تازہ ترینکالممرزا عارف رشید

24مئی اور محسن پاکستان کی برسی

محسن پاکستان نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو کیا دیا اور پاکستان نے اپنے محسن کو تحفہ میں کیا دیا خود مختیار ریاست میں آج بھوک افلاس کا راج ہے کیا اس کو احسان کا بدلہ کہا جاتا ہے یہاں کا فنڈ تختہ لاہور پر لگ جاتا ہے نوکریوں کا کوٹہ تقسم کر دیا جاتا ہے غریب کسان کا پانی لاہور کے پارکوں کی نظر ہو جاتا ہے جس محسن پاکستان نے بانی پاکستان کو اپنی ریاست تحفہ میں دی اور کہا کہ میری ریاست کے عوام کا حق ان کو ضرور دینا جب پاکستان قیام عمل میں آیا تو اس کی کرنسی کی گارنٹی مانگی گی تو نواب آف بھاول پور نے اپنے خزانہ سے سونا گارنٹی میں دیا نواب آف بھاول پور کو بتا یا گیا کہ پاکستان کے خزانہ میں اتنی رقم نہیں ہے جو کہ ملازموں تنخواہ دے سکے جس پر ریاست کے خزانہ سے دیا گیا آج وہی ریاست اپنا حق مانگ رہی ہے لیکن حکومت وقت حق دینے کو تیار نہیں جب الیکشن کا موسم آتا ہے منشور میں صوبہ کا حوالہ دیا جاتا ہے اور بڑی بڑی باتیں کی جاتی ہیں 24مئی 1966 والی ریاست جب نواب سر صادق مند خان عباسی دنیا فانی کو خدا حافظ کہا تو اُن کے جانے کے بعد جیتنی بھی حکومتیں آئی اور حکمران آئے کسی نے وعدہ وفا نہیں کیا بلکہ بھاول پور کے تمام احسانوں کو فراموش کر دیا بھاول کے عوام کے لیے ترقی خوش حالی کے تمام دروازے بند کر دئیے گئے لوڈشیڈنگ مہگائی سیلاب بے روز گاری ہمارا مقدر بن گیا 9 مئی 2012میں پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی گی جس میں بھاولپور صو بہ بحالی شامل تھا اور 2013کی انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ ن کے سربراہ اور موجودہ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کے منشور میں شامل تھابھاول پور صوبہ کا وعدہ جس کی بنا پر بھاول پورکے عوام نے صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبروں کو میابی کی میراج تک پہنچا لیکن معمولی مراعات مل جانے پر بھاول پور کے عوام کا سوداہ کر دیا گیابحالی صوبہ اور صوبہ کے قیام کا عمل درمیان میں رہے گیابانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو محسن پاکستان نواب سر صادق مند خان عباسی نے صاف صاف لفظوں میں کہا تھا میری ریاست خود مختیار ریاست ہے یہاں کے عوام کو ان میں ضرور شامل کیا جائے 3 اکتوبر 1947قیام پاکستان کے 41دن بعد قائداعظم محمد علی جناح اور محسن پاکستان نواب سرصادق مند خان عباسی کے درمیان باہمی معاہدہ ہوا 48 49 50 51 میں ملک کے پہلے وزیر اعظم نواب لیاقت علی خان اور دوسرے گورنر جنرل آف پاکستان خواجہ نظام دین نے اپنی کابینہ میں منظوری کے بعد بھاول پور صوبہ کو صوبائی درجہ دے دیابعد میں 1952کے الیکشن میں بھاول پور صوبہ کی حیثیت سے اپنے امور چلنا شروع کر دے گئے جبکہ 1954 میں ون یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا دیگر صوبوں کی طرح بھاول پور صوبہ کو بھی ون یونٹ میں شامل کر دیا گیا17سال ون یونٹ میں گزر گے اُ س وقت کی ایک خاکی صدر نے و ن یونٹ توڑکر بھاول پور کوپنجاب کی غلامی میں دے دیاملک کے دیگر صوبوں نے اپنی حیثیت کے بحال ہوتے ہی کام شروع کر دیا اگر بحال نہیں کیا گیا تو صوبہ بھاول پور بحال نہیں کیا گیا اور محسن پاکستان نواب سرصادق مند خان عباسی کے احسانوں کا بدلہ اس طرح دیا گیا خود مختیار ریاست کو غلامی کی نظر کر دیا گیا قیام پاکستان سے لیے کر اب تک کسی بھی حکومت نے بحالی صوبہ کے لیے کچھ نہیں کیا1970میں صوبہ بحالی کی تحریک چلائی گی آج تک یہاں کے عوام کو بھولی نہیں کل کی طرح یاد ہے ا س تحریک میں فرزندے بھاول پور نے اپنی جان کا نذرانہ بھی دیا1970میں جب دو لیڈروں کی جنگ شروع ہوئی تو شیخ مجیب نے کہا میری حکومت کے آنے کے بعد سب سے پہلے صوبہ بھاول پور بحال ہو گا دوسری طرف پیپلز پارٹی کے رہنما زو الفقار علی بھٹو نے بھی نعرہ لگایا کے حکومتی امور آجانے کے بعد بحالی صوبہ کو یقینی بنایا جائے گا مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں حکومتیں تو بن گی لیکن بھاول پور صوبہ بحال نہ ہوسکااب بھی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں موجود ہ ممبروں نے صوبہ بحالی کے لیے کچھ بھی نہیں کیا 15ایم این اے اور 30سے زائد ایم پی اے یہاں سے منتخب ہو کر جاتے ہیں لیکن کسی نے اپنی پہچان کی بات نہیں کی نہ ہی صوبہ بحالی پر بات کرنا پسند کیامحسن پاکستان نواب سر صادق مند خان عباسی کے عوام کے ہاتھوں میں ڈگریاں تو ہوتی ہیں لیکن نوکریاں نہیں دی جاتی 1 2 3 4سکیل کی نوکریاں ہمارے نصیب میں رہے گی ہیں آنے والی نسلیں اپنی شناخت تک بھول چکی ہیں محرومیاں ہما را مقدر کیوں 33 فیصد سے زائد کا رونیو ہم سے لیا جاتا ہے اور واپس 07دیا جاتا ہے یہ ہے احسان کا بدلہ میڈیکل میں ہمارا کوٹہ لاہور اورپنڈی والوں دیا جاتا ہے اپر پنجاب والے مقدس گائے کی طرح ہے جن کو سب کچھ آرام سے مل جاتا ہے نہیں ملتا تو ہمیں کچھ نہیں ملتاکمشنر ڈپٹی کمشنر ار پی اُو اور ڈی پی اُو دوسرے شہروں سے یہاں لگائے جاتے ہیں اس کو انصاف کہا جاتا ہے یہ کہا کا انصاف ہے جبکہ یہاں کے پڑے لکھے نوجوانوں کو صرف تسلی دی جاتی ہے آج نواب سر صادق مند خان عباسی اس دنیا میں ہوتے اور دیکھتے کہ اُن کی ریاست کے ساتھ کس طرح کا انصاف کیا جارہا ہے تو وہ ایک بار ضرور شرمندہ ہوتے محسن پاکستان سر صادق مند خان عباسی کے احسانوں کا بدلہ کس شکل میں یہاں کے عوام کو دیا جارہا ہے محسن نواب سر صادق مند خان عباسی کا چولستان جہاں کے لوگوں میں بھوک اور پیاس کا راج ہے انسان تو انسان وہاں کے جانور وں کو بھی پانی نہیں ملتاپیاسے جانور آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر فریاد کر تے ہیں کہ یہاں کا انسان تو ہمیں کچھ نہیں دے سکتا رب کائنات تو مہربانی کر دے چولستانیوں کا حق مانگنے پر بھی نہیں دیا جاتا جبکہ دوسرے شہروں سے آئے ہوئے لوگوں کو رقبہ الاٹ کر دیا جاتا ہے مجبور کسان پانی کم ہونے کی وجہ سے غر یب تر ہوتا جا رہا ہے چھہ ماہ پانی نہیں ملتا تو کبھی بار دا نہ کے لیے چکر لگاتا رہتے ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ پاکستان کے حوالہ کر دیا اُن کے نام کی لوکل چھٹی کی جاتی ہے محسن کے احسانوں کا کو کس طرح فراموش کیا جا تا ہے ہم صوبہ کی بات کریں تو ہم غلط ہے آج بھی تاریخ یا پھر ریکاڈ اُٹھا کر دیکھ لیے بانی پاکستان نے نواب آف بھاول پور سے کیا وعدہ کیا تھا جس پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا1947سے لیکر 2017تک ہمیں ہمارا حق نہیں دیا گیا اس برسی پر حکومت کو چاہیے بھاول پور صوبہ بحالی کا اعلان کریں۔؟؟؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker