تازہ ترینکالم

ملاوٹ زدہ معاشرہ

rizwan khanنوازگل سیدھا سادھا پٹھان ہے دل کا بھی بہت اچھا انسان ہے کھانا پینا اس کی ہابی ہے لیکن یہ پچھلے چند دن سے بجھا بجھا سا اور پریشان ہے اس کی اس اداسی اور پریشانی کی وجہ میں ہوں۔ اس کی پریشانی کا آغاز اس وقت ہوا جب مارکیٹ میں گدھے کے گوشت کی خبریں عام ہوئیں ۔ یہ بھلا مانس آدمی خوش خوش ایک صبح میرے پاس آیا ۔گدھوں کے گوشت کی فروخت اور حکومتی اقدامات کی خبر اس دن کے تمام اخبارات کے مین پیج پر چھپی ہوئی تھی ۔ بھولے عوام کے پاس اب اس پر یقین کرنے کے سوا چارہ نہیں تھا ۔اس سے پہلے بھی میں نے نواز گل کی بڑے گوشت سے رغبت دیکھ کر اسے گدھوں کے گوشت کی فروخت کی خبردی لیکن اس نے اگنور کردیا ۔ آج بھی معمول کے مطابق اس نے اپنے پٹھانوں والے لہجے میں اسے پھر مذاق قرار دیا میں نے اخبار اس کے سامنے پھیلا دیا بے چارہ ان پرْھ سیدھا سادھا انسان آج یقین کرنے پر مجبورتھا ۔ اس نے گھرجاتے ہی بیف پر پابندی کا اعلان کردیا اس کے بیٹوں بہوؤں بیوی نے بہتیرا سمجھایا مگر خان صاحب نے اٹل فیصلہ سنا دیا ۔ پریشانی یہ تھی کہ یہ سیدھا سادھا انسان اب کھائے تو کیا کھائے ۔ میں نے مشورہ دیا کہ میاں دالوں سبزیوں کا سہارا لو۔ صحت کی صحت بچت کی بچت۔ چند دن تو اس نے سبزیوں پر گزارہ کیا لیکن سبزیاں بھی چند دن بعد ریجیکٹ ہوگئیں جب اس نے آکر دریافت کیا کہ کیا ڈسپوزل کا گندا پانی کھیتوں میں جاتاہے میں نے اقرار کیا کہ یہ پانی پہلے نہروں میں مکس کیا جاتا ہے بالا آخر کھیتوں میں آب پاشی کے لئے سپلائی ہوتا ہے ۔ پھل ہر کسی کی رینج سے پہلے ہی باہر ہوچکے ہیں۔امید کی تان ہماری قومی خوراک برائیلر پر آن رکی ۔ یہاں بھی خان صاحب کی بات سوفیصد درست تھی کہ ان مرغیوں کی خوراک بھی ان کی آنتوں اور فضلے سے بنائی جاتی ہے ۔ مارکیٹ میں مردہ مرغیوں کی فروخت کی اطلاعات بمعہ ویڈیوز دستیاب ہیں۔ برڈ فلو کی تلوار الگ سے پورا سال لٹکتی رہتی ہے خان صاحب نے حد درجہ دکھی ہو کر پوچھا صاحب آپ خود ہی بتاؤ ہم کیا کھاوے ۔مجھے اپنا آپ مجرم محسوس ہوا۔ آگہی بھی ایک سزاہے ۔ خان صاحب اپنے بھولے پن میں سب کچھ انجوائے کر رہے تھے میں نے ہنسی مذاق میں ان کے ذہن میں آگہی کا بیج بودیا ۔ اس دن سے میں پشیمان اور خان صاحب پریشان ہیں۔ مجھے لیٹ نائیٹ ٹی وی دیکھنے کی لت ہے میں ڈسکوری اور اینمل پلانٹ دوہی چینلز دیکھتا ہوں میرے اندر کا خبروں کا چسکوٹ پاکستانی مجھے ڈائریکٹ ان چینلز پر سوئچ آن ہونے نہیں دیتا۔دل کی خواہش کے مطابق میں تمام نیوز چینلزسے اپنا ٹھرک پورا کرتا ہوا گزرتاہوں لیکن یہ ٹھرک مجھے فرسٹریشن کے سوا کچھ نہیں دیتا ۔کبھی کسی چینل پر گدھوں کے گوشت کی فروخت کی خبر ناچ رہی ہوتی ہے تو کہیں پولیس مردہ انسانوں کے گوشت کھانے والوں کو ہتھکڑیاں لگائے دکھائی دیتی ہے کہیں مردہ بیمار بھینسوں کا گوشت بیچنے والے قصابوں کے پیچھے کیمرہ مین بھاگ رہے ہوتے ہیں توکبھی گھی بال صفا پاؤڈر سے بنا ہوا دودھ سپلائی ہوتا بنتا دکھایا جا رہا ہوتا ہے ۔کبھی غیر ملکی فوڈ چینز کے کچنز کی وڈیو ز منظر عام پر آجاتی ہیں کہیں کوئی ڈیزل نما دو نمبر کوکنگ آئل میں نمکو فرائی کرتا ہوا دکھایا جارہا ہوتاہے۔ یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے چند دن پہلے میرے ایک دوست ملنے آئے یہ صاحب فروٹ چاٹ کے بڑے رسیا ہیں ان کی خواہش کے مطا بق ان کی من پسند فروٹ چاٹ والی دکان پر بندہ بھیجا گیا اس مسلما ن نے شدید گرمی اور حبس میں پڑی خراب فروٹ چاٹ بڑی خوبصورت پیکنگ میں سجا کر بجھوادی۔ ان صاحب کا معدہ تو مار سہہ گیا لیکن میرا معدہ یہ ظلم برداشت نہ کرپایا نتیجہ ہیضہ کی صورت میں نکلا ۔ گویا مہمان کی خواہش کا احترام کرکے میں نے پانچ دن بستر اور لیٹرین کا چکر لگاتے ہوئے گزارے۔ اس دوران ڈاکٹروں نے میرا کتنی محبت اور دل لگی سے علاج کیا وہ الگ کہانی ہے ۔ شدید گرمیوں کے سیزن میں طویل لوڈشیڈنگ زدہ ملک میں باہر سے کچھ منگوا کر کھانا خود کو بیماری کے منہ دھکیلنے والی بات ہے ایک طرف تو یہ حال ہے کہ سموسے میں کالی مرچ کی جگہ مکوڑے میں نے خود دیکھے ہیں ۔ دودھ بال صفا پاؤڈر سے بن رہا ہے بیف پلاؤ میں گدھا ڈکار رہا ہے ۔ دوسری طرف گورا بغیر ہاتھ لگائے حرام شراب تیار کر رہا ہے ۔کیا صفائی اور ایمانداری کا لیول ہے سیبوں کو توڑنے سے لے کر بوتلوں میں پیکنگ تک مجال ہے جو کہیں انسانی ہاتھ ٹچ بھی ہوجائے ۔ انسانی ہاتھ مشینوں کو تو چھو کر آپریٹ کرسکتے ہیں لیکن میٹریل کو چھونا تو درکنار انسان سونگھ کر بھی اسے آلودہ نہیں کرسکتا ۔ ایک طرف ہم وہ لوگ جن کے مذہب نے صفائی کو نصف ایمان قرارد یا ہے ۔ صفائی تو کیا رکھنی ہماری خوراک سے لیکر ہمارے ذہنوں میں ہر طرف غلاظت کا ڈھیرہے۔ جھٹکا حرام قرار دینے والے گدھوں کا گوشت مرد ہ مرغیاں چپڑ چپڑ کرکے کھاتے جارہے ہیں اور ڈکار بھی لینے کے روادار نہیں ۔ ایسی خوراک ہماری سوچ ہمارے جسم ہمارے دماغ کو وہی کچھ دے گی جو ہر طرف معاشرے میں نظر آرہا ہے گند ہی گند۔ایک صاحب جو غلاظت کے ڈھیر سے خوش ذائقہ نمکو بناتے جب پکڑے گئے تو الٹا برس رہے تھے کہ اتنا غرورنہ کرو اس گند کو دکھانے سے پہلے خود سوچو کہ انسان کتنا گندا ہے اور کس حرام نطفے سے بنا ہے ۔واہ رے مسلمانو! ہمارے گندے ذہن اور ان میں پلنے والی مکروہ Logics۔کیا آپ میں سے کسی کا دل نہیں چاہتا کہ حکومت کو سب s cosmetic activitieچھوڑ کر فوڈ چین اینڈ سسٹم پر سب سے پہلے توجہ دینا چاہیے ۔ کیا گدھوں کا گوشت مردہ مرغیاں بیچنے والوں کی یہ سزا نہیں ہونی چاہیے کہ انہیں قید کرکے دن رات وہی کچھ کھلایا جائے جو یہ دوسروں کو کھلانے پر لگے ہوئے تھے ۔ یہ غیر معیاری چیزیں عوام و خواص ہر کوئی کھا رہاہے اس کے برعکس حکومت نے وہی پرانی روایت کے مطابق قصابوں کے لائسنس بنانے کا کام شروع کردیا ہے ۔حضور یہ سب کچھ تو پہلے بھی کئی دفعہ ہو چکا ہے نتیجہ اس کا الٹا نکلتاہے کہ فوڈ انسپکٹرز کی موجیں لگ جاتی ہیں ان کی اور ان کے افسروں کے ہرے دن مزید ہرے بھرے ہوجاتے ہیں۔ جس ملک کا صدر وزیراعظم تمام ارکان اسمبلی غیر معیاری گوشت کھا رہے ہوں انہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اپنی کارکردگی کا دن رات رونا روتے رہیں۔ ان کی کارکردگی کے گواہ ان کے معدے ہیں یا مسکراتے گدھا گوشت فروش ۔

یہ بھی پڑھیں  سنجھورو:چچا نے بھتیجی کو قتل کرنے کے بعد درگور کردیا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker