تازہ ترینکالم

میاں صاحب گلاس نیچے رکھ دیں

rizwanبحران بڑھتا جارہا ہے کوئی امید بر نہیں آتی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ غلامی اور سرکشی خون میں شامل ہوتی ہیںیہ نہ تو پیدا کی جاسکتی ہیں نہ ہی ختم کی جاسکتی ہیں۔ موجودہ بحران کچھ اسی طرح کی انسانی جبلتوں کا مظہر ہے ۔لیکن اس کے باوجود حکومت اور میاں صاحب مسائل کا حل بڑی آسانی سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ مسائل کے گلاس کو تھامے رکھنے کی ضد میں اب حکومت واضح طور پر تھکن کا شکار نظر آرہی ہے۔ گلاس اور مسائل کے فلسفے کو سلجھنے کے لئے پروفیسر صاحب کے کلاس روم میں جانا پڑے گا۔ پروفیسر صاحب کلاس میں تشریف لائے اور ساتھ ہاتھ میں پانی سے آدھا بھرا گلاس بھی تھامے ہوئے تھے۔ انہوں نے ہاتھ میں پکڑا ہوا گلاس تمام طلباء کو دکھایا اور پوچھا”آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اس گلاس کا کتنا وزن ہے ” 50 گرام! 100گرام کسی طالب علم نے جواب دیا 125گرام ۔ الغرض مختلف طلبا ء نے اندازے سے مختلف وزن بتایا ۔ پروفیسرصاحب مسکرائے اور دوبارہ گویا ہوئے کہ میں گلاس کا وزن کنفرم نہیں کرسکتا اس وقت تک کہ جب تک میں اس کا وزن نہ کرلوں۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں اس گلاس کو چند منٹ کے لئے تھامے رکھوں تو کیا ہوگا۔ طلبا نے یک زبان ہوکر کہا کچھ بھی نہیں۔ پھر پروفیسر نے پوچھا کہ اگر میں اس گلاس کو اگلے ایک گھنٹہ تک اسی طرح تھامے رکھوں تو تب کیا فرق پڑے گا۔ طلباء نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر یک زبان ہوکر کہا کہ آپ کے بازو میں درد ہونا شروع ہوجائے گا۔ پروفیسر نے تمام طلباء کو شاباش دی کہ آپ کا جواب ٹھیک ہے اور پھر پوچھا کہ اگر میں اسے پورا ایک دن اسی طرح ہاتھ میں تھامے رکھوں تو کیا خیال ہے پھر کیا ہوگا۔ اب کی دفعہ کلاس کے سب سے ذہین لڑکے نے جواب دیا آپ کا ہاتھ جام ہوجائے گایا تو آپ کے بازو پر فالج ہوجائے گا یا پھر آپ کے بازو میں شدید پٹھوں کا درد شروع ہوجائے گا اور آپ کو اس حالت سے نجات کے لئے یقیناًہسپتال جانا پڑیگا۔ تمام طلباء نے ہنسنا شروع کردیا ۔ پروفیسر نے پھر شاباش دی او ر نیا سوال داغا۔ لیکن کیا اس سب عمل کے دوران گلاس کا وزن بھی بدلے گا ۔ طلباء نے باآواز بلند کہا نوسر۔ اگلا سوال پروفیسر نے ذرا مشکل داغاکہ پھر کونسی چیز ہے جس نے بازو میں اور پٹھوں میں کھچاؤ پیدا کیا ۔ لڑکے پریشر میں آگئے اور کنفیوز ری ایکشن شو کیا ۔ ایک لڑکے نے کہا ۔ گلاس کو نیچے رکھ دیں۔پروفیسر چلایا بالکل ٹھیک جواب۔ زندگی کے مسائل بھی اسی طرح ہوتے ہیں اگر ہم ان کو چند منٹ کے لئے سر پر سوار کریں تو ٹھیک ۔ لیکن اگر ان کے بارے میں زیادہ وقت سوچیں گے تو یہ آپ کے سر کا درد بن جائیں گے۔ اگر اس سے بھی زیادہ وقت انہیں سر پر سوار کریں گے تو یہ آپ کی ذات پر فالج گرادیں گے آپ کسی کام جوگے نہیں رہیں گے۔
آپ موجودہ حکومتی حالت اور جس طرح دھرنوں کے ساتھ ڈیلنگ کی گئی کا بغور جائزہ لیں تو آپ کوحکومت پہلے دن سے ہی پانی کا گلاس ہاتھ میں تھامے نظر آئے گی ۔شروع میں تو ہر حکومتی پروفیسر دھرنوں کے وزن کے بارے میں بند آنکھوں سے تکے لگانے میں مصروف رہا اور ہنسی مذاق میں مشغول رہے۔ کسی نے چند گرام وزن کہا تو کسی نے چند چھٹانک اور سب فلسفیوں کا خیال تھا کہ بس یہ گلاس ہم نے ایک یا دو دن ہی تھامے رکھنا ہے پھر جیسا کہ پچھلی دفعہ قادری صاحب چاردن بعد تھک کر چھلک پڑے تھے ویسے ہی خان صاحب بھی جلد ہی اس جنگ میں مایوس ہوجائیں گے۔ دھرنوں کا گلاس خالی ہوجائے گا اور پھر عوام کو بتایا جائے گا کہ گلاس تو شروع سے ہی خالی تھا۔ دھرنوں کا پہلا ہفتہ تو چند منٹوں کی طرح گزرا حکومت نے خوشی خوشی گلاس تھامے رکھا ۔پھر آہستہ آہستہ حکومت کا صبر جواب دینے لگا بازو شل ہونے لگے ۔ دھرنوں کے خلاف طاقت کا استعمال پی ایم ہاؤس کی جانب بڑھنے پر واضح اظہار تھا کہ حکومتی بازو شل ہو چکے ہیں اور یہ حکومت قبرمیں جانے کے لئے نہ سہی کم از کم ہسپتال ضرور جائے گی جہاں کافی چیر پھاڑ کر کے اس کی ضد اور ہٹ دھرمی کا علاج کیا جانے کا امکان ہے۔ لیکن حکومت ابھی بھی با ضد ہے کہ گلاس خالی ہے اور اسے تھامے رکھنا بڑی بہادری کا کام ہے لیکن آخر کب تک ۔ حکومتی بنچوں میں کوئی ایسا ہونہار شاگرد نظر نہیں آرہا ہے جو یہ کہے کہ حضور ضد جانے دیں اور گلاس کو نیچے رکھ دیں۔ جتنے عرصے سے یہ مسئلہ چل رہاہے اتنے وقت میں تو چار کیا پورے الیکشن کا آڈٹ ہوجاتاہے۔ عقل کے اندھوں کا خیال ہے کہ پارلیمنٹ کے سیشن سے جمہوریت مظبوط ہوگی لیکن لاہور کے جلسہ سے یہ ثابت ہوگیا کہ عوام اس بات پر جی جان سے اب ایمان رکھتے ہیں کہ سب چور اپنے مفادات کی خاطر اسمبلی میں اکٹھے ہیں۔ الٹی ہوگئی سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا۔ اس بحران کو بہت سے مقامات پر ٹالا جاسکتا تھا آج بھی اگر میاں صاحب قومی خدمت کا جو نقلی تاج سر پر سجائے ہوئے ہیں اتاردیں تو سب معاملہ سدھر سکتا ہے ۔ لیکن شیخ رشید نے ٹھیک کہا ہے کہ اب عمران خان یا نواز شریف میں سے کسی ایک کا سیاسی کیریئر ختم ہوگا۔ حکومتی ارکان کے علاوہ اب تو لفافہ صحافی بھی یہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ ن لیگ کا سیاسی کیریئر شدیدخطرے میں ہے۔ آئے روز کے جلسے یہ حکومت نہیں سہار سکتی ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مارنے سے بہتر ہے میاں صاحب گلاس نیچے رکھ دیں۔ اپنے خدا پر بھروسہ رکھیں اور الیکشن کا آڈٹ پی ٹی آئی کی منشاء کے مطابق کروانے کا اعلان کردیں۔ پوری ن لیگ میں ایسا نہیں کہ کوئی اور وزیراعظم بننے کا اہل نہیں۔ میاں صاحب تین دفعہ یہ مزہ لے چکے ہیں۔ اب اگر خان صاحب کے اصرار پر ہی سہی کسی دوسرے کو بھی باری لینے کا دونوں بھائی چانس دے دیں گے تو نیک نامی میں اضافہ ہی ہوگا۔ وہ کام جو آج تک نہیں ہوا کسی حکمران کے ساتھ وہ میاں صاحب کے ساتھ ہوگیا بیرون ملک بھی گو نواز گو کے نعرے ان کا پیچھا کرتے رہے کوئی کہے یہ نعرے پریشانی کا باعث نہیں تھے تو سمجھئے کہ وہ ہوا بھر کے غبارے کو پھاڑنے کی کوشش کررہا ہے۔ دن رات کی پریشانیاں ویسے بھی ا نسانی زندگی کو جہنم سے بھی بدتر بنا دیتی ہیں۔ ہوس بھلے کسی قسم کی ہو انسان کو اندر سے کھوکھلا او ر برباد کردیتی ہے۔ آدمی کے پاس مخلصانہ مشورے دینے والے نہ ہوں وہ بھی خاص کر مشکل وقت میں تو مشکل وقت اور کڑا ہوجاتاہے۔ میاں صاحب !پروفیسر اور اس کے شاگرد آپ کی حالت دیکھ کر متواتر مسکرارہے ہیں اور گو نواز گو کی بجائے پٹ دا گلاس ڈاؤن کا نعرہ لگارہے ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے آپ کا صرف بازو شل ہوا ہے گلاس رکھ دینے کے چند لمحوں بعد ہی آپ کا بازو فری حرکت کرنا شروع کردے گا ۔ بصورت دیگر آپ گلاس تھامے کھڑے رہیں گے اور دنیا آپ پر ہنستی رہے گی۔ گلاس بھلے ہی گر کر ٹوٹ بھی جائے آپ کا بازو مستقل طور پر فالج زدہ ہوجائے گا۔ پارٹی اور حکومت بچانے سے کچھ حاصل نہ ہوپائے گا البتہ اگر اس موڑ پر آپ نے عزت کمالی اس ملک کو شفاف انتخابات کا نظام دے دیا تو یہ قوم اور ملک آپ کو ہمیشہ یاد رکھیں گے بصورت دیگر حکومت تو صدا اوپر والے کی رہتی ہے لیکن آپ کو عوام تاریخ کے پنوں پر سے کھرچ کر مٹادے گی۔ویسے اس فلسفے کو آپ اپنی زندگی پر بھی اپلائی کر سکتے ہیں کیونکہ اس پر عمل کا مطلب سکھ ہی سکھ ہے کیسے یہ پھر کسی دن وآپ کو بتاؤں گا۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button