شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / میرے بابا جان

میرے بابا جان

انسانی بے بسی کی انتہا ہے کہ’’اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے‘‘۔ واپسی تو طے شدہ امر ہے کہ ’’جو بھی آیا وہ آخر مکان چھوڑ گیا‘‘۔ کسی نے سچ ہی تو کہا ہے ۔ 
جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی ؟ تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں 
جنہیں جانا ہو وہ کب رکتے ہیں بھلا ! ۔اور یہ جانا بھی کیسا جانا ہے کہ انسان چاہ کر بھی رکنے پر قادر نہیں ہوتا ۔پوچھ کے آتا ہے نہ پہلے سے بتا کر جاتا ہے ۔ روتا ہوا آتا ہے ،رلا کر جاتاہے۔گمان غا لب ہے کہ جانے والا خود بھی مغموم ہو کے جاتا ہے ۔’’شبا ب سیر کو آیا تھا سوگوار گیا ‘‘۔ہاں کچھ مردانِ خدا ایسے ضرور ہوتے ہیں جو سوگواری کی بجائے سرشاری کی حالت میں اس امرِ ربی کو لبیک کہتے ہیں ۔بہت سے لوگوں کو مگر ایسی تابعداری نصیب نہیں ہوتی ۔سرکشی کرنے والوں کو تو بالکل بھی نہیں ۔کہ یہ سرشاری تومحض بندگی کا ثمرہ ہے۔معلوم ہوا ’’آزادی‘‘ سرکشی ہے اوراسکی غلامی سراسر سرشاری۔ 
کچھ دن قبل نامور قلم کار سجاد جہانیا ں کا اپنے والد صاحب کے حوالے سے ایک کالم دیکھ کر راقم کو بھی اپنے نانا جان کے حوالے سے کالم لکھنے کا خیال آیا۔سجاد صاحب نے بھی اس خیال کی تائید کی۔ کیا خبر تھی کہ اس سے قبل مجھے’’ میرے بابا جان ‘‘ لکھنا پڑ جائے گا ۔یہی زندگی ہے ۔اہلِ یقیں کے سوا سب کے لئے بے یقینی کا پہلو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ۔اور کتنی دراز کہ کچھ آرزو بانٹ لے ؛اور آرزو بھی کیا خوب کہ خود آدم زاد کا وجود بانٹ کر رکھ دے ،اور بچی کھچی انتظار کی نذر ہوجائے ۔اور انتظار بھی کتنا عجیب کہ بندہ ختم ہوجائے انتظار پھر بھی باقی ہو۔ اور پیاری کس قدر ہے کہ جانوروں ،پرندوں ،حشرات حتیٰ کہ نباتا ت تک میں اسکی بقا کی جدوجہداور اسکے دفاع کا جذبہ انکے انگ انگ سے پھوٹتا دکھائی دے ۔اور کیوں نہ ہو زندگی سے نفرت بیمار ذہنوں کی عکاس تو ہو سکتی ہے بیدار ذہنوں کی کبھی بھی نہیں ۔سو یہ ایک مثبت جذبہ ہے جو لائقِ دادو تحسین ہی نہیں قابلِ تقلید بھی ہے۔ ہاں مگر زندگی سے پیار جب موت کا انکار بن جائے تو انسان کے افکار ہی بدل کر رہ جاتے ہیں(توازن الٹ جائے تو چیزیں شدت کی سمت پلٹ جاتی ہیں،کبھی کبھی ،کبھی لوٹ کر نہ آنے کیلئے) ۔انسان کواگر مرنا نہ ہوتا تو جینا کبھی اسے مرغوب ہوتانہ جینے پروہ یوں جان چھڑکتا ۔جبھی تو یہ کہا گیا ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔لیکن جب یہ ضد انکار کی زد میں آتی ہے تو ’’اپنے اپنے مقام پر تم نہیںیا ہم نہیں ‘‘کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔موت کا انکار ممکن لیکن اس سے فرار بالکل بھی نہیں۔آئے روز اپنے کندھو ں پراپنے پیاروں کی میتیں اٹھا کر بھی زندگی پر ہمارا یقین کمزور پڑتا ہے نہ اس سے ہماری محبت میں ذرا برابر کمی واقع ہوتی ہے ۔ہزاروں اعلانات سنے،ناجانے کتنے چہرے موت کی گرد نے دھندلائے۔۔۔۔ پھر بھی یہ دل بضد ہی رہا 
’’ وے بلھے آ آساں مرناں ناہیں ۔۔۔۔گور پیا کوئی ہور ‘‘
بابِ مدینتہ العلم کا یہ فرمان آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے’’ وہ سب سے بڑی حقیقت جس کا سب سے بڑھ کر انکار کیا گیا،موت ہے‘‘۔ 
سردار پلو خان کربلائی کاخاندان خاندانی نجابت،لیاقت، شرافت،سیادت،سماجی و دینی خدمت، حمیت اور علاقائی قیادت کے حوالے سے کسی تعارف کا ہرگزمحتاج نہیں۔علی پور کی تاریخ انکی خدمات کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔تحریک پاکستان کے عظیم رہنمااور قائدِ اعظم کے جانباز سپاہی و جانثارساتھی سردار کریم بخش حیدری انہی کے فرزند تھے ۔تحریکِ پاکستان میں انکی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں (انہی کے گھر میں اللہ تعالی نے ایک ایسا بیٹا بھیجا جس نے آگے چل کر اس خاندان کا وقار بھی بننا تھا اور سنگھار بھی )مگر افسوس نااہل و محسن کش قوم اور متعصب مورخوں نے ان جیسی ناجانے کتنی ناقابلِ فراموش شخصیات کو فراموش کر ڈالا ۔جو قوم اپنے ماضی کو بھلا دے انکا وہی حشر ہوتا ہے جو ہم اپنی قوم کا بچشمِ خود مشاہدہ کر رہے ہیں۔ افسوس سامراج کو ناکوں چنے چبوانے والے ’’کعبے کے بتوں ‘‘سے ہا ر گئے۔لیکن یہ ہار مجاہدوں کے گلے کا سنگھار ہے اور مفاد پرستوں کے گلے کی رسی۔میرے دادا زندہ ہوتے تو ان کے لب پر یہ شکوہ ہرگز نہ ہوتا ۔۔۔۔ وہ حق پرست تھے مفاد پرست نہیں ۔انکی خدمات ملی جذبے کے تحت تھی نہ کہ کسی دنیاوی مفاد کے بموجب۔آج اگر انکا پوتا شکوہ کناں ہے تو محض ریکارڈ کی درستگی کے لئے ۔کیسا غضب ہے اورکیا عجب کہ قومی تاریخ میں ان لوگوں کے نام تو درج ہوں جن کا اعزاز محض یہ ہے کہ ا نہوں نے (بقول خود انکے )ایک با ر قائدِ اعظم کا خطاب سنا تھا یا ان چڑھتے سورج کے پجاریوں کے کہ جو ہوا کے رخ پر اپنا رخ پھیر لیا کرتے ہیں ،لیکن ان کا ذکر ڈھونڈے سے نہ ملے جنہوں نے ’’دامے درمے سخنے قدمے ‘‘ اس مملکتِ خدادا کے قیام ،حفاظت اور مضبوطی کے لئے کام کیا ہو۔ 
جو راہی نہ تھے راہنما بن گئے ناخن کٹا کے شہیدِ وفا بن گئے 
