تازہ ترینکالممیرافسر امان

حقانی پاکستان کے وفادار یا غدّار

میمو تحقیقاتی کمیشن نے ۸ صفحات پر مشتمل رپورٹ عدالت اعظمیٰ کو پیش کر دی ہے عدالت نے رپورٹ کو عام کرنے کا حکم دے دیا ہے حسین حقانی صاحب کو ذاتی طور پر طلب کرتے ہوئے تمام فریقین کو رپورٹ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ سماعت ۲ ہفتوں تک ملتوی کر دی ۔اُن لوگوں کوجو کہ مایوسی پھیلانے کے ماہرہیں مایوسی ہوئی ہو گی کہ یہ تحقیقاتی میمو بھی راز کے طور پر محفوظ کر لیا جائے گا مگر آزاد عدلیہ نے اسے عام کر دیا ۔ میمو تحقیقاتی کمیشن رپورٹ میں حسین حقانی کو غدار قرار دے دیا ہے ،میمو حقیقی تھا حسین حقانی ہی اس کے خالق ہیں وہ ریاست کے وفادار نہیں ہیں، پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں ان ہی نے امریکہ کو طالبان اور آئی ایس آئی کے رابطے کی اطلاع دی اس سے ان کا مقصد ایک نئی سیکورٹی ایجنسی بنانا تھا اور اپنی پسندیدہ حکومت کو امریکہ کے قریب لانا تھا انہوں نے کوشش کی کہ امریکہ کی مدد سے پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کو کنٹرول کیا جائے اور ایک نئی سیکورٹی ایجنسی قائم کی جائے جس کے سربراہ وہ ہوں وہ اسامہ کے پاکستان میں قیام پذیر ہونے کے معاملے کی تحقیقات کر کے امریکہ کو مطمئن کریں گے ساتھ ساتھ انہوں نے امریکہ کو یہ بھی باور کروایا کہ موجودہ حکومت کو فوج سے خطرہ ہے کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر لے گی۔ فوج کے سربراہ نے بھی میموتحقیقاتی کمیشن کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس میمو کی عدالت مکمل تحقیق کرے اس سے فوج کا موّرل خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو میمو کمیشن کے فیصلے سے صحیح ثابت ہوا ۔اس کا کریڈٹ دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ نواز شریف صاحب کو بھی جاتا ہے جو اس کا حصہ بنے خود سپریم کورٹ گئے اور اس سازش کے خلاف کمر بستہ ہوئے عدالت نے تین رکنی کمیشن قائم کیا اس نے متعلقہ لوگوں کے بیانات لیے اور اپنا فیصلہ عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کر دیا۔اس میں کلیدی بیان منصور اعجاز کا ہے جو انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کروایا جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا اب سپریم کورٹ کا ۹ رکنی بینچ اس کی تحقیق کرے گااور میمو کی تحقیقات کی روشنی میں مقدمہ کا جائزہ لے گا اور آخری فیصلہ دے گا حقانی صاحب کو پورا موقع بھی دیا جائے گا ۔اب ان کو ٹال مٹول سے کام نہیں لینا چاہیے اور پاکستان آکر اس مقدمے کی پیروی کرنی چاہیے ۔اس رپورٹ کے آنے سے پہلے ہی پاکستانی قوم کو اس بات کاعلم ہے کہ حقانی صاحب پاکستان کے مفادات کے برعکس امریکہ کے مفادات کے علمبردار بنے ہوئے ہیں غیر ملکی اخبارات میںآئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کے خلاف مضامین لکھتے اور شائع کرواتے رہے ہیں اپنی کتاب’’پاکستان فوج اور مُلاّئوں کے درمیان‘‘ میں اسلام بیزاری ،سیکولر زم سے جوڑ اور فوج اورخفیہ ایجنسیوں پر الزامات اور مغرب امریکہ سے وابستگی کے حوالے سے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں بیٹھے بیٹھے نہ جانے کتنے ریمنڈ ڈیوسوں کو ویزے جاری کرتے رہے جن جاسوسوں نے عرصے سے ہمارے ملک کا تیا پانچا کر رکھا ہے ۔پاکستان کے سفیر ہونے کے ناتے ان کو پاکستان سے وفاداری کرنی تھی نہ کہ کسی دوسرے ملک سے۔امریکہ نے کئی مواقع پر کہا تھا کہ حقانی ہمارے قابل اعتماد سفیر ہیں اس پر پاکستان میں باتیں ہوتی تھیں کہ یہ امریکہ میں امریکہ کے سفیر ہیں یاپاکستان کے سفیر ہیں۔ پاکستانی میڈیا پر ان کی امریکہ سے وفاداری کی خبریں عام تھیںپھر بھی وہ اپنے حرکتوں سے باز نہیں آئے اور آخر کا رمیمو گیٹ کا جُرم کر بیٹھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اگر کچھ ہو گیا تو امریکہ بہادر ان کو بچا لے گا جیسے اس نے پاکستانی قوم کے مجرم قاتل ریمنڈ ڈیوس کو صدر پاکستان اور وزیر اعظم کے حکم سے بچا لیا اور اب ملک کے غداراور سزا یافتہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بچانے کی کوشش کر رہا ہے جس کو امریکی قوم کا ہیرو قرار دے دیاہے۔ اسی طرح کمال ہوشیاری سے امریکی پٹھو حکومت نے پہلے ہی سے معا ملے کی تہہ تک پہنچتے ہوئے ایک چال کے طور پر اسے امریکہ جانے کی اجازت دے دی تھی اور اب وہ امریکہ میں مقیم ہیں ان کی پاکستان میں نہ جائیداد ہے نہ بنک بیلنس ہے ۔ کمیشن کے حکم کے مطابق اپنے کیس کی پیروی کرنے کے لیے سیکورٹی کا بہانا بنا کر پاکستان نہیں آئے ۔انہوں نے جُرم کیا ہے وہ کبھی بھی پاکستان نہیں آئیں گے ۔جیسے سابق ڈکٹیٹر مشرف صاحب جن پر اکبر بگٹی اور بینظیر بھٹوکے قتل کا الزام ہے ملک میں نہیں آرہے۔ایک وقت تھا وہ سیاسی لیڈروں کو ملک آنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے اور اگر کوئی کسی طرح آ بھی گیا تو اسے ایئر پورٹ سے ہی پاکستان سے واپس بھیج دیا مقافاتِ عمل دیکھیں آج خود ساختہ جلاوطنی پر مجبور ہے۔ادھر حقانی صاحب نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا اور کہا یہ یک طرفہ ہے مجھے سنا نہیں گیا کمیشن کی رپورٹ دیگر ایشوز سے توجہ ہٹانے کے لیے لائی گئی یہ رپورٹ قانونی نہیں بلکہ سیاسی ہے ….سارا جہاں جانتا ہے پاکستان کی عدلیہ آذاد ہے۔ پاکستان کی عدلیہ سیاسی نہیں ہے ۔ ملک میں آذادانہ فیصلے کر رہی ہے ۔ یہ کہنا کہ یہ سیاسی فیصلہ ہے غلط ہے۔ سیاسی فیصلے تو حکومتیں کرواتی ہیں اس وقت تو حکومت خود این آر او اور کرپشن کے وجہ سے عدلیہ سے ناراض ہے لہٰذا یہ انصاف کا فیصلہ ہے۔ منصور اعجاز صاحب کہہ رہے ہیں سچ سامنے آ گیا ہے پاکستانی قوم کو خوشی

یہ بھی پڑھیں  حرمت قلم کے پاسبان

۲بنانا چاہیے اس سچ کو ظاہر کرنے پر مجھے موجودہ حکومت سے خطرہ ہے مجھے فون پر دھمکی دی گئی ہے اگر میں برطانیہ آیا تو قتل کر دیا جائوں گاانہوں نے کہا اس پر میں لندن پولیس اور ایف بی آئی کو بتائوں گا۔
قارئین نااہل حکومتیں ناتجربہ کا ر ،سفارشی اشخاص اوربیرونی حکومتوں کی خواہشات پر اگر اس اہم منصب پر لوگوں کو لگائیں گی تو اس کا حشر ایسا ہی ہو گا ملک کا سفیر اپنے ملک کا نمائندہ ہوتا ہے اس کو اپنے ملک کا خیر خوا ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں  بچوں کو دودھ پلانے والی مائیں موٹاپے سے بھی محفوظ رہتی ہیں

 

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker