تازہ ترینعلاقائی

میاں چنوں:پولیس کی کارکردگی پرسوالیہ نشان، دہشت گردی ،دشمنی یاانتقام؟

میاں چنوں(رضا جعفری سے) تھانہ صدر پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ۔ دہشت گردی ،دشمنی یا انتقام ؟ میاں چنوں کی ملالہ(ارم) کا قاتل کون ؟ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ کی بازگشت ابھی جاری تھی کہ میاں چنوں کی-15سالہ ملالہ (ارم) بھی سکول جاتے ہوئے نامعلوم قاتل کی گولی کا شکار ہوگئی ۔معصوم بیٹی کے قتل ہوئے تقریباً ایک ماہ گزرگیا لیکن قاتلوں کا سراغ نہ لگ سکا ۔ظلم و بربریت کا شکار ہونے کے باوجود کسی حکمران ،سیاستدان یا اہم انتظامی آفیسر نے رابطہ نہیں کیا ،مقتولہ طالبہ کا والدعبدالکریم ۔-15سالہ میٹرک کی معصوم طالبہ ارم کو اس وقت ٹارگٹ کلینگ کا نشانہ بنایا گیا جب وہ موٹرسائیکل رکشہ پر دیگر طالبات کے ساتھ اپنے سکول کی جانب جارہی تھی ۔ہمیں انصاف چایئے ماں اور بہن کی دہائی۔ اس واقعہ کی وجہ علاقہ میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے اکثر طالبات نے سکول جانا چھوڑ دیا ہے ، ۔۔سوات کی طالبہ ملالہ یوسف زئی پر دہشت گردوں کی جانب سے قاتلانہ حملہ کی بازگشت ابھی جاری تھی کہ -20اکتوبر کو صبح تقریباً -8بجے نواحی بہاری کالونی کی رہائشی-15سالہ میٹرک کی طالبہ ارم بی بی کو اس وقت فائرنگ سے شدید زخمی کردیا گیا جب وہ نواحی گاؤں چک نمبر115پندرہ ایل میں اپنے سکو ل کی طرف موٹرسائیکل رکشہ پر دیگر طالبات کے ہمراہ جارہی تھی جس پر اسے نہائت تشویش ناک حالت میں نشتر ہسپتال ملتان لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکی اور جاں بحق ہوگئی لیکن سوات کی ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ کی طرح اس واقعہ کو حکومت یا میڈیا کی جانب سے مناسب توجہ نہ مل سکی معلومات حاصل کیں گئیں تو پتہ چلا کہ مقتولہ لڑکی کے گھر والے بہاری نہیں لیکن ذاتی مکان نہ ہونے کی وجہ سے بہاری کالونی کا کوارٹرنمبرE47 کرایہ پر حاصل کرکے رہائش پزیر ہیں جب ان کے کوارٹر کے سامنے پہنچے تو ہمسائیوں سے معلوم ہوا کہ وہ اپنا کوارٹر لاک کر کے اپنے رشتہ داروں کے ہاں جناح ٹاؤن میں موجود ’’نیلم ہاؤس‘‘ میاں چنوں گئے ہوئے ہیں جس پر مقتولہ طالبہ کے قتل کے روز اس کے ساتھ موٹرسائیکل رکشہ پرموجود دیگر طالبات سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا جس پر دیگر-5طالبات سے رابطہ کی کوشش کی مگر اکثر کے والدین نے اپنی بیٹیوں کے بیانات ریکارڈ کرانے سے انکار کردیا تاہم ایک طالبہ ثانیہ نواز جوکہ مقتولہ طالبہ ارم کے قتل کے وقت موٹرسائیکل رکشہ کی اگلی سیٹ پر بیٹھی تھی کے والد محمدنوازنے اپنی بیٹی کا بیان ریکارڈ کروانے کی حامی بھری جب اس ساتویں کلاس کی طالبہ ثانیہ نوازسے وقوعہ بارے استفسار کیا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ وہ ارم بی بی کے قتل کے اس وقوعہ کے وقت موٹرسائیکل رکشہ کی اگلی سیٹ پر بیٹھی تھی ہمارے رکشہ سے آگے بھی ایک رکشہ طالبات کو لے کر جارہا تھا کہ چک نمبر 115پندرہ ایل جاتے ہوئے راستے میں روڈ پر موجود سائیڈ پر لگے ایک بڑے لوہے کے بورڈ کے قریب پہنچے تو اچانک دھماکے کی آواز آئی تو ہم طالبات اور رکشہ ڈرائیور جوکہ چھوٹی عمر کا 14/15سال کا ہے سمجھا کہ موٹرسائیکل رکشہ کا ٹائر پھٹ گیا ہے موٹرسائیکل رکشہ کچھ دور آگے جاکر رکا تو پچھلی سیٹ کے درمیان میں بیٹھی ہوئی ارم بی بی نے چیخ ماری ہائے امّی کہا اورسڑک پر گر گئی تو میں نے دیگر طالبات کے ہمراہ موٹرسائیکل رکشہ سے اتر کر اسے اٹھانے کی کوشش کی تو اس دوران ایک سائیکل والے نے سڑک پر پڑی کوئی چیز اٹھائی اور چلا گیا جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا ان کو اس وقت معلوم ہوگیا تھا کہ ارم کو گولی لگی ہے تو اس کا جواب نہ میں تھا ۔بعد ازاں اس کے والد محمد نوازکا کہنا تھا کہ اس واقعہ کی وجہ علاقہ میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے اکثر طالبات نے سکول جانا چھوڑ دیا ہے اور اس نوجوان موٹرسائیکل رکشہ ڈرائیور سمیت جو مقتولہ طالبہ ارم بی بی وغیرہ کو سکول لے کر جاتا تھا کئی موٹرسائیکل رکشہ کے ڈرائیورز نے طالبات کو سکول لے جانے سے ا نکار کردیا ہے جس وجہ سے طالبات حصول تعلیم سے محروم ہوگئی ہیں اس کے بعدتھانہ صدر میاں چنوں پہنچ کر اس وقوعہ بارے استفسار کیا گیاتو پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے شک پر بہاری کالونی کے رہائشی ایک شخص کو گرفتار کیا تھا مگروہ بے گناہ نکلا جس پر اسے چھوڑ دیا اب مدعی کچھ بتائے کی پر شک کا اظہار کرے تو کارروائی کریں وہ کچھ بتانے کو تیار نہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی بتاتا ہے کہ راستے میں پہلے سے کیری ڈبہ کھڑا تھا جس سے نکل کر ایک آدمی نے فائر کیا کوئی بتاتا ہے کہ سائیکل سوار تھا اور کوئی بتاتا ہے کہ جب فائر ہوا تو موٹرسائیکل رکشہ کو ایک موٹرسائیکل نے کراس کیا اس لئے اب تک کوئی پتہ نہیں چل سکا جس کے بعد جناح ٹاؤن میں نیلم ہاؤس پہنچ کر مقتولہ طالبہ ارم کے والدحاجی عبدالکریم سے رابطہ کیا گیاتو اس کا کہنا تھا کہ وہ دل کا مریض ہے انہوں نے غربت کے عالم میں بہاری کالونی میں جاکر پناہ لی تھی لیکن بیٹی ارم کے قتل کے بعد خوف کی وجہ سے اپنے بیوی بچوں سمیت اپنے بھائی کے گھرنیلم ہاؤس میں پناہ لئے ہوئے ہوں اس کا کہناتھا کہ اس کی یا اس کے گھر والوں کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے نہ جانے کیوں میری معصوم بیٹی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے ایک ماہ ہونے کو ہے مگر پولیس تاحال قاتل کو گرفتار تو کیا کرنا اس کا سراغ بھی نہیں لگا سکی اتنا بڑا واقعہ ہوگیا مگر نہ کسی حکمران نے رابطہ کیا اور نہ کسی اعلیٰ انتظامی آفیسر نے یہاں تک مقامی سیاستدانوں نے بھی رابطہ کرنا گوارہ نہیں کیا پولیس کہتی ہے کہ بتاؤ کس پر شک ہے یا قاتل کی نشاندہی کرو تو کارروائی کرتے ہیں اب میں کس کا نام لوں جب اس سے اس واقعہ کی تفصیل بتانے کا کہا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ اس روز اس کی بیٹی ارم سکول جاتے ہوئے اسے بار بار دیکھ رہی تھی تقریباً پونے آٹھ بجے صبح اسے موٹرسائیکل رکشہ پر دیگر طالبات کے ہمراہ بٹھایا وہ پچھلی سیٹ پر درمیان میں بیٹھی تھی اسے گئے ابھی 10/15منٹ گزرے تھے کہ اطلاع مل گئی ہے کہ اسے گولی مار دی گئی ہے موٹرسائیکل رکشے والا ہی اسے ہسپتال پہنچانے کیلئے لے گیا لیکن بستی اوڈاں والی کے قریب رکشہ کا ٹائر پینکچرہوگیا جس پر ارم کو-2 موٹرسائیکل والے پہلے تھانہ صدر اور اس کے بعد تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میاں چنوں لے گئے جہاں سے اسے ا یمولینس کے ذریعے نشتر ہسپتال ملتان لے جا یا گیا مگر وہ جاں بحق ہوگئی ۔اس موقعہ پر مقتولہ طالبہ ارم کی والدہ اور بہن کا کہنا تھا کہ ارم کو پڑھنے کا بہت شوق تھا وہ ایک لائق طالبہ تھی لیکن ظالموں نے اسے مار ڈالا ارم کی ماں اور بہن نے روتے ہوئے بتایا کہ ارم کا والد دل کا مریض ہے جانے کس نے ہمیں یہ صدمہ دیا ہے جوکہ ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے ہمیں انصاف چاہئے انہوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری،وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک،گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ ،خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف ،آئی جی پولیس پنجاب حبیب الرحمان ،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رائے اعجاز احمد کھرل سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد جلد از ارم بی بی کے قاتلوں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔اہل علاقہ نے میاں چنوں میں ارم بی بی نامی معصوم بچی کے قتل کووفاقی و صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ کیلئے لمحہ فکریہ قرار دیا ہے اور اس بابت بھی تعجب کا اظہار کیا ہے کہ سوات کی طالبہ ملالہ پر قاتلانہ حملے کے بعد پاکستان بھر سمیت دنیا بھر میں پیدا ہونے والی حساسیت کے باوجود میاں چنوں کی اس معصوم طالبہ کے اس بہیمانہ قتل کو حکومتی شخصیات اور اداروں نے کیوں یکسر نظر انداز کردیا ہے جوکہ پاکستان کے صوبائی و وفاقی حکمرانوں و اداروں کی ذمہ داری اور کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ :ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اوکاڑہ کے نومنتخب صدر مرزا ذولفقار علی ایڈووکیٹ کا ضلع کچہری آمد پر وکلاءکی جانب سے شاندار استقبال

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker