پاکستانتازہ ترین

شمالی وزیرستان: حکومت کے حامی قبائلی سردار حملے میں ہلاک

میران شاہ(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں میران شاہ کے قریب گزشتہ روز ایک بااثر حکومت کے حامی قبائلی سردار اپنے دو محافظوں سمیت ایک حملے میں ہلاک ہوگئے۔ ملک قادر خان وزیرستان کی چیف کے طور پر جانے جاتے تھے اور ایک امن کمیٹی کے رکن کی حثیت سے خدمات سرانجام دیتے تھے۔ انہوں نے 2007ء میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان ایک امن معاہدہ بھی کروایا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک قادر خان میران شاہ سے بنوں کی جانب جارہے تھے جب نامعلوم افراد نے چشمہ پل کے مقام پر ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی جو میران شاہ اور بنوں روڈ پر واقع ہے۔ قادر خان اپنے گاؤں جارہے تھے جب راستے میں ان پر حملہ کیا گیا جس میں ان کے دو محافظ بھی موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قادر خان کے محافظ کی جانب سے جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور بھی ہلاک ہوا، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے شناخت نہیں ہوسکی۔ ابتدائی طور پر اس حملے کی ذمہ داری کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے قادر خان سفر کرنے سے گریز کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مقتول قبائلی سردار حال ہی میں حکومت کی تشکیل پانے والی مذاکراتی کمیٹی سے ناخوش تھے اور مصالحتی عمل میں قبائلی رہنماؤں کو شریک کرنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ ان پر حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب حکومت اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان براہِ راست مذاکرات کے ایک دوسرے مرحلے کی تیاریاں کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  حکومت طالبان مذاکرات: حکومتی کمیٹی کا ورکنگ پیپرتیار، دونوں کمیٹیوں کی پہلی باضابطہ ملاقات خفیہ مقام پر طے پاگئی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker