تازہ ترینکالممیرافسر امان

ٍ میری کتاب بیتی ۔افتخار عارف

ادارہ اکادمی ادبیات اسلام آباد میں ’’میری کتاب بیتی‘‘ پروگرام میں جانے کا اتفاق ہوا۔اس پروگرام میں میری کتاب بیتی کے تحت، میری کہانی میری زبانی، جنابِ افتخار حسین عار ف صاحب نے پیش کی۔شاعر اور ادیب افتخار عارف کسی تعارف کے محتاج نہیں۔۲۱؍ مارچ ۱۹۴۳ء لکھنو میں پیدا ہوئے۔ پاکستان آنے سے پہلے ۱۹۶۵ء میں لکھنو یونیورسٹی ایم اے کیا۔نیویارک یونیورسٹی سے جرنل ازم میں ڈگری لی۔ اردو، انگلش اور سنسکرت زبانوں پر عبور حاصل ہے۔آٹھ کتابوں میں سے تین شاعری کے مجموعے،میرے دو نین،حرفِ باریاب اورجہانِ معلوم زیادہ مشہور ہیں۔پاکستان اکیڈمی آف لیٹر کے چیئر مین رہے۔ہلال امتیاز کے ساتھ چھ قومی اعزاز حاصل کیے۔ ادارہ فروغ قومی زبان(مقتدرہ قومی زبان) کے چیئرمین ہیں۔ برصغیر کے علم و ادب سے مالامال شہروں لکھنو ،دکھن اور دہلی کی اُردو کی باتیں تو کتابوں میں پڑھی تھیں۔ لیکن لکھنو کی علمی باتیں خود لکھنو والے کی زبانی سننے کی اور ہی بات ہے۔ افتخار عارف نے بتایا کہ بنیادی تعلیم لکھنو میں ہی حاصل کی۔ایک آنہ میں ایتوار بازار کباڑ میں پڑیں پُرانی کتابوں میں سے اپنے شوق کے مطابق خریدتے رہے۔ بقول ان کے کہ یہ کتابیں وہ تھیں کہ جب پاکستان بنا تو مسلمانوں نے پاکستان کی طرف ہجرت کی تو اپنی لائبیریوں کی لائبریریں بھارت میں چھوڑ آئے تھے۔ یہ ہمارے آباء کی وہ کتابیں تھیں جن میں ہندوستانی مسلمانوں کی تہذیب بیان کی گئی تھی۔ (راقم کے نزدیک یہ کتابیں پرانی نہیں تھی بلکہ انقلاب زدہ تھیں جو ردی میں فروخت ہو رہیں تھیں جنہیں افتخار عالم صاحب خریدتے تھے)۔کہتے ہیں میرے ننھال اہل تشیع سے تعلق رکھتے تھے اورددھال سنی القیدہ تھے۔اس ملے جلے مذہبی ماحول میں پرورش پائی۔ فرمایا کہ میرے والد صاحب محنت مزدوری کرتے تھے ۔خاندان کی مالی حالت کچھ اچھی نہیں تھی۔ والد جب شام کو گھر آتے تو کچھ آنے جیب خرچ ملتے۔ میں اتوار بازار سے ایک آنا میں کتاب خریدتا تھا۔ جس میں لغت کی نا یاب کتابیں بھی ہوتیں۔ تعلیم کے لیے لکھنو میں ہی مدرسہ میں داخل ہوا۔کالج گیاپھر لکھنو یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی۔امرء اور نوابوں کے بچے تو کاروں میں کالج جایا کرتے تھے۔ اور میں پیدل ہی کالج جایا کرتا تھا۔ علمی و ادبی شہر لکھنو کی زندگی کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا کہ ایک طرف دارالعلوم ندو ۃ العلماء کا مشہور دینی مدرسہ تھا جو بلاشبہ دارالعلوم دیو بند کے مدرسے سے بھی زیادہ علم کی خدمت کر رہا تھا۔ اس کو ابو الحسن ندوی صاحب( عرف عام میں علی میاں) کے بڑے بھائی چلا تے تھے تودوسری طرف مروجہ شاعری اور مرثیہ نگاری ہوتی تھی۔ لکھنو میں اودھ کے حکمرانوں کی لائبیری تھی جس میں نایاب کتابیں تھی جو اب بھی موجود ہیں۔لکھنو میں اہل علم حضرات ،شاعروں،ادیبوں اور مصنفوں کی ریل پیل تھی۔ کہتے ہیں میں دیکھ رہا ہوتا تھا کہ اِدھر فلاں شاعر گزر رہے ہیں تو اُدھردوسری طرف صاحب دیوان فلاں صاحب گزر رہے ہیں۔ فرمایا کہ پاکستان بننے کے بعد میں پاکستان آیا۔ ساتھ ہی پاکستان میں تین بڑے لوگوں کے نام ملازمت کے لیے رقعہ بھی لایا۔ جس میں حسب روایت لکھاہو اتھا کہ برائے مہربانی حامل رقعہ ہذا کی ملازمت کا بندوبست کروا دیا جائے۔ملازمت ملی گئی اور کرتے کراتے پاکستان کے ریڈیو اور ٹی وی تک پہنچے۔ شوبز میں کام کیا۔ برطانیہ گیا ملازمت کی۔ لندن میں روٹین سے بڑھ کر تنخواہ ملی ۔اللہ نے آسودہ حال کر دیا۔ اور اب ادارہ فروغ قومی زبان کے سربراہ ہیں۔ قومی زبان اُردو کی خدمت کے لیے کہانی سنانی شروع کی تو وہی کمزوریوں کی داستان تھی جو نہ ختم ہوئیں نہ ہی ختم ہو سکتی ہے۔(راقم اب تو عدلیہ نے اردو کو ملک میں رائج کرنے کا حکم جاری کیا ہوا ہے) ادبیوں اور شاعروں کی بات کی تو کہا کہ آجکل ہر ادیب اور شاعر اپنے آپ کو میر تقی میر اور اسداللہ غالب کے بعدان کا جان نشین سمجھتا ہے۔ شاعری میں ریاضت پر بات کی توبتایاکہُ استاد کہتے تھے کہ میر کی طرز کی پانچ غزلیں لکھ کر لاؤ۔ پھر کہتے کہ غالب کے طرز کی پانچ غزلیں لکھ کر لاؤ۔ اسی طرح کسی اور بڑے شاعر کے طرز کلام پر لکھنے کا کہتے۔آخر میں سب کو اپنے ہاتھوں سے توڑ مروڑ کر پھینک دیتے ۔اور کہتے کہ اب اپنے طرز پر لکھ کر لاؤ۔ یہ تھا شاعری سیکھنے کا طریقہ ! ذاتی زندگی پر جب روشنی ڈالنا شرع کی تو خونی رشتہ سے زیادہ ایک جیسے علمی شوق والے دوستوں کو فوقیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں رشتہ سے زیادہ ایک جیسی علمی سوچ والے مدگار ہوتے ہیں۔سلیم احمد سلیم اور شہید صلاح الدین کے لیے نیک خوہشات کا اظہار کیا۔ کہا کہ کتاب کو آجکل ایک طرف رکھ دیا گیا ہے بلکہ دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔فرمایا کتاب سے محبت کی یہ کہانی ہے کہ مجھے اُس وقت تک نیند نہیں آتی جب تک کم از کم تین گھنٹے کتاب کا مطالعہ نہ کر لوں۔مطالعہ کرتے کرتے کبھی کبھی تو رات ہی بیت جاتی ہے۔پاکستان میں قومی زبان کی خدمت پر بات کی تو بات کہاں ختم ہو تی، کہ نہ تو پاکستان میں اردو کو صحیح مقام دیا گیا نہ ہی فارسی اور نہ ہی علاقائی زبانوں پر کام کیا گیا۔کہاپاکستان بننے سے پہلے سندھ میں ادب پر کئی کتابیں لکھی گئیں۔فارسی جس میں مسلمانوں کا ادب بھرا پڑا ہے اس پر کچھ کام نہیں ہوا۔ بلکہ فارسی تو پاکستان میں نظر ہی نہیں آتی۔۔۔ میری کتاب بیتی پروگرام دائرہ وعلم ادب پاکستان کی اسلام آباد شاخ نے منعقد کرایا تھا۔ دائرہ علم و ادب اسلام آباد کے سیکرٹیری احسن حامد صاحب نے تلاوت قرآن پاک کے پرگروم شروع کیا۔ بعد میں دائرہ علم ادب پاکستان کے صدر جناب حاطب احمد صدیقی نے مہمان کو خوش آ مدیدکہا۔ ادارہ علم و ادب کے قیام پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ادار ہ گزشتہ سال رفاء یونیورسٹی کے جانسلر جناب ڈاکٹرانیس احمد صاحب کی سرپرستی میں قائم ہوا۔ اب اس کاسیٹ اپ پوری پاکستان میں قائم کر دیا گیا ہے جو تسلسل سے پروگرام کر رہے ہیں۔ اس کے مقاصد میں سرفہرست اسلام اور نظریہ پاکستان پرکام کرنے والے اہل علم ،شاعروں اور ادیبوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ اختتام پر افتخار عارف سے حاضرین کو تین سوال کرنے کا کہا گیا۔سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہ میں نے مولانا موددیؒ کو دیکھا نہیں تھا۔ جب مجھے لندن کے قیام کے دوران اس کی بیماری کا پتہ چلا تو میں ان سے ملاقات کرنے بفلو امریکا گیا۔ میں نے مولانا سے ان کے خلاف لکھنے پر معافی مانگی۔ ہنس کرکہنے لگے ایسے تو معافی تو نہیں ملتی۔ پہلے یہ بتاؤ میرا قصورکیا تھا۔پھر بات چلی تو مولانا کہنے لگے میں نے اپنی زندگی کی دعا نہیں تھی۔ بلکہ اللہ سے میں نے دعا کی تھی کہ میں سیرت سرو عالم پر اپنے دوسری جلد مکمل کر لوں۔ میری کتاب بیتی بیان کرنے والے افتخار عارف نے کہا کہ یہ تھی مولانا کی کتاب سے محبت ۔ احسن حامد نے پرگروام کی دعوت دی تھی۔ احمدحاطب صدیقی نے پروگرام کے دن فون پر یاد دھانی کرائی ۔ان ہی صاحبان کی دعوت پر اسلام آباد ادارہ اقادمی ادبیات میں منعقدہ اس علمی محفل میں ایک عظیم شاعر افتخار عالم کی ’’میر ی کتاب بیتی‘‘ ان ہی کی زبانی سننے کا موقعہ ملا جو محترم قارئین کی نظر رہاکر ہوں۔

یہ بھی پڑھیں  حجرہ شاہ مقیم :بارالیکشن،چیئرمین الیکشن بورڈ قاضی ضرغام الحق نے منتخب عہدیداران کااعلان کردیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker