پاکستانتازہ ترین

پاکستان ٹیلی کام کی تاریخ کے2سیاہ ترین دن

9 اور 10 محرم الحرام بمطابق 24 و25 نومبر 2012ء کو امن و امان کو درپیش خطرات کے پیش نظر 40 سے زائد گھنٹوں تک پاکستان بھر کے 80 ملین موبائل فون کنکشنز کو خاموش کرا دیا گیا۔ دو دنوں کے لیے پاکستان کے تمام موبائل فون آپریٹرز کو یہ حکم پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کی جانب سے ملا۔پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے وزارت داخلہ کے احکامات کا حوالہ دیتےہوئے موبائل آپریٹرز سے محرم کے دوران کسی بھی دہشت گردی کے واقعے سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔صنعتی ماہرین نے بتایا کہ 80 ملین سے زائد موبائل فون صارفین، یعنی کل صارفین کا 70 فیصد، اس بلیک آؤٹ کی زد میں آئے جس سے پاکستان میں روزمرہ زندگی تھم سی گئی۔3 ملین وائرلیس (ڈبلیو ایل ایل) کنکشن بھی بند کیے گئے، جن میں سے 6 لاکھ وائرلیس براڈبینڈ سروسز (جیسا کہ ایوو، نائٹرو، ورلڈکال اور دیگر) بھی شامل تھیں۔نقصان کا درست ترین تخمینہ ابھی لگایا جا رہا ہے، لیکن اندازہ ہے کہ موبائل فون کمپنیوں کو 1.5 بلین روپے سے زیادہ اور حکومت کو محصولات کی مد میں تقریباً 500 ملین روپے کا خسارہ ہوا ہے۔پاکستان کا بیشتر حصہ کا رابطہ محض 3 ملین لینڈ لائن فونز کے نازک کاندھوں پر تھا، جو اپنی ساخت اور تعداد کے اعتبار سے پاکستانی شہریوں کی ٹیلی کام طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں۔اس بندش کے دوران لوگوں مختلف قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس کی تفصیلات کو لکھنا ناممکن ہے۔ بس اتنا حوالہ دے دینا کافی ہوگا کہ پاکستان میں اور بیرون ملک مقیم افراد کے پاس اپنے اہل خانہ اور دوستوں سے رابطے کا کوئی ذریعہ میسر نہ تھا۔ہنگامی صورتحال، طبی و دیگر اشد ضروریات، کاروباری اداروں،معاملات اور دوستیوں کے لیے رابطے ضروری ہیں اور اس لیے پابندیاں جانی و مالی دونوں لحاظ سےلامحدود حد تک نقصان پہنچا سکتی ہیں۔اس سے بھی کہیں زیادہ خطرناک یہ کہ موبائل فون سروسز بندش کی روش کو معمول بنا لینے کا خطرہ موجود ہے۔ صنعتی ماہرین سمجھتے ہیں کہ حکومت ہر مذہبی و قومی موقع پر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے رابطے کی اِن سہولیات کو ختم کرے گی۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ موبائل فون سروسز کی معطلی ایسا بھی ہتھیار بن سکتی ہے جو حکومت آنے والے انتخابات میں سیاسی فائدے حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔حکومت کی جانب سے صنعت کو دبانے کے لیے اٹھائے گئے ایسے ہی اقدامات ٹیلی کام شعبے میں غیر یقینی صورتحال کو پروان چڑھا رہے ہیں جو سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع، قومی معیشت، رابطوں، فروخت کنندگان ، مارکیٹ اور میڈیا اور ان تمام پر افراد پر، جو بلاواسطہ اور بالواسطہ ٹیلی کام پر بھروسہ رکھتے ہیں، کو متاثر کرنے جا رہی ہے۔ یہ سب ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب حکومت اگلے تین ماہ میں 3جی لائسنس نیلامی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس شعبے کو سود مند اور رواں رکھنے کے لیے حکومت کے ذہن میں موجود منصوبے اور حکمت عملی کو سمجھنا مشکل ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ایک سخت ترین دور آ چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس شعبے کو چلانا آپریٹرز کے لیے کڑا امتحان اور صارفین کے لیے بھی اتناہی مشکل ہوگا۔ جبکہ صنعت کو منافع بخش اور صارفین کو محفوظ رکھنے کا ذمہ ادارہ ادارہ، پی ٹی اے، وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے احکامات کو موبائل فون کمپنیوں تک پہنچانے کے لیے ڈاکیے کا کردار ادا کرنے کے لیےعلاوہ کچھ نہیں کر رہا۔

یہ بھی پڑھیں  لاہور،اسلام آباد اور کراچی میں موبائل سروس بند

 

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker