دینے کے بعدمحکمہ صحت کو مکمل طور پراز سر نو تشکیل دیا جائے گا،کوئی شک نہیں کہ محکمہ صحت پاکستان میں کسی کام کا نہیں رہا،غریب لوگ لائنوں میں لگے رہتے ہیں دوائیوں کے نرخ آسمان تک پہنچ چکے ہیں،گھٹیا اور دو نمبر ادویات کے خاتمے کے لئے فائز افسران مجموعی طور پر منتھلی جیسی لعنت کا شکار ہیں،محکمہ صحت میں درستگی کرنے والے سفاک سوچ کے ھامل ہیں جبک ہیلتھ کیئر کمیشن کے نام پر لوٹ مار کا ایک نیا محکمہ معرض وجود میں آ گیا،جو کسی کو گولی ملتی تھی اب وہ بھی نہیں ملتی،سرکاری ہسپتالوں میں کچھ ہے نہیں پرائیویٹ ہسپتالوں میں ویسے خون نچوڑ لیا جاتا ہے امراء اور اشرافیہ کو اس سے کوئی غرض نہیں،عمران خان کایوم پاکستان سے چند روز قبل تاریخی سنگ میل کی جانب سفر کا آغاز اور عوام کو چھت کی فراہمی کے عملی اقدام کی شروعات انتہائی قابل تحسین ہیں،ایسے میں غریب پروری کے لئے اخوت جیسی آرگنائزیشن کو اربوں روپے کی فراہمی تا کہ اس کے ثمرات غریب آدمی تک پہنچ سکیں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے،اب میرا گھر میری جنت کا خواب پورا ہوتا نظر آئے گا

یہ بھی پڑھیں  چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر نور ٹی وی برطانیہ 7 روزہ دورے پر بھا رت روانہ

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker