امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

میراجسم میری مرضی

سچ تویہ ہے کہ میراکچھ بھی نہیں،یہ کائنات اللہ تعالیٰ کی ہے اوراس کائنات کی ہرچیزپراللہ تعالیٰ ہی کااختیارہے۔جسم میراہوتاتواس پراختیاربھی میراہوتا،میرے جسم پرمیرااختیارہوتاتومرضی بھی میری ہوتی اورمرضی میری ہوتی تواپنے جسم کوکبھی بوڑھانہ ہونے دیتا،کبھی کمزورنہ ہونے دیتا،کبھی کوئی بیماری نہ لگنے دیتا،کبھی سردی اورگرمی کی شدت سے متاثرنہ ہونے دیتاہے۔اب ہمیں فیصلہ اس بات کاکرناہے کہ آخرکسی کویہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ میراجسم میری مرضی؟سب سے پہلے یہ بتادینالازم ہے کہ جس پروگرام کے تحت میراجسم میری مرضی کانعرہ لگایاجارہاہے اس حساب سے ہم نعرہ لگانے والی مخلوق کوعورت تسلیم نہیں کرسکتے۔یہ فطری حقیقت ہے کہ عورت بے شمارقربانیاں دینے کے بعدبھی حیاکے دائرے سے نہیں نکل پاتی یہاں تک کہ جسم فروش،فحاشہ جسے گالی کے طورپرکنجری کہاجاتاہے وہ بھی اس قدربے حیانہیں ہوتی کہ سرعام کہے میراجسم میری مرضی،جب کسی جسم فروش عورت سے بات کی جائے تووہ اپنی مجبوریاں بتاتی ہے جن کے باعث وہ فحاشہ بننے پرمجبورہوئی اپنے کردارپرفخرنہیں کرتی،اپنے آپ پریہ قانون لاگوکریں تواس بات میں کوئی شک نہیں کہ میراجسم مجھے اللہ نے عطاکیاہے جس پربظاہرمیری مرضی کی ہی حکمرانی ہے پراس بات کا اعلان کرنے کی ضرورت بالکل نہیں محسوس ہوتی یعنی میراجسم میری مرضی کانعرہ لگانے والی عورت نہیں ایک فحش سوچ اورغلیظ ذہنیت ہے جودنیاکوگندہ کرکے اپنے مقاصدحاصل کرناچاہتی ہے بصورت دیگرہم یہ بات سننے کیلئے بھی تیارنہیں کہ کوئی عورت ایسی بات کرے یہاں یہ بات بھی قابل غورہے اور اس حقیقت سے انکاربھی ممکن نہیں کہ مردوں کی اکثریت عورت کوفقط جسم کی نظرسے ہی دیکھتی ہے۔الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اوراسلام ہی ہمارے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے پرذرہ سوچیں کہ جومعاشرہ عورت کودین اسلام کے مطابق حقوق نہیں دیتاوہ عورت کواسلامی اقدارکاپابندکیسے کرسکتاہے؟کیاہم عورت کووراثت میں حصہ دیتے ہیں؟کیاہم عورت کووہ عزت وہ مقام دیتے ہیں جس کادین اسلام حکم دیتاہے؟اسلام تومردکوبھی باحیارہنے کاپابندکرتاہے۔مردبے حیائی نہیں کرتاتوپھربتایاجائے کہ عورت کومیراجسم میری مرضی کانعرہ لگانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟حقیقت یہی ہے کہ ہم عورت کوجسم سے بڑھ کرکچھ نہیں سمجھتے۔عورت جتنی بھی باحیا،باکردار،باشعور،تعلیم یافتہ ہومردکسی بھی حالت میں عورت کے کردارکونہیں صرف جسم کودیکھتاہے۔جسم میراہے اورمرضی بھی اوریہ ذمہ داری بھی میری ہی ہے کہ اپنے جسم پرایسی مرضی نافذکروں جوعزت۔صحت اورفائدہ بخش ہونے کے ساتھ محفوظ ترین ہویعنی میراجسم کسی دوسرے کی مرضی سے استعمال نہ ہوسکے۔جب جسم دوسروں کے استعمال میں ہوگاتواس پرمرضی بھی دوسروں کی چلے۔جولوگ فحاشی کوفروغ دینے کی غرض سے یہ نعرہ لگارہے ہیں وہ جان لیں جسم تب تک میراہے جب تک میں اپنے جسم کودوسروں کے حوالے نہیں کرتا۔جنس مخالف کی قربت یعنی ازدواجی تعلقات صرف جسموں کی ضرورت پوری نہیں کرتے بلکہ حلال رشتے یعنی میاں بیوی کے درمیان بے پناہ محبت۔ایک دوسرے کاخیال۔اپنے بچوں کی پرورش۔اپنے والدین کی خدمت اوردیگربہت ساری محبتیں شامل رہتی ہیں۔میرے جسم پرمیری مرضی یوں نافذہوکہ دنیاوآخرت میں عزت پاجاؤں تویہ مرضی اچھی ہے جبکہ ایسی مرضی جومجھے میری ہی نظروں سے گرادے اسے مرضی نہیں ذلت و رسوائی کہاجاسکتاہے۔جوبچیاں،مائیں،بہنیں اوربیویاں اپناجائزمقام باعزت طریقے سے حاصل کرناچاہتی ہیں انہیں چاہئے کہ اپنے جسم پراللہ تعالیٰ کی مرضی یعنی حیاکے قوانین نافذکریں یہی واحدرطریقہ ہے جوعورت کودنیامیں بااختیار،باعزت اورمضبوط بناسکتاہے۔موجودہ معاشرے میں عورت کے پاس سب سے بڑی طاقت بھی جسم ہے اورکمزوری بھی لہٰذاعورت اپنے جسم کواپنی کمزوری بنانے کی بجائے طاقت بنائے تواسے میراجسم میری مرضی کانعرہ لگانے کی کوئی ضرورت نہیں۔عورت کاجسم اس کی طاقت اسی صورت بن سکتاہے کہ عورت شرم و حیاکے دائرے میں رہے اوربے حیامردوں سے خودکومحفوظ رکھے

یہ بھی پڑھیں  2013 سے 2014تک

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker