تازہ ترینحکیم شہبا ز انو رکالم

موجودہ مسیحا اور ان کے کارنامے

پا کستا ن کا نظا م صحت اس قد ر کمزر ہو تا چلا جا رہا ہے کہ کئی مر یضوں کی موت قبل از وقت مر ض کی و جہ سے لا حق ہو رہی ہے۔ آ خر اس کی کیا و جہ ہے؟ کیا ہم یہ میڈیسن پہلے استعما ل نہیں کیا کر تے تھے یا پھر ان کو استعما ل کر نے کا طر یقہ کو ئی الگ تھا جو آ ج کے طبیبوں کو نہیں بتا یا جا رہا ہے ۔ اگر طر یقہ بھی و ہی ہے اور میڈیسن بھی وہی تو پھر یہ اپنا فعل کیوں چھو ڑ رہی ہیں۔ کبھی و قت تھا کہ ہم اِ سی میڈ یسن کو اپنے حلق سے اُتر تے ہی مر ض کی شدت میں افا قہ محسو س کیا کر تے تھے جس کی بنا پر بہت سی ایسی جا نیں صحت یا ب ہو تی تھی جو بہت بڑی بیما ری کا شکا ر ہو تی تھی۔ توپھر آج یہ اپنا کا م کیوں نہیں کر رہی ہیں ؟ کیو نکہ یہی میڈیسن لو گوں کو پہلے ہی کثر ت سے استعما ل کر وائی جا چکی ہیں جن کی وجہ سے انسا نی جسم کے اندر قو ت مدافعت کم اور جر ا ثوموں طا قت بڑی چلی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے طب فر نگی کاطر یقہ علا ج نا کام تر نا کا م ہو تا جا رہا ہے۔ ہمیشہ طبیب حضرات مر یض کوہا ئی لیول کی دواء استعما ل کرا نے میں مشغول رہے ہیں جس سے مر ض کی شد ت میں کمی و ا قع ہو تی تھی آ ج کے اس تر قی یا فتہ دور میں بڑی بڑی ہا ئی کوا لٹی کی دوائیں مر ض کی شد ت کم کر نے میں نا کام ہی نہیں بلکہ کئی قسم کی اور بیماریوں کو پید ا کر نے کا با عث بن رہی ہے۔کبھی ایسا و قت بھی تھا کہ اچھے طبیب حضرات بھی ہا ئی کمپسٹی کی دواء مر یض کے جسم میں داخل کرنے سے قبل ان کے ہا تھ تھر تھرایا کر تے تھے۔ اب وہی دواء کے مسلسل استعما ل سے مر یض کے لیے چین کی سا نس لینا بھی محا ل ہے۔جب طب فر ا نگی طر یقہ ہا ئے علا ج نا کا م ہے تو اپنی نیچر کی طر ف کیوں نہیں لو ٹ رہے۔مجھے افسوس ہے کہ آ ج کہ طبیب حضرا ت صر ف اور صر ف میڈ یسن کے او پر لگے ہو ئے لیبل تک ہی محد ود ہیں اور ان کو تو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ جو دوا ء ہم مر یض کو استعما ل کر وا نے جا رہے اس کی بنیا د کیا ہے یہ کہا سے آئی کیسے تیا ر کی گئی ہے۔ ہر روز ہم غذا کھا تے ہیںیہ زہریلے ما دوں سے بھر پور ہے ۔ اگر ہم لا کھ بار کوشش بھی کر ئے تو کہ اچھی سے اچھی اور منا سب غذاؤں کا استعما ل کرئے تو یہ ہر گز نا ممکن ہے۔کیونکہ اس غذا کی بنیا د بھی تو سمیِ ادویا ت سے رکھی گی ہے۔اسی لیے ہم اپنی لا کھ کو شش کے با و جو د بھی اس غذا کے زہر یلے پن کو ختم نہیں کر سکتے ہر شخض نا قص اور نا منا سب غذا کا استعما ل کثر ت سے کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم بہت سی بیما ریو ں کا شکا ر ہو رہے ہیں جب ایک بے بس شخص اپنی مر ض کے ہا تھوں مجبور ہو کر کسی طبیب سے رجو ع کر تا ہے تو اس بیچا رے کو اپنا چیک اَپ کروانے کے لیے گھنٹوں تک طبیب کا انتظا ر کر نا پڑتا ہے اگر خو ش قسمتی اسے اپنا چیک اَ پ کر وانے کا مو قع ملتا ہے تو طبیب اس مر یض کے مر ض کی تشخیص کے لیے سوا ل و جو ا ب کے بعد بیسوں ٹیسٹوں کا انتخا ب کر کے اس کو لیبار ٹری میں بھیجا جا تا ہے اور اس کی مر یض کے مر ض کی تشخیص کا انحصار ٹیسٹو ں پر ہو تا ہے۔ جبکہ لیبار ٹری میں اس بیچا رے کو 3 سے4 ما ہ کا ٹا ئم دیا جا تا ہے ،،یعنی کے مر ض کی شد ت آ ج اور علا ج ایک سا ل کے بعد ،،جب مریض تھک ہا ر کر دوبارہ طبیب کو ملتا ہے تو اس ایک پیپر تھما دیا جا تا ہے جس پر اسی ادویا ت لکھی ہو تی جو اس شخص کی پہنج سے دور ہو ۔اب یہ شخص اپنے مر ض کی خا طر اپنی بیوی ، بچوں کا پیٹ سیر کر نے کی بجا ئے میڈیسن لے کر استعما ل کر تا ہے تو کو ئی افا قہ محسو س نہیں کر تا ۔اب سو چنے کی با ت تو ہے کے ابھی تک اس شخص کے مر ض کی تشخیص ہی نہیں ہوئی تو پھر اس کو یہ میڈیسن کس لیے لکھ کر دی گئی ہے۔ جب کے اس کی تشخیص 3 سے4 ما ہ بعد ہو نی ہے بغیر تشخیص کے دی گئی میڈ یسن مر یض پر منفی اثرا ت پیدا کر نے کا سبب بنتی ہے جب تک اس کی مر ض کا پتہ چلتا ہے تب تک مر یض اپنی تما م تر تکلیفوں کے نجا ت پا کر اپنے خا لق حقیقی سے جا ملتا ہے۔ بیسوں با ر یہ با ت ظہو ر ہو ئی ہیں کہ بہت سی خوا تین کا اپر یشن کر کے اس کے جنین کو اس دنیا فا نی میں لا یا جا تا ہے کیوں ؟اگر کسی عو ر ت کی نا رمل حا لت میں ڈلیو ری ہو تی ہے تو ڈلیو ری کے بعد اس کا اپر یشن کیا جا تا ہے وہ کس لیے کیا اس طب فر نگی سے قبل خوا تین کسی جنین کو پید ا نہیں کیا کر تی تھیں طبیب حضرات صرف اپنی جیب کی خا طر معصوم لو گوں کی جا ن سے کھلنا اپنا مشغلہ سمجھتے ہیں ۔
وہ قوم کبھی تر قی کی طر ف ما ئل نہیں ہو سکتی جو اپنی نیچر کو بھلا دیتی ہے اور اپنے ابا و اجدا کی وراثت کو چھوڑ دیتی ہے۔آ ج یہ طبیب حضرات جن کے بل بو تے پر اپنے بچو ں ، بیوی کا پیٹ بھر رہے ہیں ۔جن کے بو ئے ہو ئے پھل کو آج یہ کھا رہے ہیں جنہوں نے فن طب کو عرو ج تک پہنچا یا انہی کو غلط تسلیم کر تے ہیں طب یو نا نی کا نا م سنتے ہی چہر ے کے تا ثرات تبد یل کر لیتے ہیں اورطب یو نا نی کو نا قص طر یقہ علا ج سمجھتے ہو ئے نا اہل قرار دیا جا تا ہے ۔ لیکن اب لو گ اس طب فر نگی کے اچھی طر ح اشنا ہو چکے ہیں اور طب یو نا نی کی طر ف لو ٹ رہے ہیں۔ کیونکہ یہ وہ طریقہ علاج ہے جس نہ تو کسی قسم کی مضرت کا خوف ہے نہ جیب کٹنے کا ۔کئی میرے دوست اس بات سے یہ سوچیں گے کہ پتہ نہیں میرے نام کے ساتھ حکیم کا لفظ لگا ہوا ہے اس لیے میں ایلوپیتھک کے خلاف لکھ رہا ہوں ۔مگر واضع کر دوں کہ حقیقت یہ ہی ہے ۔اور میں تعصب سے بالا تر ہو کر اپنے ذاتی مشاہدات کا ذکر کر رہا ہوں جو بار ہا میرے سامنے آئے۔اور ایک ادنیٰ سا طبیب اور ایک ادنیٰ سا صحافی ہونے کے ناتے میں یہ الفاظ لکھنے پر مجبور ہوگیا ۔اگر میرے کسی بھائی کو میرے اس ٹوٹے پھوٹے الفاظوں سے پریشانی ہوئی ہو تو میں معذرت کرتا ہوں اور ساتھ یہ بھی ضرور کہوں گا ہمیں مل کر اس نظام کو درست کرنا ہو گا کیونکہ یہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے اور اگر ہمارے ملکی باشندے صحت مند ہوں گے تو ہمارا ملک بھی صحت مند ہو گا ۔

یہ بھی پڑھیں  چنیوٹ،محکمہ ایجوکیشن اور ریونیو سٹاف میں بھی تبدیلیاں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker