تازہ ترینکالم

میراعلاج میرے چارہ گرکے پاس نہیں

sajid habibخیبرپختونخوامیں تحریک انصاف کی حکومت ہے وہاں گزشتہ دنوں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی ہڑتال کو غیر قانونی قرار دیکر لازم سروس ایکٹ کو لاگو کردیا گیاہے !اس سے قبل لاہور میں ہم نے دیکھا کہ وہاں بھی نرسوں اورینگ ڈاکٹروں پر مشتمل ایک احتجاج نے مریضوں اور ان کے لواحقین کو خوب خوار کیااور ہم نیاان مریضوں کو علاج اورمعالجہ کے لیے سسکتے ہوئے دیکھا۔جو ڈاکٹرز حضرات اور نرسیں اس قسم کی ہڑتالیں رواں رکھتے ہیں ان کے شدید تحفظات میں یا تو ان کی نوکریوں کو مستقل کرنا ہوتا ہے یا پھر ان کی تنخواہوں میں کمی یا حکومت کی جانب سے ادائیگی کا معاملہ درپیش ہوتاہے ۔ مسیحاؤں کی ان ہڑتالوں کے مقامات اکثر و بیشتر صوبائی اسمبلی یا پھر کسی مشہور چوراہے پر ہوتے ہیں ،جس کا بنیادی مقصدیہ ہوتا ہے کہ ان کی صدائیں اعلیٰ حکام اور عوام تک پہنچتی رہے !جہاں تک اعلیٰ حکام کا معاملہ ہے جب یہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تب تو یہ ان مسیحاؤں کی ہڑتالوں میں ان کے ساتھ زمینوں پر آکر بیٹھ جاتے ہیں اور حکومت وقت کی خوب برائی کرنے کے ساتھ ان ہڑتالیوں کو بھی خوب اکساتے ہیں کہ وہ ڈٹے رہے اور یہ کہ اس حکومت کا جینا حرام کردیں ہم ان کے ساتھ ہیں ،دراصل دیکھا جائے تو ان مسیحاؤں کی ہڑتالوں سے قبل بھی ان ہی کی ڈائریکشن کا عمل دخل ہوتا ہے ۔ اور جب یہ سیاستدان اپنی باری آنے پر کسی نہ کسی طرح سے اقتدار پر پہنچتے ہیں تب وہ ہی فلم دہرائی جاتی ہے مگر اس بار اقتدار اور اپوزیشن کا پلڑابدل گیاہوتا ہے ۔قائرین کرام مسیحاؤں یعنی ہمارے ڈاکٹرز حضرات کو بھی آجکل سیاست کا نشہ چڑھ گیا ہے انہیں بھی آئے روز میڈیا میں آکر اپنے مطالبات کو منواتے رہنا اچھا لگنے لگا ہے یہ تشہیر اور نیوز چینلوں کا نشہ ہے !! جس نے ملک کی درودیوار کو ہی سیاست زدہ کردیاہے ! مطالبات چاہے کچھ بھی ہومگر اس میں خطرے سے دوچار اور زخمی مریضوں کو جو مشکلات اٹھانا پڑتی ہے اس کے لیے ایمرجنسی میں جاکر دیکھنا پڑے گا اور وہ بھی کسی سرکاری ہسپتال کی جہاں پر بروقت نہ ہی ادویات ملتی ہیں اور نہ ہی ڈاکٹرز اور دیگر عملہ دستیاب ہوتا ہے !!دوستوں جہاں تک مریضوں کی بے حالی کا معاملہ ہے تو اس کی ایک لمبی کہانی ہے جب یہ مریض تندرست ہوتا ہے تب وہ مہنگائی اور بے روزگاری سے بے حال ہوتا ہے اس ناسور کی بدولت جب وہ بیمار یوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اسے تشویشناک حالت میں ہسپتالوں میں لایا جاتا ہے تو اسے نہ تو وقت پر ڈاکٹرز ملتے ہیں اور نہ ہی ادویات ملتی ہیں۔اوپر کی دولائنوں میں معاملہ مہنگائی سے شروع ہوا اور مینجمنٹ پر ختم ہو اہے ۔یعنی اس ملک کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے !!اس تحریر میں دیگر ہڑتالوں اور مزید معاملات کو باآسانی ڈسکس کیا جاسکتا ہے مگر ہم مسیحاؤں کے معاملے کو ہی اس تحریر کا حصہ رکھیں گے گزشتہ دنوں ہم نے دیکھا کہ بلاول بھٹو صاحب جو کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ ہیں کراچی کے ایک سرکاری ہسپتال میں تشریف لاتے ہیں توا ن کے بے تحاشہ پروٹوکول کی وجہ سے ایک بسمہ نام کی بچی جان سے چلی جاتی ہے ،یہاں اس بات کا زکر اس لیے ضروری سمجھا کہ جہاں ایک طرف صوبے کی انتظامیہ بلاول صاحب کے آنے اور جانے کے نشیب وفراز درست کرنے میں مگن تھی وہاں پر ہمارے ڈاکٹرز حضرات بھی ان ہی کی آوبھگت کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ہمارے حکام بالا کی کوشش ہوتی ہے کہ ان مسیحاؤں کے معاملات کو رفع دفہ کردیا جائے اس کے لیے وہ چھوٹے موٹے مزاکرات کی ناکامی کے بعد واٹر کینن کا سہارا لے لیتے ہیں جس پر معاملات کبھی ٹھیک ہوجاتے ہیں تو کبھی ان ہی کے گلے پڑجاتے ہیں مگرنہ ان تو ان مسیحاؤں کو مستقل کیا جاتاہے اور نہ ہ ہی ان کی تنخواہوں کوجاری کیا جاتا ہے ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ حکومت نے نوٹس لے لیا ۔کتنا خوبصورت لفظ ہے چاہے یہ ہی حکومت سارا ڈرامہ شروع سے لیکر آخر تک میڈیا میں بیٹھ کر دیکھتی رہی ہو مگر نوٹس لینے کا معاملہ اچانک ہی کیا جاتا ہے ،ایسے میں جب ڈاکٹر ز اور دیگر اسٹاف حکومت کی یقین دہانی کے بعدخوشی خوشی واپس چلا جاتا ہے تب ایک نہ ایک دن ان ڈاکٹرز کے خلاف سخت کارروائی کردی جاتی ہے معاملہ تو دب ہی گیا ہوتا ہے اور وہ عدے بھی رات گئی بات گئی کے مترادف ہوجاتے ہیں اس سارے ڈرامے کانقصان اس عام آدمی کا ہوتا ہے جو ساری عمر حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے دکھوں کو سہتا ہے اور جب وہ غموں سے چھلنی ہوکر ہسپتال پہنچتا تو پتہ چلتا ہے کہ ایمرجنسی بند ،اوپی ڈی بند اسٹاف غائب ۔ بعض اوقات تو ڈاکٹرز حضرات اور انتظامی افسران کا ایسا روپ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ وہ مریضو ں کو شعبہ حادثات سے نکالنے کے تشدد کا نشانہ بھی بناڈالتے ہیں۔ہڑتالیوں اور حکمرانوں کے درمیان ایک دوسرے کو طاقت دکھانے کے اس شعبے میں بڑی تعداد میں موجود مریضوں پر جو گزرتی ہے وہ یا تو اللہ ہی جانتا ہے یا پھر وہ مریض ہی بتا سکتا ہے کہ اس کے کہاں کہاں دردیں اٹھ رہی ہیں ۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹرزاور پیرا میڈیکل اسٹاف کی ہڑتالوں کے باعث مریضوں اور ایکسیڈنٹ میں لانے جانے والے مریضوں کواپنے علاج کے لیے شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ہم ان ینگ ڈاکٹرز اور دیگر میڈیکل کے شعبے سے وابستہ حضرات سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ان کے مطالبات آخر کب پورے ہونگے ؟کیا یہ مطالبات کسی بھی انسان کی زندگی سے کہیں بڑھ کر ہیں !کیا جب ان کا کوئی پیاراان کے ماں باپ ان کے رشتے دار تکلیفوںِ میں تڑپ رہے ہوتے ہیں تب بھی وہ ایسا ہی کرتے ہیں ؟ ہم حکمرانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کم ازکم سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کو ضرور بہتر بنائیں اور ان میں کام کرنے والے ڈاکٹرز دیگراسٹاف اور اس میں جھاڑومارنے والے کا بھی خیا ل رکھیں کیونکہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ان ڈاکٹرز کے مطالبات میں کی گئی ہڑتالوں میں جن مریضوں کی جانیں گئی ان کا خون آپ کے سر پر ہوگا اور ویسے بھی ان ہی حکمرانوں کی جانب سے دی گئی اذیتوں کے باعث یہ مریضوں کی شکل اختیار کرتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں  وزارتِ داخلہ کی صولت مرزا کی پھانسی رکوانے کے لیے سمری تیار

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker