تازہ ترینکالممیرافسر امان

مصر میں معرکہ فرعون و موسی (ع) کا آخری مرحلہ!

بلا آخر صدارتی اتخاباب کا اعلان کر دیا گیا اوراخوان المسلمون کے صدارتی امیدوار محمد مرسی کامیاب قرار دیے گئے ہیں مغرب کی تربیت یافتہ فوج نے انتخابات کے نتیجے کو کچھ دن روکے رکھا اور حسنی مبارک کے نمائندے کو سازش سے کامیاب کرنے کی بے سود کوشش کی مگر عوام نے فوج کو ایسا کرنے سے روک دیا۔ مصریوں نے ایک بار پھر تحریر چوک پر لاکھوں کے تعداد میں جمع ہو کر فوجی جنتا کو انتخابات کا نتیجے کا اعلان کرنے پرمجبور کردیا عوام کے طاقت کے سامنے بڑی سے بڑی قوت بھی نہیںٹہر نہیں سکتی۔ مصر کے جدید فرعونوں نے مصر کے قدیم فرعونوں سے رشتہ جوڑنے کا اعلان کر رکھا تھا کئی بار اس کو دہراتے بھی رہتے تھے مگر فرعونوں کو اپنا آئیڈیل ماننے والے مقتدر حلقے ہار گئے اور موسی (ع)کو اپنا آئیڈیل ماننے والے اور دبا کر رکھے جانے والے اللہ کے کمزور بندے جیت گئے حق اور باطل کا معرکہ جو ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا اس میں ماضی کی طرح آج بھی حق کی فتح ہوئی اور باطل ہار گیا۔ہاں شیطان نے اپنے رب سے کہا تھا کہ مجھے اجازت دی جائے میں تیرے بندوں کو آگے سے پیھچے سے، دائیں سے بائیں سے گھیروںگا اللہ نے شیطان کو اجازت دے دی تھی لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا تھا کہ تو میرے نیک بندوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گے تم میرے بندوں کوزبردستی غلط راستے پر ڈال نہ سکو گے تم میرے بندوںکے دل میں صرف امیدوں کے وسوسے ڈال سکو گے اسی وسوسوں میں مبتلا مصر کے فرعونوں نے اللہ کے بندوںسے مقابلہ شروع کیا۔مصر کے فرعونوں نے حسن البنا کو 1949 فروری12 میں حسن البنا کو شہید کیا گیا تھا۔ ان کی شہادت کا واقعہ شہید کی بیٹی سنائ حسن البنا کی زبانی سنیں’’پھر میرے دادا نے ابو کو غسل دیا۔انھیں کفن پہنایا گورکن تابوت لے کر آیا ابو کی میت اس میں رکھ دی گئی۔ میرے دادا فوجیوں سے مخاطب ہوئے اور کہا ’’میرے ساتھ میرے بیٹے کا جنازہ تو اٹھوا دو‘‘ انھوں نے جواب دیا ہمیں آرڈر نہیں ہے۔ وفائ باجی چلا اٹھیں جنازہ اٹھائیں کندھا کون دے گا ۔لیکن وہ نہیں مانے اس پر میری دادی جان اٹھیں اور کہا اپنے بیٹے کا جنازہ میں خود اٹھا ئو ں گی۔وہ تابوت کی طرف بڑھیں تو اخوان سے تعلق رکھنے والی چند خواتیں جو اس وقت اندر آنے میں کامیاب ہو گئیں تھیں وہ آھے بڑھیں اور اس دہشت کے عالم میں خواتین نے امام حسن البنا شہید کا جنازہ اٹھایا‘‘ مصر کے فرعونوں نے شہید کی میت کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا۔اس کے بعد 1952ئ کے فوجی انقلاب کے بعد سے مسلسل رائے عامہ کو بزور قوت کچلنے کا سلسلہ جاری تھا ۔1954 ئ میں ملک کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈائون سے ہوا کئی ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا عبدالقادر عود جیداور نامور قانون ساز کوپھانسی دی گئی اس کے بعد جمال عبدالناصر کے دور میںبدترین تشدد کا دوسرا دور شروع ہوا 1966 میں سید قطب جیسے عالم وفاضل شخص کو موت کی سزا دی گئی ہزاروں لوگوں کو قیدوبند کی صعوبتیں برادشت کرنی پڑیں،سینکڑوں کو مصر سے ہجرت پر مجبور کئے گئے اور لا تعداد نے جان کا نذرانہ پیش کیا عرب قوم پرستی کے جنون میں مبتلا ناصر ۰۷۹۱ ئ میں اپنے انجام کو پہنچا اقتدار کی مسند انور سادات نے سنبھالی اس نے مصر کو امریکہ کے قریب ترین کر دیا اور امریکہ کے کہنے پر اسرائیل کو بھی تسلیم کیا اس قدم پر مصر میں غم وغصہ زیادہ ہوا اور ایک فوجی پریڈ کے دوران اسے قتل کر دیا گیا اس کے بعد حسنی مبارک جو مصری فضائیہ سے تعلق رکھتے تھے ۱۸۹۱ئ میں صداراتی انتخاب کے بعد تین عشروں تک حکومت کرتے رہے اور اب ان کی عمر82 سال ہے موصوف اپنے بیٹے کو مصر کی صدا رت پر فائز رکھنے کا ارادہ رکھتے تھے جو مصر میںعوامی دبائو کے سامنے نہ ٹھہر سکے اقتدار عارضی فوجی کونسل کو دے دیا گیااس کونسل کی سربراہی سنبھالنے والے فیلڈ مارشل محمد حسین ططاوی نے سرکاری ٹی وی پر اپنے خطاب میں28 نومبر کو پارلیمانی انتخابات کا اعلان کیا تھا مصر کے فرعونوں نے یہ سمجھا تھا کہ اس طرح وہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بڑھنے سے روک دے گا مگر یہ قافلہ سخت جان مختلف نشیب وفراز سے گزرتا ہوا اللہ کے حکم سے مسلسل آگے بڑھتا گیا اور آج اس نے میدان مار لیا۔حسنی مبارک کے خلاف کامیاب انقلاب کے بعد مصر میں ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات کے پہلے ہی مرحلے میں اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ﴿ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی﴾ نے واضح سبقت حاصل کرکے پہلے مرحلے میں اسلامی پارٹیوں نے واضح برتری حاصل کر لی تھی جبکہ سیکولر جماعتوں نے صرف ۲۲ فی صد ووٹ حاصل کئے۔ مصری عوام میں اخوان کی مقبولیت اور احترام کی وجہ اس کے بے شمار وسیع سماجی و فلاحی کام اور خدمات اور حسنی مبارک کے خلاف قومی جدوجہد میں بے مثال خدمات ہیں عرب قومیت کے حامی اخبار ’’الشرق الاوسط‘‘ کے صحافی طارق الحمیدنے لکھا تھا اخوان المسلمون ایک طاقتور جماعت ہے اس کی غیر معمولی کامیابی حیرت انگیز نہیں بلکہ اصل تعجب اس وقت ہوتا اگر وہ ہار جاتی۔یہ لوگ دن رات زمین پر کام کرنے والے لوگ ہیں پہلے مرحلے کی جیت کے بعد دوسرے مرحلے میں بھی اول پوزیشن لے کرکامیابی حاصل کر لی تھی دوسرے نمبر پر مذہبی جماعت ’’النور‘﴾ اور تیسرے نمبر پر سیکولر جماعت وفد پارٹی سامنے آئی ہے اخوان المسلمون کی کامیابی ذرائع ابلاغ کی پیش بینی کے مطابق ہے جس میں کیا گیا تھا کہ اگر آزادانہ انتخابات ہوئے تو اخوان المسلمون ہی اکثریت حاصل ک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker