تازہ ترینحافظ زوہیب خاںکالم

ملازم ، ظلم اور سرکار

آج صبح جس وقت میں ٹیلی وژن پر مارننگ شو کے دلچسپ پروگرام سے محفوظ ہو رہا تھا اسی لمحے ایک بریکنگ نیوز نے مجھے چونکا کہ رکھ دیا۔ ہمارے ہاں خوفناک بریکنگ نیوز کا سلسلہ تو معمول کی بات ہے مگر یہ میرے لئے ہولناک بریکنگ ثابت ہوئی۔ کچھ دیر بعد ہی مجھے اک صاحب کی کال موصول ہوئی جس کی غمغین مگر جذباتی آواز نے میرے خدشات کو یقین میں بدل دیا ۔ وہی ظاہر ہوا جس کا مجھے ڈر تھا ۔ اے جی آفس ﴿ اکائونٹنٹ جنرل پنجاب﴾کلرک ایسوسی ایشن کے صدربخش الہی کو صبح سویرے معمول کے مطابق آفس جاتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ میں شہید کر دیا گیا۔ ان کا قتل نہ صرف افسوسناک بلکہ باعث شرم فعل ہے۔ جس قوم میں انسانی جان د و وقت کی روٹی سے سستی ہو جائے وہ قوم قابل رحم بن جاتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کے ْقتل کے پیچھے کیا محرکات تھے۔ مگر مجھے دکھ صرف ایک انسانی ،مسلمان اور مظلوم پاکستانی جان کی ہے۔ جس نے زندگی کا بڑا حصہ سرکار پاکستان کی نوکری کرتے ہوئے گزار دیا۔اور جب آج وہ اپنے حقوق کے حصول کے لئے کارواں بنا کر نکلا تو اس سے زندگی کے باقی سانس بھی اس صدی کے فرعونوں نے چھین لئے۔
حضرت امام حسین (رض) کا قول ہے کہ’’ اس شخص پر ظلم کرنے سے محتاط رہا کرو جس کا اللہ کے سوا کوئی نہ ہو‘‘
بلاشبہ وہ اپنی ابدی زندگی میں اپنے رب اور ا س کے حبیب ö کی رحمت کے سائے میں زیادہ سکون محسوس کرے گا۔ ان دنیاوی خداؤں کے آئے روز کے ظلم و جبر سے تو نجات حاصل کر لی مگرنجات فرعون کی تحریک وہ چھوڑ گیا۔ تحریک زور پکڑچکی ہے AGPR کے سینئر و جونئیر ملازمین نے دفعہ 144 ہونے کے باوجود بھی مال روڈ پر احتجاجی ریلی نکالی۔ اس سے قبل یہ احتجاج صرف دفاترکی باؤنڈری تک محدود تھا مگر اب شاہراہوں پر نکلنے والے یہ مظلوم کچھ کر کے ہی دم لیں گے۔ اس تحریک کے زور پکڑنے سے نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان بھر کے سرکاری 23لاکھ ملازمین یکم اگست کو تنخواہ سے محروم رہ جائیں گے۔ بجٹ میں دی گئی مراعات ،تنخواہوں میں اضافہ اور بجٹ میں دیا گیا پنشن میں اضافہ اور بجٹ ثمرات سے پنشنربھی محروم رہ جائیں گے۔ بروقت جائز مطالبات کے پورا نہ ہونے کی صورت میں ملک کو بیرونی قرضہ نہ مل سکے گااور نہ ہی سالانہ گزشتہ بجٹ کے اخراجات کا اکائونٹس تیار ہو سکے گا۔جس سے ملک بھر میں اقتصادی بحران پیدا ہو نے کا اندیشہ ہے۔ ملک بھر کے سرکاری اخراجات کو پورا کرنے کیلئے15 دن سے نہ کوئی چیک سٹیٹ بینک آف پاکستان کو جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی اے۔جی آفسزکے دفات بشمول ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفسز میںکوئی کام ہو رہا ہے۔ جو حکومتِ پاکستان کی ناکا می کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آڈیٹر سے لیکر ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ تک سب لوگوں کا ون پوائنٹ ایجنڈہ ہے کہ انکودوسرے محکمہ جات کے برابر سپیشل پے دی جائے۔اس مطالبہ کی مثال اسی طرح ہے کہ کسی آدمی کو کہا جائے کہ آپ کسی چوک میں کھڑے ہو کر چاولوں کی دیگ تقسیم کر دیں مگر خود ایک چاول کا دانہ بھی نہیں چکھنا ہے۔
اکائونٹنٹ جنرل آفس جو تمام محکمہ جات کو رقم تقسیم کرتا ہے لیکن اس کے اپنے ملازمین کی حالت زار نہ قابل بیان ہے۔ خود دوسرے محکمہ جات کو تنخواہوں اور دیگر الائونسز کی رقم دیتا ہے لیکن خود ان ثمرات سے محروم ہے۔ملک بھر کے 80فیصد سرکاری ملازمین مشمول پولیس،سنٹرل بورڈ آف ریونیو،پاکستان کی فورسز،پاکستان رینجرز،ایف ۔آئی ۔اے۔آئی۔بی۔محکمہ صحت کے مرکزی ادارے۔عدلیہ۔سپیشل الائونس وصول کر رہے ہیں لیکن خود جو ان اداروں کو ادائیگی کرتے ہیں ان الائونس سے محروم ہیں جبکہ ،ملک بھر کی کمپنیوں سے اربوں روپے کی انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی مدمیں ریکوری کرنے میں ان کا کر دار سب سے اہم ہے۔ لیکن ملکی خزانے کے یہ محافظ مجبور ہیں۔اور دو ماہ سے احتجاج پر ہیں۔ جس سے ملکی اور بیرونی سطح پر ملک کا امیج خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ اگر حق دار کو اس کا حق وقت پر ادا کر دیا جائے تو کسی کو احتجاج کرنے کی نوبت نہیں آتی لیکن ایجیٹیشن کی سیاست نے ملک پر جو منفی اثرات چھوڑے ہیں ان سے ملک تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔ الٹی گنگا بہ رہی ہے۔جو شور اور ہڑتال کرتا ہے ثمرات اکھٹا کرتا ہے اور جو لوگ ظلم کی چکی میں پسنے پر مجبور ہیں ان کی کوئی شنوائی نہیں۔ قیامِ پاکستان اور اس سے قبل بھی ملک بھر میں قومی پے سکیل ہوا کرتے تھے جس سے تمام محکموں کے تمام سکیل وائز ملازمین کی ایک جیسی تنخواہ ہوتی تھی اور بجٹ میں ان کو ایک جیسا فائدہ ہوتا تھا لیکن اب معاملہ ہی الٹ ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان،عدلیہ ،محکمہ انکم ٹیکس کے چپڑاسی اور ڈرائیور،اکائونٹنٹ جنرل آفس کے اکائونٹس آفیسر سے زیادہ تنخواہ اور مراعات لے رہا ہے۔اس کھلی تفاوت سے معاشرہ پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں سب کے سامنے ہے۔ ملازمیں مر رہے ہیں مگر سرکار بے اختیا رکو اپنی بانسری بجانے سے فرصت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں  پانچ دسمبر مفاد پرستوں اور کمیشن مافیا کا ٹیکسلا سے صفایا ہو جائے گا، ملک پرویز

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker