تازہ ترینصدف گیلانیکالم

میری انا سلامت ہے

sudifحقیقت اور ٓزادی سے کوسوں دور رہنے والوں کو جشن آزادی مبارک ۔ احمد جاوید صاحب نے کیا خوب کہا ہے ’’آزادی ملنے میں کم وقت لگتا ہے،آزاد ہونے میں زیادہ‘‘ ملکی حالات سے ہمارا تعلق بظاہر تو بہت زیادہ ہے لیکن اگر تو لا جائے تو واجبی تعلق سے ہم لوگ آگے بڑھ نہیں پائیں گے ۔آزادی کا جشن ہمیں آزاد ہونے کا احساس دلانے کیلئے ہے اور ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں ۔ آزادی کو جشن صرف قومی ترانے اور پریڈ تک محدود ہے ۔نوجوانوں نے موٹر سائیکل لینی ہے سارا دن گھمانی ہے ،والدین نے بچوں کو سیر کروانی ہیں ۔آزادی کے لفظ سے ناواقف لوگ اسی طرح ہی کرتے ہیں ، کاش ہم جہاں سیر کے جاتے ہیں وہا ں بچوں کو تاریخ کی سچائیوں سے بھی آگاہ کرتے لیکن محدود سوچ شر کی مانند ہوتی ہے ۔آزادی کا احساس ہم میں جاگنا ہی ہی نہیں احساس ضمیر کی آواز ہے ۔مردہ ضمیر معاشروں کی فہرست میں ہم سر فہرست ہیں ۔
تاریخ کے مطالعے کے بغیر کسی بھی قسم کی سچائی سے آپ ہرگزواقف نہیں ہو سکتے ۔تاریخ کے صفحات ہی تو ہمیں اپنے ہیروز اور ولن بتاتے ہیں ، ورنہ عصر حاضر نے جہاں محمد علی کو قائد اعظم کہا وہاں کافراعظم جیسے نام بھی ملے ۔دنیا کی تاریخ اٹھا لیں آپ کو آزادی ہند کی جیسی تحریک نہیں ملے گی ۔ جب بھی کوئی ہند تاریخ پڑھے گا ایک دفعہ چونک جائے گا ،جہاں مخالف اتنا طاقتور جس کا پاس ہر قسم کا ہتھیار تھا ، عوام سے اتنا قریبی تعلق کہ دالعلوم دیو بند میں نکلنے والا ہر بیان ہر جمعے کو خاص و عام کو معلوم ہوتا تھا ،آپ کو ایسی تحریک نہیں ملے گا جہاں نہ روپہ لگا ہو ،نہ خون بہا ہو ،نہ جلسہ ہو ،نہ جلوس ہو لیکن آواز سے بچہ بچہ واقف ،لیکن مسلم لیگ کا قائد انگریزی لباس میں اور انگریز چال چلن کے باوجود مسلم کو آزادی کا خواب دیکھا رہا ہے ۔جہاں مسلم لیگ کو جلسے ،جلوس،اور پیسے کی ضرورت تھی وہاں رد مخالف ان چیزوں کافی حد تک مبرا تھا ۔توہم پرست ،برہمن کا غلام ، مولوی کا تابع فرمان معاشرے کے خلاف جنگ لڑنا دیوانے کا خواب تھا ۔لیکن قائداعظم نے لڑی ،قائداعظم نے یہ جنگ صرف حقائق کی بنیاد پر جیتی ،ورنہ تعداد ،مذہب ،دین دھرم ،اپنے سب مخالف تھے ،، مسلم لیگ کی مخالفت اس وقت کے نامور لوگوں نے کی ،مولوی کفایت ،عطااللہ شاہ بخاری ،مولانا حسین احمد مدنی ،ابوالکلام آزاد ۔ یہ شخصیات نام نہیں ایک اپنے اندر طاقت تھیں۔لیکن جنگ لڑے صرف غلامی کی نجات پانے کیلئے ۔مسلم لیگ کبھی سوتی رہی کبھی جاگتی رہی ،کبھی قائد چھوڑ کے جا رہے تھے کبھی الیکشن ہار رہے تھے ، لیکن آخر میں جیت اس سچ کی ہوئی اور ’پاک لوگوں میں سرزمین‘وجود میں آئی ۔ مسلم لیگ کا قائد ثقافت اور زبان سے عاری لگتا تھا ،جب کہ سیاست کا اول قانون ہے کہ قوم سے مماثلت اختیار کی جائے ،تاکہ آپ ان کے ساتھی اور ہم خیال نظر آئیں۔لیکن جناح سچ کی بنا پر لڑتے رہے ۔قائد اسی بات کے مصداق تھے ’وہ ایمان کیا جنت میں لے جائے گا جو مسجد تک لے جانے کیلئے قاصر ہے‘۔ اس قوم کا کیا کرنا جو سچ کو نہیں میرے لباس کو معیار قرار دے ۔آزادی حاصل کرنے کے بعد ایسے غلام ہوئے کہ ایوب خان فاطمہ جناح سے جیت جاتا ہے ۔مردمومن مرد حق اجلاس میں وزرا کو یہ کہتے ہوئے کاروائی کا جاری رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ رات بھٹو کو پھانسی دے دی گئی ہے ۔
آ ج ہمارے لئے تباہی کا موجب بننے والے بھی ہمارے لئے احترام اور مالک کا درجہ رکھتے ہیں ،قوم کو دہشت گردی میں جھونکنے والے آرام سے گھوم رہے ہیں ۔اپنے گناہ پہ نادم ہونے کی بجائے سر فخر سے بلند کرتے ہیں۔کیوں کہ غلامانہ سوچ سے اچھی طرح واقف ہیں ۔
انگریز مفکر کا قول ہے’’جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تو سیاست کا بھی اس سے کوئی تعلق نہیں رہتا ‘‘
