تازہ ترینسائنس و آئی ٹی

موبائل کمپنیاں ملکی سلامتی کا خیال رکھیں، چیف جسٹس

simکراچی (مانیٹرنگ سیل)  سپريم کورٹ کو بتايا گيا ہے کہ ووٹر لسٹوں سے تاريخ پيدائش اور والدہ کا نام نوٹ کرکے جعلی سم حاصل کی جاتی ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ غیر قانونی سمیں ملزمان کیلئے آسان طریقہ واردات بن گئی ہیں۔ کراچی امن و امان کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی اے غیر قانونی موبائل فون کنکشن پر صفائی دینے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، بتایا کہ ملک میں 1 کروڑ 25 لاکھ سمز ایکٹو ہیں، سمز کی فروخت کیلئے بائیو میٹرک سسٹم دسمبر میں کام شروع کرے گا، ایک شناختی کارڈ پر 5 سم کی خریداری کا اطلاق پورے ملک میں کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ووٹر لسٹوں میں موجود تاریخ پیدائش اور والدہ کا نام حاصل کرکے با آسانی کسی اور کی سم کوئی اور ایکٹو کرالیتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ غیر قانونی طور پر ایکٹو کرائی گئی سم ملزمان کی آسان طریقہ واردات بن گئے ہیں، پی ٹی اے اور موبائل فون کمپنیر مسئلے کا عارضی حل پیش کریں کہ مجرموں کو سمز کے غیر قانونی استعمال سے کیسے روکا جائے۔ کراچی پولیس چیف نے عدالت کو بتایا کہ ووٹر لسٹوں کے ذریعے سم نکلوائی جاتی ہیں، شہری کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے نام پر کئی کئی سمز ایکٹو ہیں، ایڈیشنل آئی جی کراچی نے سمز کو ایکٹو کرنے کا چینی آلہ بھی عدالت میں پیش کیا، جس سے تصدیق کے بغیر ہی سمز ایکٹو کی جاسکتی ہے۔ شاہد حیات کا کہنا تھا کہ موبائل سموں کا مسئلہ قانونی ہوجائے تو 50 فیصد اغوا برائے تاوان کے کیسز ختم ہوجائیں، چیف جسٹس نے کہا کہ عام دکانوں اور پتھاروں پر فروخت ہونے والی سم کی نادرا سے تصدیق کرائیں یا انہیں بند کریں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker