تازہ ترینرفاقت حسینکالم

مضر صحت دودھ کی فروخت۔۔۔ذمہ دار کون؟

دودھ غذائیت سے بھر پور ایک قدرتی غذائی مرکب ہے ۔قدرت کی بیش بہا نعمتوں میں سے ایک جس کی بھر پور اور بے مثال افادیت کے باعث اسے رب کریم نے پانی کے بعد کثیر تعدار و مقدار میں انسانیت کو نوازا ہے۔یہ انسانی ضروریات کو اس قدر مکمل حیات بخش لوازمات سے بہرہ مند کرنے والی یہ غذا تقریباً ہر انسان اور جانور کے لیے یکساں مفید ہے ۔دودھ کی طبعی ‘غذائی اور طبی افادیت اور خصوصیات کے پیش نظر اس کو مختلف پراڈکٹس میں تبدیل کر کے انسان نے حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ملکی اور فروئی پراڈکٹس ہی انسان کے لیے نیچرل فوڈسپلیمنٹ کی ضرورت پوری کررہی ہیں۔گو مصنوعات کے معیاری اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہونے کی اشد ضرورت نے انسانی معاشرے کو مسلسل ترقی و تحقیق پر گامزن کر رکھا ہے تاہم اس شعبے کی حساسیت کی وجہ سے بہت سے ہنگامی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔جب ہم اپنے صنعتی اور مارکیٹنگ جیسے اہم شعبہ جات کی مسلسل نگرانی اور بہتری کی بات کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتاہے کہ اس اہم ترین غذائی مسئلے کو درپیش خطرات بڑے واضح اور صاف نظر آتے ہیں۔مثلاً صنعتی پراجیکٹس میں استعمال ہونے والاRAW MATERIALاکٹھا کرتے وقت اور بعدازاں اس کو مختلف پراڈکٹس میں کنورٹconvertکرتے وقت کوالٹی کنٹرول اور طبی اصولوں کو لازم طورپر محلوظ رکھنا اشد ضرور ی ہے۔مثلاً مختلف قسم کے دودھ (جو مقامی ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں)اور صنعتی مرکبات جو اس سارے پراسس میں استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں آپ کیمیکلز کے نام سے جانتے ہیں یا ایکسٹریکٹ کے طور پر شامل کیے جاتے ہیں ان کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے بہت زیادہ تجربے اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے مگر اپنے ملک کے صنعتی ڈھانچے اور مارکیٹنگ ک نظام کی چھان بین کریں تو اس میں بہت ساری قباحتیں اور کمزوریاں نظر آئیں گی۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات یہی غذائی اشیاء زیادہ استعمال کے باعث انسانی جان کے لیے بعض خطرات کو بڑھا دیتی ہیں۔جس طرح علاج اور ادویات کا استعمال انسانی زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے اور اس کے معیار کا لازمی طور پر خیال رکھنا چاہیے اسی طرح غذائی ضروریات کے لیے جو پراڈکٹس صنعتی طور پر تیار کی جاتی ہیں ان کے معیار کی جانچ پڑتال انتہائی ضروری ہے۔میں دعوے سے کہتا ہوں اگر آج غذائی اشیاء کے معیار کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق چیک کیا جائے تو واضح خرابیاں منظر عام پر آئیں گی۔
بڑے افسوس کے ساتھ یہاں کہنا پڑرہا ہے کہ وطن عزیز کے ہر گاؤں اور شہر میں مضر صحت دودھ کی فروخت عا م ہے ۔شہری انجانے میں ملاوٹ شدہ غیر معیاری دودھ پینے پر مجبور ہیں فوڈسیفٹی اینڈ سٹینڈ رڈ اتھارٹی کی جانب سے دودھ کی مناسب چیکنگ نہ ہونے کے باعث دوکانوں پر زہریلا اور ملاوٹ شدہ دودھ فروخت ہورہا ہے ضلعی انتظامیہ اور فوڈڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے
گوالوں اور دودھ فروشوں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔غیر ملکی این جی او نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ لاہور‘کراچی‘اسلام آباد‘راولپنڈی‘پشاور اور دیگر بڑے شہروں میں کئی دکانوں پر ڈیری فارمز اور گوالوں کی طرف سے زہریلا دودھ فروخت ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈیری فارمز اور دودھ فروخت کرنے والے دکاندار خالص دودھ میں سے کریم نکالنے کے بعد مختلف طریقے سے دودھ کو گاڑھا کرتے اور دودھ کو گاڑھا کرنے کیلئے یوریا کھاد‘ناقص تیل ‘پنسلین ‘کاسٹک سوڈا‘ہیر ریمور پاؤڈر استعمال کیا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ دودھ کو دیر پا رکھنے کیلئے اس میں میلا ما ئن کی مقدار زیادہ رکھی جاتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ان اجزاء سے ملاوٹ کیا جانے والا دودھ کسی بھی’’جاندار‘‘کیلئے مضر ہے اس زہریلے دودھ کو پینے سے سب سے زیادہ شیر خوار بچے متاثر ہوتے ہیں۔انجانے میں زہریلا دودھ پینے سے آج ہزاروں شہری ہڈیوں کے کینسر اور معدہ کے امراض میں مبتلا ہوچکے اور ان امراض میں دن بدن غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے ۔موجودہ دور میں خالص اشیاء کا مل جا نا کسی معجزے سے کم نہیں انسان دودھ میں پانی تو برداشت کر لیتا تھا مگر ہر گلی محلے میں چند ٹکوں کی خاطر دودھ کی آڑ میں بیماریاں اور موت فروخت والے ما فیازکے گریبانوں تک کون پہنچے گا ؟کیونکہ ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں اور فوڈ کنٹرول اتھارٹی کے افسران نے تو اپنا ایمان چند روپوں میں بیچ کر آنکھیں بند کرلیں ہیں لہٰذا شہریوں کو اپنی صحت کا خیال رکھنے کیلئے خود ہی اپنی آنکھیں’’کھلی ‘‘رکھنی ہونگی۔عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو پوری دنیا کے مقابلے میں صرف اور صرف برصغیر اور بعض افریقی ممالک میں نقصان دہ طریقوں سے دودھ کی پیکنگ کی جاتی ہے جبکہ دنیا کے باقی ممالک میں ایسا ہرگز نہیں ہوتا پاکستان دنیا میں دودھ کی پیداوار کے حوالے سے سا تویں نمبر پر سب سے زیادہ دودھ کی پیداوار حاصل کرتا ہے ۔پاکستان ہر سال 20ارب لیٹر دودھ پیدا کرتا ہے تین ارب لیٹر دودھ پیکٹوں میں بند کیا جاتا ہے جبکہ 18ارب لیٹر دودھ کھلے عام فروخت کیا جاتا ہے اور گھریلو استعمال میں لایا جاتا ہے۔وطن عزیز میں تقریباً روزانہ99فیصد کھلا دودھ گوالے فروخت کرتے ہیں اور کھلا فروخت ہونے والے دودھ میں ہی ملاوٹ کی جارہی ہے اگر دودھ میں ملاوٹ کے عمل کو روکنے کیلئے فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس سے زیادہ خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں ۔ہمارے ملک کے سیاستدان اور اشرافیہ پر مشتمل اسٹیبلشمنٹ اگر ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہا سکتی تو کم از کم صنعتی پیمانے کی جانچ پڑتال کو لازم قرار دیا جائے اورکوالٹی کنٹرول کا ایسا معیار قائم کیا جائے جو بین الاقوامی اصولوں کو پامال کرنے کا سبب نہ بنے اور انسانی زندگی کے لیے لاحق خطرات کو ہمیشہ کے لیے دور کیا جائے ورنہ افادیت کی بجائے یہ صنعتی پراڈکٹس انسانی زندگی کے لیے عوارض کاباعث بنتی رہیں گی۔ضرورت اس امرکی ہے کہ پاکستانی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے غذائی ضروریات کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر اس شعبے میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی جائے اورزرعی و صنعتی شعبہ جات میں کارپورٹ ریفارمز کے ذریعے زرعی و صنعتی ٹیکنالوجی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ ڈیٹ کیاجا سکے۔آخر میں یہ عرض کیے دیتا ہوں کہ دیہی و شہری مضافات میں موجود ڈیری فارمز کے گوالے حضرات محض پانی کے اضافی استعمال سے دودھ کی اصلیت کو آلودہ کرتے ہیں جبکہ صنعتی پیمانے پر تیار ہونے والے پراڈکٹس میں جوکچھ استعمال کیا جاتا ہے اس سے دودھ کس قدر آلودہ ہوتا ہے یا انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے اس پر تحقیقات و جستجو کی سخت ضرورت ہے تاکہ دودھ کی فروخت عالمی سٹینڈرکے مطابق ہو۔

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ:قماربازی کرتے پانچ ملزمان رنگے ہاتھوں گرفتار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker