تازہ ترینکالم

محب وطن لوگوں پر پابندی کیوں ؟

atiqزلزلہ آیااور سرکاری وغیر سرکاری ،رفاہی وفلاحی تنظیمیں ریسیکیومیں لگ گئیں ۔پاک فوج ہمیشہ کی طرح عوام کی حفاظت میں سب سے آگے رہی جبکہ اس کے بعد پہنچنے والی تنظیم جماعۃ الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن تھی ۔یہ اسلام کی عملی تصویر بنے اسلام کے فلاح وبہبودکے رہنما اصولوں کی عملی تصاویر پاکستانی نیوز چینلوں پر چھائے رہے ۔ زلزلہ زدہ علاقے کے کسی بھی حصے کی رپورٹنگ ہو یہ لوگ وہاں پر لازمی میڈیا سے پہلے موجود ہوتے تھے اور ان کی خدمات سے وہاں کے لوگ مستفیذ ہورہے ہیں ۔زلزلے کے بعد ان کے کام کو تقریباََ ہرنیوز چینل نے سراہا ہے ۔ لیکن انہی دنوں میں میڈیا پر ایک خبر چلی کہ جماعۃ الدعوہ اور فلاح انسانیت پر پابندی لگادی گئی ہے جسے میڈیا نے بریکنگ نیوزبناکر چلایا اور جب بریکنگ نیوز کی دوڑ سے باہر نکل کر دیکھا تو سمجھ آئی کہ خبر ایسی نہیں تھی بلکہ صرف میڈیا کوریج پر پابندی لگی ہے ۔اس پر پھر وزارت داخلہ کی طرف سے بیان بھی سامنے آیا کہ جماعۃ الدعوۃ اور فلاح انسانیت پر کوئی پابندی نہیں ۔ جس دن یہ سب کچھ ہوا اس سے اگلے دن امیرجماعۃ الدعوۃ پروفیسر حافظ محمد سعید کی فیصل آباد آمد تھی جہاں انہوں نے 60لاکھ کی مالیت کا سامان زلزلہ زدہ علاقوں میں روانہ کیااور میڈیا سے بات بھی کی۔ اس سے اگلے ہی دن وہ تمام سامان فیصل آباد کی ٹیم نے تقسیم بھی کردیا اور مزید علاقوں کادورہ کیاتاکہ مزید امدادی کاروائیوں کو پھیلایاجاسکے۔ فیصل آباد کے ترجمان عثمان صادق سے جب اس متعلق بات ہوئی تو ان کا کہناتھا کہ’’ میڈیا کی کوریج کی ہمیں پرواہ نہیں بلکہ ہم خدمت اللہ کی رضا کے لئے کرتے ہیں اور ہم اپنے بھائیوں کو مصیبت کی اس گھڑی میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتے ۔ یہ ہمارا دینی فریضہ ہے ۔اس سامان میں ایک ہزار خاندانوں کے لئے خشک راشن ،دوہزار گرم بستر ،خیمے ،جیکٹس اور سات لاکھ روپے نقدی تھے ۔ امدادی سامان لوئردیراورشانگلہ کے متاثرہ علاقوں میں تقسیم کیا گیا‘‘۔اگر یہ کہاجائے کہ راستے کی مشکلات اور موسم کا غصہ ان اللہ کے بندوں پر اثر انداز نہیں ہوتے بلکہ یہ اللہ کے فضل ورحمت سے ان رکاوٹوں کو عبور کرتے گذر جاتے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ان کا کام دیکھناہوتو 2005ء کے زلزلہ شدہ علاقوں ، قحط زدہ تھر پارکر،سیلاب اور حالیہ زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں جاکرآپ خود دیکھ سکتے ہیں ۔
جماعۃالدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی خدمات کو اگر دیکھاجائے ۔میں زیادہ دور نہیں جاتا ،نہ میں 2005ء کے زلزلے کی بات کررہاہوں اور نہ ہی تھرپارکر میں قحط کی جس میں فلاح انسانیت نے اتنا بہترین کام کیا کہ وہاں کہ ہندوحافظ محمد سعید کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ہمارا مائی باپ ہے ۔میں صرف حالیہ زلزلے کی بات کروں گا اور وہ بھی 7نومبر تک کی ۔7نومبر تک فلاح انسانیت فاؤنڈیشن 10اضلاع تک پہنچ چکی تھی جس میں بونیر،مینگورہ،دیر،شانگلہ اور چترال جیسے علاقے شامل ہیں ۔7نومبر تک25ریلیف کیمپس،75میڈیکل کیمپس،28500کے قریب مریضوں کا علاج،272ڈاکٹر زاور پیرامیڈیکل سٹاف،102 ایمبولینس،5650 خاندان کے لئے راشن،2827گرم کمبل ،دیگر ساما ن اور روزانہ کی بنیادوں پرپکاپکایاکھانا اس کے علاوہ ہے اور نقدی رقوم اس کے علاوہ ہے ۔اس کے علاوہ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے رضاکار وہاں تک پہنچے ہیں جہاں تک کوئی حکومتی اہلکار نہیں پہنچ سکا۔
زلزلہ کی تباہی،بے سروسامانی ، شدید سردی اور کھلے آسمان تلے متاثرین کوامداد پہچانے کی کوششو ں میں مصروف یہ مجاہد صرف ریسکیو تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ بلوچستان میں جب کوئی حکومتی اہلکار جانے سے کتراتا تھاتب یہ جماعت وہاں جاکر رائے عامہ پاکستان کے حق میں ہموار کرتی ہے اور دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتی ہے ۔تحریک طالبان پاکستان اور اس جیسی کئی دوسری جماعتوں کے خلاف سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے یہی مذہبی لوگ تھے ۔جماعۃ الدعوۃ جس نے سب سے پہلے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے اور وطن عزیز کے امن کو سبوتاژ کرنے والے عناصرخودکش حملوں، فرقہ واریت، تکفیر اور خارجیت کے خلاف آواز اٹھائی اور تمام دینی و سیاسی جماعتوں کے علاوہ سیاست دانوں کو بھی اس بات کی طرف بلایا کر وہ وطن عزیز میں فساد کے حرام ہونے کو بیان کریں۔ اگر ہم ذہنوں پر زور دیں اور اپنے اردگرد کا جائزہ لیں تو حکومتی سطح پر تو جنرل راحیل شریف کے چیف آف آرمی اسٹاف بننے کے بعد’’را‘‘ کی شرارتیں سامنے آئیں۔ ورنہ گذشتہ پندرہ سالوں سے دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ اور انڈیا کی سازشوں کو بے نقاب کس نے کیا؟ کشمیریوں کو سب نے تنہا چھوڑدیا تو ان کے ساتھ کون کھڑا رہا؟ کس کے سر کی قیمتیں لگیں اور ممبئی حملوں کے الزام لگے لیکن کون تھا جو ساری دینی جماعتوں کو ساتھ ملا کر پاکستان کے دفاع کی بات کرتا رہا؟اسی طرح کشمیر میں آئے دن کلمے والا جھنڈا پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ نظر آرہا ہوتا ہے۔ کشمیری! ’’حافظ سعید کا ایک اعلان۔۔کشمیر بنے گا پاکستان ‘‘ کے نعرہ لگاتے نظر آتے ہیں۔حافظ محمد سعید کی آواز کو بند کرنے کی خواہش کس کی ہے اور حافظ سعید کی آواز پاکستان کی سا لمیت، کشمیر کی آزادی،اتحادِامت، خدمتِ خلق اور فلاح انسانیت کے سوا کیا ہے؟ کس کے متعلق بھارت دن رات روتارہتاہے اور ان کے قتل کی کئی ناکام کوششیں کرچکاہے ۔جماعۃ الدعوۃکاسب سے بڑا جرم نظریہ پاکستان کو دوبارہ سے نوجوان نسل کے ذہنوں میں پیداکرکے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے ۔
آج ہر پاکستانی سوچ رہاہے کہ اتنی خدمت کرنے کے بعد بھی یہ جماعت ابھی تک سیاست سے اپنے آپ کو کوسوں دوررکھے ہوئے ہے ۔جبکہ کوئی اگر ایک روپیہ بھی لگاتاہے توبدلے میں ایک وزارت مانگتاہے ۔یہ کیسے لوگ ہیں جنہوں نے آج تک نہ کوئی کرسی مانگی نہ ہی ووٹ، نہ کوئی قبضہ کیا نہ کوئی ہڑتال، نہ کوئی مفاد مانگا اور نہ کرپشن کی، نہ ملک میں بدامنی کا سوچانہ کسی کی عزت پر حملہ کیا۔ تو ایسی جماعت پر پابندی کی باتیں چہ معنی دارد؟عموما ممالک میں اپنے مفاددیکھ کر تنظیموں کو اجازت دی جاتی ہے ۔لیکن اس جماعت کوتو ملکی مفاد کے برعکس ہر دفعہ پابندیوں کا سامناکرناپڑاہے ۔ وزارت داخلہ سے بیان آیا کہ ہم نے نوٹیفیکیشن نہیں دیا۔وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ جماعۃ الدعوۃ پر کوئی پابندی نہیں ۔صرف واچ لسٹ پر ہے۔ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور جماعۃ الدعوۃ کا منشور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت ہے، فلاح انسانیت ہے، کشمیر کی آزادی ، نظریہ پاکستان اور بقائے پاکستان کا عزم ہے۔ گذشتہ دہائی میں جماعۃ الدعوۃ نے میڈیا اور قانون کے محاذ پر جو جنگ لڑی اور سازشوں کا مقابلہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹنا، کام کو جاری رکھنا اور دلیل و قانون کے محاذ پر جھوٹ وپروپیگنڈے کا مقابلہ کرنا آسان نہ تھا، کشمیر سے اٹھنے والی دعاؤں نے،مظلوم مسلمانوں نے ،آفت کے مارے پاکستانیوں نے جو ہر دکھ کے گھڑی میں اس جماعت کو اپنی داد رسی کے لیے شانہ بہ شانہ ساتھ پاتے ہیں ، جو اعتماد جماعۃ الدعوۃوفلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر کیا وہ اس جماعت کا اثاثہ ہے ۔
آج خطے میں سامراجی قوتیں اپنے ناپاک عزائم کے راستہ میں پاکستان کو رکاوٹ سمجھتی ہیں اور ہر اس فرد، جماعت اور ادارے کے خلاف ہیں جس سے پاکستان کی سرحدوں، معاشروں، وسائل اور نظریہ کی حفاظت ہو، وہ ہراس آواز کو دبا دینا چاہتی ہیں جو ان کی جارحیت کے خلاف اٹھتی ہے۔ ایسے میں جناب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف آپ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ جماعۃ الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن جیسی رفاہی وفلاحی تنظیموں کو ساتھ لے کر چلیں تاکہ ہم اپنے ملک وقوم کو پوری دنیاکے سامنے ایک عظیم قوم کے طور پر لاسکیں ناکہ اپنی ہی جماعتوں پربیرونی دباؤپر پابندیاں لگاکر اپنے ہاتھ باندھ کر دشمن کو آسان شکار دیاجائے ۔اور جناب وزیراعظم یہ بھی ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔اس وقت پاکستان جس جگہ کھڑاہے اور ہمارے دشمن جس طرح کی چالیں چل رہے ہیں ایسے میں ایسی نظریاتی محب وطن جماعتوں کی اشد ضرورت ہے ۔خدارا انہیں دور نہ کریں ۔یہی پاکستانیوں کے دل کی آواز ہے
note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button