یہی وجہ ہے کہ جذبات کی لہروں میں بہہ جانے کی وجہ سے ہم لوگ اب تک آزاد نہیں ہو پائے ۔ ہم غلام کیوں ہو گئے ۔اس پہ غور کریں وہ قوم کس طرح غلام ہو گئی جو غلامی سے نجات پا کر آئی تھی ۔بھوک کفر تک لے جاتی ہے ۔غربت ایک مذہب ہے جس کا اپنا خدا ،اپنا عقیدہ ،اپنی جنت،اپنی جہنم ہوتی ہے ۔ بے یار ومددگار یہاں آکے غلام بن گئے وسائل نہیں تھے ۔حکمران ہم نے وہ چنے جنھوں نے ہم کو غلام بنانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا ۔ خادم اعلی سے سب واقف ہیں ، ہم لوگ ہر دفعہ ان سے راشن اور خیمے تو مانگتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں پوچھا ،میاں صاحب پنجاب میں تیسری دفعہ مسلسل سیلاب آ رہا ہے ۔ آپ نے کیا اقدامات کئے ہیں لیکن ہم تو ان کو پانی میں کھڑا دیکھ لیں پھولے نہیں سماتے ۔راحت اندوری نے ہمارے لئے کہا تھا
یہ لوگ پاوں نہیں ذہن سے اپاہج ہیں
ادھر چلیں گے جدھر رہنما چلاتا ہے
ذہنی غلامی کی انتہا دیکھیں ۔کرنل (ر)شجاع خانزادہ کا سوگ مناتے ہیں ،دہشت گردی کی لعنت کا رونا روتے ہیں لیکن دہشت گردی کے اسباب سے حساب نہیں مانگتے بلکہ ماتم کی ایک صف ان کیلئے بھی ہے۔
جنرل حمید گل صاحب اس جگہ چلے گئے ہیں ۔جہاں ہم سب نے جانا ہے ۔میر تقی میر سے غلط منسوب شعر جو ’مرزا شوق لکھنوی‘ کا ہے
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے
کرنل صاحب دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہو گئے اور جنرل اپنے انا کے خول سے کبھی باہر نہ نکل سکے ۔جنرل صاحب ساری زندگی اپنے غلط فیصلے کا دفاع کرتے رہے
خالدندیم شانی کا شعر جنرل صاحب کی نظر
بچا کچھ بھی نہیں ہے مگر غنیمت ہے
شکت کھا کے بھی میری انا سلامت ہے
یہ جنرل صاحب کی ذہانت کا کمال ہے کہ ہم لوگ دہشت گردی کا شکار ہیں۔یہ جنرل صاحب کی بہادی کا نتیجہ ہے کہ پچاس ہزار سے زائد ہم لاشیں اٹھا چکے ہیں ۔یہ مرحوم کی فراست ہے کہ آج فرقہ واریت ہمارا حصہ بن چکی ہے۔انگریز مفکر نے کہا تھا ،کچھ لوگ صحیح فیصلہ کرتے ہیں لیکن بعض لوگ فیصلوں کو صحیح کرتے ہیں ،،لیکن افسوس نہ فیصلہ صحیح کر سکے اور نہ فیصلے کو صحیح کر سکے ۔جنرل صاحب کی خوبیاں اپنی جگہ لیکن ان کے کردار نے مجھے یہ شعر کہنے پر مجبور کر دیا ۔ چچاغالب سے معذرت
ٹپک رہا ہے بدن سے لہو مسلسل ہی
وطن کی جیب کو اب حاجت رفو ہے بہت
کرنل صاحب کو شہید کر کے دہشت گرد خوف کی فضا بنا رہے ہیں ،کبھی نہ مرنے والے سیاستدان دیکھتے ہیں کیا کرتے ہیں ۔امن ایک خواب لگتا تھا لیکن جنرل راحیل شریف نے خواب کو تعبیر دینے کا فیصلہ کیا ہے ، اللہ خیر کرے اب ایم کیو ایم بھی میدان میں آ گئی ہے اور دلاسہ میں مولانا صاحب آئے ہیں ،بظاہر جو کچھ ہو لیکن نیشل ایکشن پلان سے نہ پنجاب خوش ہے نہ مولانا اور نہ ہی ایم کیو ایم ۔ بعید ہے ایم کیو ایم بعد آپ کو مولانا روتے نظر آئیں ۔ پنجاب کا وزیر داخلہ کون بنتا ہے ؟ اسی میں پنجاب کا امن چھپا ہوا ہے ۔ کرنل صاحب ہی کا کارنامہ ہے جو خوف کی علامت تھے وہ مقابلے میں مارے گئے،کرنل صاحب نے پنجاب کو پاک کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔کرنل صاحب کی جرات کا نتیجہ ہے جو پنجاب میں کالعدم تنظمیں کانپ رہی تھیں۔ پنجاب میںآپریشن کی جرات صرف کرنل شہید جیسے لوگ کر سکتے ہیں ،ورنہ چھ سال تک داخلہ کے وزیر کے جوکچھ کیا ہے اس کا نمونہ آپ چودھر ی شیر علی کی پریس کانفرنس میں دیکھ چکے ہیں۔کیوں کہ پنجاب میں ایک ہی تو وزیر ہے آپ کسی بھی عام آدمی سے پنجاب کے وزیر کا پوچھ لیں سب کو ایک ہی نام آتا ہے ،دوسرا نام ہم سے کبھی سنا بھی نہیں ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  بہاولپور:چولستان جیپ ریلی کی تیاریاں مکمل

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker