تازہ ترینکالممیرافسر امان

قومے فر وختند وچہ ارزاں فروختند!!کیری لوگر بل/ناٹو سپلائی

یہ جو تاریخی فقرہ شاعر اسلام حضرت علامہ اقبال (رح)نے کہا تھا’’قومِ فروختند وچہ ارزاں فروختند‘‘ کشمیری ملت کے لیے کہا تھا ۔ انگریزوںنے کشمیر کوگلاب سنگھ ڈوگرہ کو5 7 لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض بیچا تھا۔ اس کی ادائیگی ہیرا سنگھ نے سکھوں کے لاہور کے خزانے سے کی گئی تھی یہ ایک تاریخی واقعہ ہے ،یہ ایک کلک کا ٹیکہ انگریز قوم کے ماتھے پر ہمیشہ کے لیے سجا ہوا ہے ۔تاریخ نے اس واقعے کو محفوظ کر لیا تھا لوگ اسے ہمیشہ دوراتے رہیں گے جیسے ہم آج اس کالم میں حوالہ دے رہے ہیں۔انگریز حکمرانوںنے ایک پوری کشمیری ملت کو دولت کی ہوس اور لالچ کی وجہ سے فروخت کیا تھا جس پر شاعراسلام چیخ اٹھا تھا کہ کشمیری ملت کو بہت ہی کم قیمت پر فروخت کر دیا گیا ہے ۔ پھر اُس وقت بھی شاعراسلام علامہ اقبال (رح) کی روح کانپ اٹھی ہو گی جب حکمرانوں نے پاکستانی ملت کو چند ڈالروں کے عوض سینیٹرجا ن کیری لوگر بل کے تحت امریکہ کو فروخت کیا تھا اورہماری آزادی کو گروی رکھ دیا گیا ۔ اس وقت بھی محب وطن لوگوں نے اپنے طور پرملک گیر ریفرنڈم کرواکے حکومت کو اس غلط فعل پر بر وقت منع کیا تھا مگر حکمرانوں کی اپنی مجبوریاں ہوتیں ہے وہ ان مجبوریوں کی وجہ سے قوم کی سوچ کے مخالف اقدامات کرتے رہتے ہیںاُس وقت بھی حکمرانوں نے ایسی ہی غلطی کی تھی اِس سے ہی امریکہ کو شہ ملی ہے اور اکثر وہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ ہمیں تو حکومتوں سے واسطہ ہوتا ہے عوام سے ہمارا کیا تعلق ؟ امریکہ نے ہمیں گیر رکھا ہے اورناٹو سپلائی کھونے کے لیے دبائو ڈال رہا ہے حافظ محمد سعید کے سر کی قیمت مقرر کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ ہماری غلامی کی راہ مذید ہموار ہو۔آج قومی سلامتی کمیٹی میں پارلیمانی جماعتوں کے تمام 13 رکن ممبران نے متفقہ طور سفارشات پر دستخط کر دیے اور5 گھنٹے کی تا خیر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس نے متفقہ طور پر دفاعی سلامتی کمیٹی کی سفارشات کو منظور کر لیا اور غلامی کی پرانی دستاویز پرنئے سرے سے توثیق کر دی اب بھی محب وطن لوگ سراپا احتجاج ہیں جیسے اس سے پہلے تھے۔ وزیر اعظم صاحب نے دفاعی سلامتی کمیٹی کی سفارشات پر من و عن عمل کا اعلان بھی کر دیاہے جبکہ ابھی ان کے تصدیقی بیان سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی اور امریکہ کے وہائٹ ہائوس کے سینئر عہد ا دار نے بیان دے دیا کہ ڈرون حملے ختم نہیں کریں گے اور پاکستان میں شدت پسندوں کو نشانہ بناتے رہے گے۔سی آئی اے اورایف بی آئی کی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ادھر پاکستان دفاع کونسل نے بھی اپنا اجلاس بلا لیا ہے اور کہا کہ نا ٹو سپلائی کی بحالی غداری ہے بہر صورت راستہ روکیں گے ۔ 15 اپریل کو پشاور میں جلسہ امریکی پٹھو حکمرانوں کے لیے تنبیہ ہو گا جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے کراچی میں ہنگامی پریس کانفرنس کی اور ناٹو سپلائی کی پاکستان کی شاہراہوں میں روکنے کا اعلان کر دیا ہے ۔اسی طرح عمران خان نے بھی ناٹو سپلائی بحالی پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ مولانا فضل ا لرحمان صاحب کی امریکی سفیر جناب کیمرون منٹر سے ملاقات اور پھرصدر پاکستان سے ملاقات اور اپنے پہلے زوردارموقف سے دسبرداری کو ملک کے محب وطن عوام نے اچھی نظر سے نہیں دیکھا جبکہ جناب آصف علی زرداری پہلے ہی فرما چکے تھے کہ مولانا فضل الرحمان کو میں راضی کر لوں گا اور اس کے بعد اکثریت کی بنیاد پر دفاعی سلامتی کمیٹی کی سفارشات منظور کر لیں گے اس طرح انہوں نے ن لیگ کو تنہا کرنے کی کوشش کی مگر ن لیگ نے بھی یو ٹرن لیا اور متفقہ طور پر سفارشات منظور کر لی گئیں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار صاحب نے حکومت سے کہا کہ اگر ان سفارشات پر عمل نہ ہوا تو کیا ہو گا عوام کہہ رہے ہیں اس سے قبل دو اسمبلی کی قراردادوں اور آل پاکستان پارٹیوں کی قراردادکا جو کچھ ہوا تھا وہی ہوگا جو چوہدری نثار صاحب کو معلوم ہے وہ جانتے ہوئے فرنڈلی اپوایشن کا کردار ادا کر رہے ہیں اور مولانا فضل الرحمان صاحب کشمیر کمیٹی کے چیف اور ان کی پارٹی کے مولانا شیرانی صاحب اسلامی نظریاتی کمیٹی کے سربراہ کے مزے بھی لے رہے ہیں اور اپوزیشن میں بھی ہیں اسی لیے صدر صاحب کی بات سے راضی بھی ہو جاتے ہیں ۔ عوام کی خواہش تھی کہ دفائی سلامتی کمیٹی ناٹو سپلائی نہ کھونے کی سفارشات کرتی اور امریکہ کی مذید غلامی سے عوام کی جان چھڑاتی مگر افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔جہاں تک پرانے معاہدوں کا دفائی سلامتی کمیٹی نے ذکر کیا تو اس سلسلے میں اسامہ بن لادن ابیٹ آ باد تحقیقی کمیشن کے سربراہ سپریم کورٹ کے سابق سینئر جج جناب جاوید اقبال نے انکشاف کیا تھا کہ سینیٹر جان کیری لو گر بل معاہدے کے تحت سابقہ حکومت نے غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کو پاکستان میں کا م کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے اس کی مذید تائید چند دن پہلے آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی اور سابق چیف آف جنرل آسٹاف ﴿ر﴾ جنرل شاہد عزیز صاحب کا انٹرویو ایک مقامی اخبار میں شائع ہوا میں ہوتی ہے اس میں انہوں نے فرمایا کہ پرویز مشرف کو اعلیٰ فوجی قیادت ہر آن امریکی اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی کاروائیوں سے مطلع کرتی رہتی تھی مگر پرویز مشرف نے اس پر کچھ کاروائی نہیں کی جس کی آج تک سمجھ نہیں آرہی اسی طرح انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امریکیوں کے فنڈ سے قائم
سازشی دہشت گرد اڈوں کے متعلق اور افغانستان سے اسلحے سے بھرے ٹرک بلوچستان میں داخل ہونے کی بھی اعلیٰ فوجی قیادت کی تشویش پر بھی مشرف نے کوئی پرواہ نہیں کی اور کچھ کاروائی نہیں کی ۲۰۰۲سے ۳۰۰۲ کے دوران فاٹا میں بھارتی کھلے عام پھرتے رہتے تھے اورلوگوں کو دہشت گردی کی تربیت دیاکرتے تھے باوجود اطلاع کے مشرف حکومت کی طرف سے کوئی بھی کاروائی نہیں کی گئی اس بات کی مذید تصدیق بھی کچھ دن پہلے بھارتی حکومت کی طرف سے بیان کہ بھارت امریکہ اور دوسروں ملکوں کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کام کر رہے ہیں ۔
قارئین دوسرے بڑے بڑے ناپسندیدہ کاموں کے ساتھ ساتھ پرویز مشرف کا سب سے بڑا جرم امریکی اور دوسری مغربی خفیہ ایجنسیوں کو پاکستان میں کھلے عام اپنی کاروائیاں کرنے کی اجازت دینا تھا۔ جوہمارے ملک کے حالات خراب کر رہے ہیں کچھ دن پہلے ناروے کی پارلیمنٹ کی خاتون ممبر کا بیان کہ ہمارے ملک کی فوج کی حفیہ ایجنسی پاکستان میں جاسوسی کر رہی ہے یہ بیان اس خاتون کے منہ سے اتفاقاً نکل گیا تھا جس پر اس سے استعفیٰ لے لیا گیا ا مگر اس انکشافات سے پاکستان قوم کو تو معلوم ہو گیا نا کہ کون کون ہمارے ملک کے خلاف جاسوسی میں ملوث ہے۔ ملک میں جاسوسی کے کتنے واقعات پریس میں رپورٹ ہو چکے ہیں کتنے جاسوسوں کو فوج ملک سے باہر نکال چکی ہے مگرپھر بھی ہمارا ملک غیر ملکی جاسوسوں سے بھرا پڑا ہے جو دفائی سلامتی کمیٹی ان کے نکالنے کی سفارش کر رہی ہے یہ غیر ملکی امداد کی وجہ سے ہے ۔سیلاب کے دوران مدد کے نام پر امریکہ نے اپنے جاسوںہمارے ملک میں داخل کئے تھے اب پھر سیاچین کے واقعے کی وجہ سے امداد کے لیے امریکی آئے ہوئے ہیں عوام ان کے سیاچین امداد کے لیے جانے سے اتفاق نہیں کرتی۔ مشرف پرویز نے 600مسلمانوں کو امریکہ کے حوالے کرنے اور امریکہ سے ڈالر وصول کرنے کا اعتراف اپنی کتاب ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ میں بھی کیا ہے اسی فروختی اور جاسوسی کی وجہ سے اخباری اطلاعات کے مطابق آج ہماری پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کہہ رہی ہے کہ جاسوسی کا سیٹ اپ جو ہمارے اتحادی امریکہ اور ناٹو ممالک نے پاکستان میں قائم کیا ہوا ہے وہ نامنظور ہے۔امریکہ کی میرین جو ہمارے قبائلی علاقوں میں مصروف عمل ہیں وہ نامنظور ہیں ۔کسی بھی ممکنہ معاہدے کی اتحادی ممالک سے تحریری ضمانت لازمی ہے وغیرہ وغیرہ۔ مگر افسوس تو اس امر کا ہے کہ ہمارے مقتدرلوگ کتنے سادے ہیں ہم حالت جنگ میں ہیں ۔ہماری دٰفاعی انسٹالیشن سے لے کر ہماری مساجد تک کو نہیں چھوڑا گیا۔ہمارے ملک کے جرنل ہیڈ کواٹر پر حملے ہوئے ، دوسرے دفاہی ادارں پر حملے ہو رہے ہیں، ہمارے خفیہ اداروں کے ہیڈ کواٹر حملوں کی زد میں ہیں، ہمارے پولیس اسٹیشنوں حملے ہو رہے ہیں ، پولیس ٹرینگ سنٹروں پر حملے ہو رہے ہیںہمارے ان اداروں کے لوگ اپنی اپنی ہی جگہوں پر مورچے بنا کر قلعہ بند ہو نے پر مجبور کر دیے گے، ہیں وہ باہر نکل کر عوام کی حفاظت کرنے میں کتنی دشواریاں برداشت کر ر ہے ہیں۔ کرو ڑوں عوام کی حفاظت کرنا او ر تعداد میں کم ہونا بھی ایک مشکل کام ہے، تعلیمی اداروں ، یونیورسٹیوں ،لڑکیوں کے کالج اسکولوں،بازاروں، کھیل کے لیے آنیوالے مہمانوں ،مساجد وں، امام بارگاہوں،مدرسوں ، مزاروں، چہلم ،عاشورہ اور مذہبی جلوسوںپر حملے ہو رہے ہیں ہمارے علمائ، سیاست دان اور ان کے بچے شہید ہو رہے ہیںہمارے ملک میں کیا بچا ہے جس پر حملہ نہ ہوا ہو اور یہ سب کچھ ہمارے نان ناٹو اتحادی ہونے کی وجہ سے ہے ۔ تاریخ میں اتنی بڑی قیمت کسی دوست ملک نے کسی دوسرے دوست ملک کے لیے ادا کی ہے تو ہمار ا دوست ملک ہمیں بتائے ؟کیا ہم امریکہ کے سیٹو سینٹو کے اتحادی نہ تھے جب ہمارے ملک پر بھارت نے حملہ کیا تھا؟ مگر جب ہمارا ملک ٹوٹ رہا تھا تو امریکہ کاساتواں بحری بیڑا ہماری مدد کو نہ پہنچ سکا جب کہ روس نے اپنے اتحاد ی بھارت کی اپنی ایٹمی آبدوزوں سے مددکر کے ہمارے مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کودو لخت کیا۔ یہودی ہنری کیسنگر امریکہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ کی کتاب جو اب بھی لائبریریوں میں موجود ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ پاکستان کوتوڑنے میں امریکہ کا بھی ہاتھ تھا ۔1965 پاک بھارت جنگ کے موقعے پر فاضل پرزوں کی سپلائی بند کر دی گئی تھی کیا یہی دوستی ہے ؟کیا پاکستان کوپتھر کے دور میں بھیجنے کی دھمکی بھی ہمارے دوست نے ہمیں نہیں دی تھی؟ اب بھی دنیا بھر کا میڈیا امریکہ عزائم اور پاکستان کے خلاف سازشوں کے تانوں بانوں سے بھرا پڑا ہے کیا پھر بھی ہمارے مقتدر لوگ جانتے بوجتے امریکہ سے کسی غلطی کو دہرائیں گے….. حکومت ناٹو سپلائی ہرگز نہ کھولتی تو اس معاملے میں ساری قوم حکومت کے ساتھ ہوتی اور قوم ہر قیمت دینے پر تیار ہے قوم امریکہ سے جنگ کرنے کا ہر گز نہیں کہہ رہی بلکہ ناٹو کواپنا حربی سامان واپس لے جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی عوام کا مطالبہ ہے کہ پارلیمنٹ کی دو متفقہ قرردادوں،عسکری قیادت کا موقف،کل جماعتی کانفرنس کا اعلامیہ ریکارڈ پر موجود ہیں اور یہ سب حکومت کی رضا مندی سے تیار ہوئی تھیں ان پر عمل کرے۔اس پر داد دینے کے قابل ہیں جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید احمد جنہوں نے اختلافی رائے تحریر کر کے قومی سلامتی کمیٹی اور سینیٹ سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔دفاع پاکستان کونسل نے ناٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی کے خلاف پورے ملک میں عوام کو متحرک کیا تھا مگر حکمرانوں نے ایک نہ سنی اور ناٹو سپلائی کھلنے کا اعلان کر دیا ۔قوم کا اب بھی مطالبہ ہے کہ حکومت کو اس نام نہاد دہشت گردی کے اتحاد سے واپس نکل آنا چاہیے۔ اپنے لوگوں پر ایف سولہ سے بمباری کرنے کا خیال دل سے نکال دینا چاہیے۔ اپنے ناراض لو گوں سے مذ اکرات کرنے چاہیے ۔ ناراض لوگوں کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بندوق اختلافات کا حل نہیں ہے۔ اپنے پڑوسی مسلمان ملک افغانستان سے پرویز مشرف کے غلط اقدام کی معافی مانگنا چاہیے ۔ قوم ا سنام نہاد دہشت گردی کے اتحاد سے بہت نقصان اٹھا چکی ہیں ہمارے ملک کے9 جرنل شہید ہو چکے ہیںہزاروں فوجی اور سلولین شہید ہو چکے ہیں اور آئے دن شہید ہو رہے ہیں۔ دفائی سلامتی کمیٹی کی سفارشات کی متفقہ منظوری اور پالیمنٹ کی بھی متفقہ منظوری کے باوجود ام
ریکہ کے ڈرون حملے جاری رکھنے کے اعلان سے مذید سولین ہلاک ہونے کے خدشات اپنی جگہ پر موجود ہیں ملک میں 80 کھرب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے قوم مختلف اور متضاد حصوں میں تقسیم ہو چکی ہیں۔ امریکہ پاکستان کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ بھارت جو ہمار ا ازلی دشمن ہے جس سے ہم اپنی بقائ کے لیے چارلڑائیاں لڑ چکے ہیں، جو ہمارے ملک میں مداخلت کر رہا ہے، ہمارے حصے کا پانی روک کر ہمیں زندگی سے محروم کر رہا ہے اور جوہماری شہ رگ کشمیر پر قابض ہے اس کے بارے میں امریکہ کی طرف سے ہمیں پڑھایا جا رہا ہے کہ اس سے تمہاری جنگ نہیں، یہ تمھارا دشمن نہیں ہے جبکہ قوم حالیہ سروے کے مطابق70 فی صد امریکہ کے کے مخالف ہے اکثریت امریکہ کی ان بے وفائیوںکی وجہ سے اس کے مخالف ہے۔ عوام کی سوچ ہے کہ اپنی قوم کے رجحان کو دیکھ کر کوئی بھی فیصلہ کیا جائے۔ ملک کی سیاسی پارٹیوں کو بھی واضع موقف اختیار کرنا چاہیے۔ورنہ اس ملک میں بہت ہی حالت خراب ہوںگے بلوچستان میں امریکہ اور بھارت مداخلت کر رہا ہے گلگت کے واقعے سے ہمیں سبق لینا چاہیے وزیر داخلہ صاحب فرما رہے ہیں کہ باہر کے لوگ یہ کر رہے ہیں جو اس کا واضع ثبوت ہے۔ پورے پاکستان میں شیعہ سُنی فسادات کروانے کی کوشش ہو رہی ہے امریکہ ،اسرائیل اور بھارت برائے راست مداخلت کر رہے ہیں اس بات کے شوائد پریس میں آسانی سے دستیاب ہیں شاہراہ قراقرم پر 28 فروری2012 ئ کے واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم جنداللہ کے بیان سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ امریکہ ایسی تنظیموں سے یہ کام ایران میں بھی لے رہا ہے اور یہی کاروائیاں بلوچستان، شاہ ریشم اور گلگت بلتستان میں بھی کروا رہا ہے اس سے ہمارے سدا بہار دوست چین کی تجارت کا راستہ بھی روکنا مقصود ہے اور اپنے اصل ایجنڈے پاکستان کو ایٹمی قوت ہونے کی سزا بھی دینا ہے ہمارے دشمن ہم پر چڑھ دوڑے ہیں اور ہمارے حکمران کچھ بھی نہیں کر رہے وہ ملک میں کرپشن کرنے میں مصروف ہیں اخبارات میں روزانہ حکومت کی کرپشن کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔

قارئین ! ناٹو سپلائی کھلنے سے قوم انتشار کا شکار ہوتی نظر آ رہی ہے قوم واضع دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے ایک طرف امریکہ مخالف لوگ جو کثیر تعداد میں ہیں اور دوسری طرف امریکہ حمایت یافتہ این آر اوزدہ اتحادی جمہوری حکومت! عوام کی امنگوں کے خلاف اقدام سے پاکستانی قوم کہیں تیونس ،مصر،لیبیا ،مراکش اور شام طرز کی کاروائی کرنے کی طرف تو نہیںبڑھ رہی ہے؟ ہم حکمرانوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے ممکنہ برُے انجام سے بچنے کے لیے قوم کا ساتھ دیں ورنہ مکافات عمل سے گزرنے کے لیے تیار رہیں۔اس سب خرابی کی ذمہ دار موجودہ این آر او زدہ اتحادی جمہوری حکومت پرہو گی۔ اللہ ہمارے ملک اور ہمارے عوام کی حفاظت فرمائے آمین۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker