شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پاکستان / پنجاب میں اب گوالوں کے بجائے مشینوں سے دودھ ملےگا

پنجاب میں اب گوالوں کے بجائے مشینوں سے دودھ ملےگا

لاہور(مانیٹرنگ سیل) پنجاب میں اب دودھ لینے کےلیے گوالے پاس نہیں جانا پڑے گا، بس مشین میں پیسے ڈالیں اور دودھ حاصل کریں اور مارکیٹ سے سستے داموں تازہ اور معیاری دودھ حاصل کریں۔ پاکستان میں اپنی نوعیت کے اس منفرد منصوبے کا آغاز پنجاب لائیو اسٹاک ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت کیا جا رہا ہے۔ابتدائی طور پر اس منصوبے کا آغاز صرف لاہور میں کیا جا رہا ہے۔ چیف ایگزیکٹوپنجاب لائیواسٹاک ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سائرہ افتخار نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ یہ دودھ گوالے سے لیے جانےوالے دودھ سے خالص ہونے کے علاوہ ٹیٹرا پیک دودھ سے سستا ہوگا۔ 75 روپے فی لیٹرفروخت کیے جانے والے اس دودھ میں چکنائی کی مقدار4 فیصد ہو گی۔ اس مقصد کے لیے سرگودھا میں واقع خضرآباد ڈیری فارم سے ابتدائی طور پر روازنہ 500 سے 700 لیٹر تک دودھ حاصل کیا جائے۔ فارم میں رکھی گئی گائیں ساہیوال نسل کی ہوں گی جو سب سے بہترین تصور کی جاتی ہیں۔ ممکنہ طور پر اس منصوبے کا آغاز مئی کے وسط سے آغازکیا جائے گا۔ لاہور کے 8ماڈل بازاروں میں اے ٹی ایم طرز کی مشینیں نصب کی جائیں گی جن سے صارفین پیسے ڈال کر بٹن دباتے ہی ایک لیٹر کا پاؤچ حاصل کرسکیں گے۔ صارفین کی سہولت اور مشین کی حفاظت کے پیش نظر ہرمشین پر ایک ملازم تعینات ہوگا۔ حکام کے مطابق منصوبے کا بنیادی مقصد شہریوں کو ملاوٹ زدہ کھلے دودھ سے بچانا ہے اورکھلے دودھ کی فروخت پر پابندی کے بعد گوالوں کو بھی یہی طریقہ اپنانا پڑے گا۔ لائیواسٹاک ماہرحافظ وصی محمد خان نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ فارم پرہر گائے کومتوازی غذا دی جاتی ہے جس میں وٹامنز اوراچھے دودھ کے حصول کے لیے دیگر ضروری اجزا شامل ہیں

یہ بھی پڑھیں  بچہ جمہوارا کی تشویشناک باتیں