اپنی سوچ کو لفظوں کا روپ دینا اگر آسان کام نہیں تو اتنا مشکل بھی کبھی نہیں رہا ۔جنہیں لکھنا آتا ہے وہ کسی نہ کسی طرح اس مرحلے کو طے کر ہی لیا کرتے ہیں ۔راقم بھی آج سے پہلے تک اس مرحلے سے بارہا گزرا ۔لیکن بابا کے جانے کے بعد تو لگتا ہے میں اپنے آپ میں ہی نہیں رہا ۔باپ کی جدائی کسی بیٹے پر کیا اثرڈالتی ہے ،یہ وہی جان سکتے ہیں جو یتیمی سے اس کیفیت سے گزر چکے ہیں ۔ قلم اٹھتا ہے تو لفظوں کے اترنے سے پہلے سے اشکوں کے قافلے اتر نے لگتے ہیں ۔ جذبا ت امڈ آتے ہیں اور میرے ہاتھ روک لیتے ہیں ۔پہلی بار احساس ہوا لکھنا کوئی آسان کام ہرگز نہیں ۔اپنے قریبی لوگوں کے بارے میں توشاید کبھی بھی نہیں ۔(اب ہر کوئی’’ شہاب ‘‘تو نہیں ہوتاناں کہ ماں کے مرنے کی خبر پاتے ہی قلم ہاتھ میں تھام لے اور ’’اماں جی ‘‘جیسا شہکارتخلیق کر ڈالے) یہ میری زندگی کا مشکل ترین مرحلہ ہے قلم ،ہاتھ ،ذہن ،لفظ ۔۔۔۔کچھ بھی تو میرے اختیار میں نہیں رہا۔بابا کے بارے میں کیا لکھوں اور کیا نہیں یہ فیصلہ کرنا بھی میرے بس میں کہاں؟۔ رہ رہ کراپنی دادی اماں کا خیال آتا تھا کہ جن کا اکلوتا بیٹا انکی زندگی میں ہی اس دنیا سے منہ موڑ گیا ۔سچ کہتے ہیں اس دنیا میں آنے کی ترتیب ہے جانے کی نہیں ۔اگر یہ اختیار کسی انسان کے پاس ہوتا تو والدین یہ کبھی نہ ہونے دیتے کہ ان کے جیتے جی انکی اولاد منوں مٹی تلے جا چھپے اور وہ زمین کے اوپر بیٹھے انکا سوگ مناتے رہیں ۔آج وہ ہاتھ خالی ہیں جنہوں نے بابا کے لاڈ سہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔وفات سے کچھ روزقبل، لاہور سے واپسی پر(شوکت خانم ہسپتال سے ریڈیشن کی تکلیف سہہ لینے کے بعد) بابا اپنی ماں کے کمرے میں لائے گئے تووہاں وہ کافی دیر موجو د رہے تھے ،ماں کے پہلو میں لیٹے تو یوں لگا جیسے وہ پھر سے بچہ بن گئے ہوں،تھک ہار کر ماں کی گود میں سو جانا چاہتے ہوں ۔یوں لگا جیسے وہ آخری لمحات صرف ماں کے پاس رہ کر بِتا دینا چاہتے ہوں اور یہ بتا دینابھی کہ انسا ن خواہ کسی بھی حالت میں ہو،اپنی ماں کو ہرگز بھلا نہیں سکتا ۔اسکا عملی اظہار اس و قت ہوا جب بڑے بھائی حیدر علی حیدری کے باربار اصرار پر بھی وہ وہیں رہنے پر بضد رہے ۔اس وقت وہ مجھے کسی بچے کی مانند ضدی دکھائی دیے۔بچے بوڑھے بھی ہو جائیں تو ماں باپ کی نظر وں میں بچے ہی رہتے ہیں ۔جب جب انکی نظریں اپنے بچوں کے چہروں پر پڑتی ہیں وہ ان میں انکا گزرابچپن ہی تو ڈھونڈتے اور کھوجتے ہیں۔دادی اماں بھی رات کے اس لمحے ہاتھوں سے ٹٹول ٹٹول کر اپنے بچے کا بچپن ہی تو کھوج رہی تھیں ،ماحول میں نمی کا تناسب ایک دم بڑھ سا گیا تھا۔یہ نمکین نمی آئینہ ء چشم دھندلائے دیتی تھی۔یہ آنسو بھی بڑی عجیب شے ہیں ۔کہاں کہاں کام نہیں آتے ….یہ تو وہاں بھی کام کر جاتے ہیں جہاں باقی ساری چیزیں کچھ کام نہ دیتی ہوں ۔اگلے دن بابا کی طبیعت ناساز ہوئی تو انہیں نشتر ہسپتال لے جایا گیا جہاں سے وہ اس گاڑ ی پر واپس لائے گئے کہ جس گاڑی کا استقبال ہر کوئی آہوں ،سسکیوں اورآنسوؤں کی پتیاں نچھاورکر کے کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
دادی اماں ہیں کہ بار بار پوچھتی ہیں کیا لکھا ؟سناؤ مجھے کہ میرے بیٹے کے بارے میں تم نے کیا لکھا ہے۔(انکے بار بار اصرار پر یہ چند سطریں تحریر کر رہا ہوں) آج ہی میں ان سے بابا کی تاریخِ پیدائش پوچھی تو ان کی آواز بھرا گئی۔۔ ’’تیرے بابا اسی سا ل پیدا ہوئے جس سال پاکستان بنا تھا ۔میں نے پاکستان اور تیر ے بابا کو ایک ساتھ پالا ہے ،میرے بچے ! ‘‘۔ 
بابا کی ہمہ جہت شخصیت کا تذکرہ اپنا دامن پھیلائے بھی تو کیسے کہ قلم و قرطاس کا اپنادامن کوتاہ ہے اور تابِ سخن عاجز و ناتواں ۔خوش خلقی ،سماجی خدمت، حب الوطنی ،انسان دوستی اور امن پسندی ،انکی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے ۔یاد نہیں پڑتا کبھی انکو افسردہ دیکھا ہو۔کسی مومن کی طرح انکا دل مغموم ہوتا لیکن ہونٹوں پر سدا مسکراہٹ رقصاں رہتی۔ان سے ملنے جلنے والے میری اس بات کی تائید کریں گے کہ مشکل سے مشکل وقت میں بھی انکا چہرہ کبھی نہیں مرجھایا(مرجھایا تو موت کے بعدبھی نہیں کہ اس ہنس مکھ نے اسے بھی ہنس کر دیکھا ہوگا۔جبھی تو انکے منہ سے دانتوں کی جھلک ان سب نے دیکھی جوانکی آخری جھلک دیکھنے کو موجود تھے) ۔سماجی خدمت کا ذکر ہی کیا کہ انکی شخصیت کا سب سے زوردار حوالہ ہی یہی تھا۔جانے کہاں پڑھا تھا کہ عالمِ ارواح میں جناب موسیٰ نے ربِ اکبر سے ایک با ر یہ سوال کیاتھا کہ اے اللہ تجھے میری کون سے عادت زیادہ پسند آتی تھی۔جواب ملاجب بھی تیرے پاس کوئی سائل آتا تھاتو اسی و قت اس طرح تیار ہوجاتا کرتا جیسے یہ تیرا ذاتی کام ہو۔مجھ بے نیاز کو تیری یہ ادا بہت اچھی لگتی تھی اس پر جناب موسی ٰ بولے اے کاش مجھے اس بات کا پہلے پتہ چل جاتا تو میں سوائے اس کے اور کوئی کام نہ کرتا ……..پتہ نہیں بابا نے واقعہ پڑھ رکھا تھا یا نہیں ہاں یہ ضرور جانتا ہوں کہ ان کے کردار میں سیرتِ موسوی کی جھلک بہت نمایاں تھی۔پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں انکا وقت اولاد سے کہیں زیادہ دوسروں کے ساتھ گزرتا تھا،اتنا کہ اکثر ان کے پاس ہمارے لئے وقت ہی نہیں بچتا تھایا پھر کم کم ۔شاید ہی کوئی ہفتہ ایسا گزرا ہوجس میں وہ مسلسل علی پور میں رہے ہوں۔آخری ایک دو سال اگر ایسا ہوا بھی تو سارا وقت سماجی کاموں میں گزر جایا کرتا۔ہم خود میں الجھ جایا کرتے کہ یہ سب کیا ہے ،کیا ہماراان پراوروں جتنا حق بھی نہیں ۔ان کے جانے پر یہ راز کھلا کہ خاندان صرف ہم ہی نہیں تھے ۔وہ کسی ایک کے تھے ہی کب، وہ تو شہر بھر کے تھے ۔سب کے غم گسار سب کے دکھ درد کے ساتھی ۔ زندگی میں کوئی دن ایسا نہیں گزراجب لوگ ان ملنے اور اپنے مسئلے بیان کرنے کے لئے نہ آئے ہوں۔غم بھی کیسی عجیب چیز ہے کبھی پتھر کو موم کر دیتے ہیں تو کبھی موم کو پتھر۔۔بابا کے دکھ نے مجھے بھی رقیق القلب نہیں رہنے دیا۔وفات کے روزاپنے اردگرد لوگوں کو زارو قطارروتے پایا تو اپنی بنجر آنکھیں مجھے مایوس کئے دیتی تھیں ۔چند ہی روز ضبط کا یہ بندھن تب ٹوٹا جب دادی اماں کو’’مکانڑ‘‘ دینے ایک بوڑھی سی عورت آئی ۔اس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر درد بھرے کچھ جملے بولے تو یوں لگا میں ابھی ابھی اور واقعی یتیم ہو گیا ہوں ۔آنکھ میں رکھی نمک کی ڈلی پوری پگھل سی گئی اوربہہ نکلی۔ 
امن کے حوالے سے ایک طرف ان کی خدمات پرضلعی امن کمیٹی کی طرف سے امن یوارڈسے نوازا گیاتو دوسری جانب ا من مخالف عناصر نے ہر بار میرے بابا کا راستہ روکا اور انہیں سخت سے سخت آزار پہنچا نے سے کبھی بازنہیںآئے۔انہیں بارہا پابندِ سلاسل کرانے اور پسِ زنداں بھجوانے میں اس امن دشمن و انسانیت مخالف جتھے نے کوئی موقع کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ناجانے کتنی بار انہیں جیل جانا پڑا ۔تین باران پردفعہ تین سو دو کا نامزد پرچہ ہوا ۔ انہوں نے خندہ پیشانی سے یہ سب سہا ۔نہ کبھی ہمت ہار ی نہ ہار مانی کہ طاغوت کا انکارانکی رگوں میں خون کی طرح رواں رواں تھا ۔اپنی عمر کے آخری ایام میں بھی وہ ایک قتل کے مقدمے میں نامزد تھے ۔دو مقدموں میں باعزت بری ہوئی جبکہ تیسرے مقدمے کا فیصلہ آنے سے پیشتر زندگی کی قید سے بری ہوگئے ۔اس تلخ حقیقت کا کیا نام دیا جائے کہ ایک نامی گرامی دہشت گرد کی علی پور آمد کے دن جو المناک واقعہ علی پور کی سرزمین پر پیش آیا،میرے بابا انتظامہ کے ساتھ ایک مسجد موجود تھے ۔اسی دوران وائرلیس پر انکی ڈی پی او سے اٹھارہ منٹ گفتگو بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔لیکن کچھ ہی دیر بعد یہ اطلاع ملی کہ ان کے خلاف قتل کا نامزد پرچہ ہوچکا ہے۔پچھلی گرمیوں میں کئی ماہ انہیں پسِ زندان رہنا پڑا جس نے بابا کی صحت کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچا یا۔وہ جو بیماری کے سبب اے سی کے بغیر یہ گرم موسم گزار نہیں پاتے تھے،جیل کی تنگ و تاریک اور حبس زدہ کوٹھڑی میں ان پر کیا بیتی ہوگی اس کا اندازہ لگانا انتہائی آسان اور اسے جھیلنا حد درجہ مشکل امر ہے ۔۔۔۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے چند ہی ماہ میں وہ آدم زاد سے محض ایک یاد میں بدل کررہ گئے۔ایک زندہ و جاویدیاد ،ہر دم توانا یاد،ہر دم جواں۔۔۔۔۔ 
بہت سوں کے لئے کہانی ختم ہوئی لیکن ہمارے لئے تو اس کا ابھی آٖغاز ہوا ہے ۔انکی یا د ہمیں کب کب رلائے گی ۔ہم خود بھی اس لاعلم ہیں کہ ’’محبت تو اپنے اختتام تک کھلتی ہی نہیں ‘‘۔وہ سب لوگ بہت خوش نصیب ہی جو آبدیدہ ہوئے اور اپناغم غلط کر لیا ۔کہ غم تب کب کم ہوجا یا کرتا ہے جب دل خم ہو جائے ،آنکھ نم ہو جائے ۔لیکن ہمیں تو مولا حسین کے اس عزادارکی یا دکو ہردم زندہ رکھنا ہے،یاد کو بھی اور اپنی آنکھوں کو بھی کہ ان کی شخصیت دوسروں انکے چاہنے والوں کے لیے بالعموم اور ہمارے گھرانے کے لیے با لخصوص چراغِ راہ ہے بھی ہے نشانِ منزل بھی ۔ 
جو قوم اپنے ماضی کی حفاظت نہ کر پائے اس کا حال بد حال ہوتا ہے اور مستقبل ۔۔۔۔۔گمنام بلکہ۔۔۔معدوم ۔جس قوم کی تاریخ کا قافیہ بدل جائے اس کا جغرافیہ کب سلامت رہ سکتا ہے ؟ہمارابہت کچھ تو کب کا بگڑ چکا ہے اور جو باقی بچا ہے اسے ہمارے دشمن اور دوست نما دشمن(مذہبی و سیکولر انتہا پسندطبقات)بگاڑنے ہی نہیں مٹانے پر تلے ہیں ۔ ہمارا ناطہ،واسطہ اور رابطہ اپنے ماضی و محسنانِ ملت سے نہ ٹوٹتا تو وقت ہم پر یوں قیامت بن کر کبھی نہ ٹوٹتا۔افسوس اتنا کچھ گنوانے کے بعد بھی تاحال جڑ نہیں سکا ۔ 
سید دیدار علی زیدی (علی پور)اور سید اختر بخاری(مظفر گڑھ) ،جوان کے قریبی اور عزیز ترین دوست ہیں ،کی شفقت اور دل جوئی کی تعریف نہ کرنا پرلے درجے کی محسن کشی ہوگی ۔انکی ذات یتیمی کی کڑی دھوپ میں واقعی سائباں بنی رہی۔بابا کے جانے کے بعد اپنے بھتیجوں کے ساتھ انکا یہ حسنِ سلوک انکی انسان دوستی کی روشن دلیل ہے ۔میرے بابا کیا تھے اگر ایک جملے میں بیان کروں تو یہی کہوں گا میرے بابا ایک زندہ انسان تھے ۔میری نظر میں زندہ انسان کی تعریف یہ ہے کہ زندہ انسان وہ ہوتاہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے انسان فیض یاب ہوں ۔جو لوگ ان سے مل چکے ہیں یقیناًمیری اس بات سے اتفاق کریں گے۔ وہ جب تک زندہ رہے دوسروں کے لئے فائدے کاسبب بنے رہے ۔خدا غریقِ رحمت کرے عجب آزاد مرد تھا 
بد لا نہ تیرے بعد بھی موضوعِ گفتگو 
تو جا چکا ہے پھر بھی میری محفلوں میں ہے
قارئین باتمکین !یہ میرے چند ٹو ٹے پھوٹے الفاظ ہیں جو میں تبرکاً تحریر کئے ۔ان میں آپکو ربط کی شدید کمی محسوس ہوئی ہو گی ۔جب ضبط کا یارا نہ ہو تو ربط میں ایسی کمی کچھ ایسی غیر فطر ی بات بھی نہیں ۔بابا مجھے لکھنے کی تحریک دلایا کرتے اورمعاصر ’’خبریں‘‘ میں میری تحریر دیکھ کر بہت خوش ہوا کرتے تھے۔مجھے دینی موضوعات پر زیادہ سے لکھنے کی نصیحت بار بارکیا کرتے۔مقام شکر ہے کہ میں نے انکی زندگی میں ہی ان کی خواہش کسی حد تک پوری کی اپنی سی سعی کی ہے۔ آخر میں آپ سے وہ جملہ عرض کرتاہوا اجازت چاہوں گا جو مجھے میرے چھوٹے بھائی عرفان علی حیدری نے اس وقت کہا تھا جب میں ابو سے ملنے علی پور کی سمت روانہ تھا ،جس کی گونج سے میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ،شاید آئندہ بھی بھیگ جاتی رہیں…………………………………………….. 
’’ صفدر ! آ ونج یتیم تھی گے سے ‘‘

یہ بھی پڑھیں  دبئی: فائنل میں بارش، میچ ہار جیت کے بغیر ختم،سیریز برابر

سوچ سوالی کر جاتے ہیں 
صبحیں کالی کر جاتے ہیں
اسلم چھوڑ کے جانے والے
آنکھیں خالی کر جاتے ہیں

error: Content is Protected!!