تازہ ترینغلام مرتضیٰ باجوہکالم

موبائل فون کااستعمال کرنے والے کورونا کاشکار

کورونا وائرس کی نئی اقسام، حقائق کیا ہیں؟گزشتہ برس دسمبر سے اب تک کورونا وائرس کی کئی نئی اقسام سامنے آ چکی ہیں، جو چینی شہر ووہان میں سامنے آنے والے کورونا وائرس کے مقابلے میں کئی زیادہ متعدی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق وائرس کے جین میں تبدیلی اس کی میوٹیشن یا نئے ویریئنٹ کا باعث بنتی ہے۔”جیوگرافک فاصلے کی وجہ سے نئے جینٹک ویریئنٹس پیدا ہوتے ہیں“۔متعددی بیماریوں سے متعلق طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سمیت کسی بھی وائرس میں میوٹیشن یا نئی اقسام کا پیدا ہونا کوئی اچھوتی بات نہیں۔ وائرس وقت کے ساتھ ساتھ ارتقائی عمل کی وجہ سے تبدیل ہوتے ہیں۔  میوٹیشن کی رفتار تاہم کچھ وائرسوں میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچوں کو متاثر کرنے کے اعتبار سے کورونا وائرس کے پرانے اور نئے ویریئنٹس کے درمیان فرق واضح نہیں ہو سکا ہے۔ ماہرین کا تاہم یہ بھی کہنا ہے کہ اس حوالے سے مشاہدے اور مطالعے کی ضرورت ہے۔کیا کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف مزید احتیاطی تدابیر کرنا ہوں گی؟۔کورونا وائرس کی نئی اقسام کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے نئی تدابیر کی ضرورت نہیں، تاہم تواتر کے ساتھ ہاتھ دھونے، سماجی فاصلہ رکھنے اور ماسک کے استعمال سے جس طرح ووہان میں سامنے آنے والے کورونا وائرس کی روک تھام ممکن ہے، اسی طرح اس وائرس کی نئی اقسام بھی روکی جا سکتی ہیں۔ تاہم اس معاملے پر بھی ماہرین مسلسل نگرانی کا مشورہ دے رہے ہیں۔دوسری جانب بتایا جاتاہے کہ موبائل فون رکھنے والے چند برسوں میں کورونا وائرس سمیت موذی متعددبیماریوں کے شکار ہوگئے۔
ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق آجکل جسے دیکھو اس کے ہاتھ میں موبائل فون ہے اور وہ اس کی دنیا میں گُم ہے۔ ایسالگتاہے موبائل فون ہمارے جسم کا ایک حصہ ہے اور ہماری عادتوں میں شامل ہے، بہت سے لوگوں کیلئے یہ کسی علت سے کم نہیں۔ سوتے، جاگتے، کھاتے، پیتے، اٹھتے، بیٹھتے، یہاں تک کہ واش روم میں بھی موبائل فون کا استعمال اس قد رعام ہے کہ ایسا لگتاہے جیسے آپ موبائل فون استعمال نہیں کررہے بلکہ موبائل فون آپ کو استعمال کررہاہے۔ لیکن کیا کبھی سوچا کہ آپ کی نظریں جس اسکرین پر جمی رہتی ہیں، اس نیلی روشنی کے کیا نقصانات ہیں؟
اگرچہ سائنسدان موبائل فون کے استعمال سے ہونے والے نقصانات پر زیادہ اتفاق نہیں کرتے، تاہم تحقیق یہ کہتی ہے کہ طویل عرصے تک موبائل فون کا زیادہ استعمال صحت کیلئے مضر ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ کیلیفورنیا کے شعبہ صحت عامہ نے موبائل فون سے خارج ہونے والی ریڈیو فریکوئنسی انرجی سے بچنے کا ہدایت نامہ بھی جاری کر رکھا ہے۔فون سے نکلنے والی روشنی نہ صرف آپ کی آنکھوں کیلئے بلکہ آپ کی جِلد کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔ اپنی سوشل میڈیا کی خبروں اور فیڈز کو اسکرول ڈاؤن کرتے ہوئے آپ کا وقت تو گزر جاتاہے لیکن اس سے ہونیوالے نقصانات کے بارے میں بھی آ پ کو فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔
اس کو یوں سمجھیں کہ جب آپ دھوپ میں باہر نکلتے ہیں تو چہرے پر سن اسکرین کی دو دو تہیں چڑھالیتے ہیں لیکن موبائل کی شعاعیں آپ خود گھر کے اندر لے آتے ہیں۔ موبائل فون سے نکلنے والی نیلی شعاعوں کی ویو لینتھ چھوٹی ہوتی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے سورج کی شعاعوں کی ہوتی ہے۔ ریسرچ یہ کہتی ہے کہ جب یہ آپ کی آنکھوں یا جلدپر پڑتی ہے تو یہ آپ کی جلدکو تیزی سے ڈھالنے کا باعث بن سکتی ہے۔
ریسرچ سے یہ بھی پتہ چلا کہ نیلی روشنی کے سامنے بہت دیر تک رہنے سے جلد پر ایسی پگمنٹیشن اور ریڈنیس ہو سکتی ہے جو الٹراوائلٹ شعاعوں سے ہو تی ہے۔ ریسرچ مزید یہ کہتی ہے کہ دکھائی دینے والی یہ روشنی جلد کی مخصوص خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کریہ کہ نیلی روشنی میں سرائیت کرنے کی خصوصیت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ڈی این اے کی خرابی بھی سامنے آسکتی ہے۔ اس سے جلدمیں کولاجن، ایلاسٹن (جلد یا اعضا کی لچک پذیری) میں خرابی اور ہائپر پگمنٹیشن میں زیادہ ہو سکتی ہے۔
نیلی روشنی سے قطع نظر، موبائل سے دیگر نقصانات ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے تجربات کے مطابق موبائل فون جب سیلولر ٹاور سے سگنل موصول کرتاہے یا موبائل سگنل بھیجتاہے تو اس سے ریڈیو فریکوئنسی انرجی خارج ہوتی ہے، جوکہ انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔
موبائل فون کا استعمال یوں تو ہرعمر کے فرد کیلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے مگر بچوں پر اس کے انتہائی مضراثرات ہوسکتے ہیں۔ جنوبی کورین سمیت دنیا بھر کے مختلف ماہرین کے مطابق جو بچے زیادہ دیر تک موبائل فون استعمال کرتے ہیں یا اسے اپنی آنکھوں کے بہت نزدیک رکھتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں بھینگا پن آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں کورین ”کے کونم نیشنل یونیورسٹی ہسپتال“کی ٹیم نے 7سے 16برس کے 12لڑکوں پر تحقیق کی، جنہیں روزانہ چار سے آٹھ گھنٹے موبائل فون کو اپنی آنکھوں سے آٹھ سے بارہ انچ کے فاصلے پر رکھ کر استعمال کرنا تھا۔ دو ماہ بعد ان میں سے نو لڑکوں میں بھینگے پن کی ابتدائی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئیں۔ ماہرین کے مطابق اسکرین پر نظر رکھنے سے بچوں کی آنکھیں اند رکی طرف مڑنے لگتی ہیں اور وہ بھینگے پن کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ بعد میں ان بچوں سے موبائل فون کی عادت ختم کروائی گئی تو ان کے بھینگے پن کی علامات بھی ختم ہوگئیں۔
جیسے ہر چیز میں اعتدال ضروری ہے، اسی طرح موبائل فون کے استعمال میں بھی احتیاط ضروری ہے، بالکل ایسے ہی جیسے کھانے پینے یا ڈائٹنگ میں کی جاتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پروسیسڈ کھانے یا میٹھے مشروبات سے پرہیز ضروری ہے، تاہم ویک اینڈ پر پیزاا ور برگر کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اسی طرح مختصر وقت کے لیے انسٹا گرام اسکرول کرنے یا ویڈیو گیمز کھیلنے میں کوئی قباحت نہیں۔ اس ضمن میں چند احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو آئندہ زندگی میں پریشانی کے مواقع انتہائی کم ہو سکتے ہیں۔
٭ماہرین کے مطابق آپ کو مسلسل تیس منٹ سے زیادہ موبائل فون پر نہیں دیکھنا چاہئے۔فون کو اپنے جسم سے دور رکھیں۔ جب سگنل کمزور ہوں تو موبائل فون استعمال نہ کریں، مجبوری ہو تو کم سے کم استعمال کریں۔ رات سوتے وقت فون کو اپنے بستر کے قریب نہ رکھیں۔موبائل فون پر ویڈیو یا آڈیو اسٹریمنگ کم سے کم کریں یا بڑی بڑی فائلیں ڈاؤن لوڈ یا اَپ لوڈ نہ کریں۔ دائیں کان کے بجائے بائیں کان پر موبائل فون استعمال کریں۔بچے فون کو آنکھوں کے بالکل نزدیک یا لیٹ کر استعمال نہ کریں۔ فون کی برائٹنیس (روشنی) کم رکھیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button