تازہ ترینکالم

موجودہ نصاب ونظام تعلیم کی تباہ کاریاں۔۔۔!

atiqقوموں کے عروج و زوال کا فیصلہ اس کے نوجوانوں کے دم قدم سے ہے اور نوجوانوں کی نشونما فکری ، اخلاقی ا ور نظریاتی تعلیم و تربیت سے مربوط ہے۔اگر معاشرے میں نوجوانوں کی تعلیم و تربیت پر دیانت داری، نیک نیتی اور خلوص دل کے ساتھ محنت کی جائے تو اس معاشرے کے نوجوان اپنے معاشرے کی روشن و مثالی تقدیر کے ضامن ہوتے ہیں اور اس کے بر عکس اگر کسی معاشرے میں نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کو ثانوی حیثیت دی جائے اور ان کی اخلاقی، فکری اور نظریاتی تربیت میں سستی و کاہلی سے کام لیا جائے تو ایسے نوجوان اپنے ہی معاشرے کی تباہی و بربادی کا سبب بن جاتے ہیں۔عالم اسلام میں جتنے بھی ایسے مسائل پنپ رہے ہیں جن کی وجہ سے ملت اسلامیہ دن بدن تنزلی میں گرتی چلی جارہی ہے ان میں جوبنیادی عنصر غالب ہے وہ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت سے عدم توجہی اور غفلت ہے۔ تمام مسلم ممالک کی قیادت نے اپنی نوجوان نسل کو بے لگام چھوڑدیا ہے جس طرف ان کا جی کرتا ہے وہ جانوروں کے منتشر ریوڑکی طرح چلے جاتے ہیں۔ اس میں ان نوجوانوں کا جرم نہیں بلکہ ان مسلم ممالک کے قائدین ان اسباب اور ان کے نتائج کے اصل مجرم ہیں، کیوں کہ انہوں نے اپنی سلطنت و حکومت کی طوالت عمری،عیش و عشرت میں محو ہونے اوراقوام مغرب کی اندھی تقلید میں گم ہونے کے سبب اپنی ملت کی نوجوان نسل (جو کہ قوم کا مستقبل ہوا کرتے ہیں) کی خبر گیری سے عمداا�آنکھیں چرالیں ہیں۔
پاکستان کے نصاب و نظام تعلیم میں بھی وہ سب خامیاں بدرجہا اتم موجود ہیں جن کے سبب ملک کی نئی نسل کا دیوالیہ نکل جائے، بلکہ اب دن بدن ملک میں رائج نصاب تعلیم میں سے جو پہلے ہی ناکافی تھا ایک مسلم ریاست کے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اس میں سے کچھ کو تو حذف کر دیا گیا ہے اور باقی ماندہ کی بھی خبر نہیں کہ۔۔۔۔۔۔میں پاکستان میں رائج نصاب و نظام تعلیم کی تباہ کاریوں کی جانب مختصراًگذارشات ارباب اختیار کی نظر کرنا چاہتا ہوں کہ اگر نصاب میں تبدیلی کا یہ سلسلہ جاری رہاتو اس ملک اور اس کی ملت کو تباہی و بربادی کی کھائیوں میں گرنے سے کوئی نہیں بچاسکتا ماسوائے اللہ تعلی ۔۔۔پاکستان کے موجودہ نصاب و نظام تعلیم سے فراغت حاصل کرنے والے طلبہ کی کثیر تعداد بے راہ روی کی شکار ہے ۔کسی معاشرے کی تباہی و بربادی میں جس قدر برائیوں اور خرابیوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ آج کے پاکستانی معاشرے میں پوری ہوچکی ہیں۔یعنی پاکستان کے تعلیم یافتہ نوجوان چوری،شراب نوشی،ڈاکہ زنی،غنڈہ گردی ،بدمعاشی من جملہ تمام خرافات و برائیوں میں لت پت ہوچکے ہیں۔والدین سے بد سلوکی،اپنے بڑوں کی بے ادبی،اساتذہ کی توہین،اسلامی شعائر کا تفاخر کے ساتھ مذاق اڑانا موجودہ نصاب و نظام تعلیم سے فارغ ہونے والوں کا طرہ امتیاز ہے۔
چند دن قبل میری بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ایک طالب علم سے ملاقات ہوئی دوران گفتگو اس نے بتایا کہ ایک طالب علم جو کسی امیرو سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور وہ کلاس میں اکثر غیر حاضر رہتا ہے اس نے چند دن قبل اپنے استاد کے کمرہ میں جاکر گالم گلوچ کے ساتھ بد اخلاقی و بد تہذیبی کے انتہائی درجہ تک پیش آیااور اس طالب علم نے اپنے استاد کواپنے سیاسی اثرو رسوخ سے ڈارانے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں رزلٹ اس کے حق میں نہ آنے کی صورت میں ۔یہ واقعہ بطور مثال درج کیا ہے ورنہ اس طرح کی درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں میثالیں موجود ہیں اور یہ واقعہ اسلام کے نام پر بننے والی ایک یونیورسٹی میں پیش آیا ہے تو آپ اس پس منظر میں باقی اداروں میں پیش آمدہ صورتحال کا اندازہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔بہر حال اس طرح کی سرکشی و عیاری و بدمعاشی کو دیکھ کر ایک صحیح مسلم نہیں بلکہ ایک سچے انسان کا سر ندامت و تاسف کے باعث جھک جاتا ہے۔ آج کے نوجوان لڑکیوں کے ناجائز عشق میں مبتلا ہوکر اپنے والدین کے ساتھ بڑھ چڑھ کر بد تمیزی و بد اخلاقی سے پیش آتے ہیں۔یہ عنصر بالخصوص ان نوجوانوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جو اے لیول ،او لیول اور انگریزی میڈیم سکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔میرے مشاہدے میں کئی ایسی لڑکے اور لڑکیوں مثالیں ہیں کہ جنہوں نے اپنے والدین کو بڑھاپے کی دہلیز میں قدم رکھنے کے سبب ان کو اپنے گھروں سے نکال کر اولڈ ہاوسس میں منتقل کردیا ہے اس طرح کی مثالوں پر کبھی پھر تفصیلی روشنی ڈالوں گا۔۔۔۔۔۔اور یہ سب کے سب نوجوان ملک میں موجودہ رائج نصاب و نظام تعلیم سے فارغ ہونے والے ہیں ۔
اب اصل بات یہ سوچنے کی ہے کہ موجودہ نصاب و نظام تعلیم سے فراغت حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں اس طرح کے موذی جراثیم کہا ں سے اورکیسے داخل ہوئے ۔تو میرے نزدیک ان جراثیم کے پنپنے کے دو بنیادی سبب ہیں ایک نصاب سے متعلق اور دوسرا نظام سے متعلق ہے۔اول یہ کہ ہمارے ہاں جو نصاب رائج ہے اس میں لارڈمیکالے اور سر سید احمد خان کے افکار و نظریات کی ترجمانی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے یعنی کہ لارڈ میکالے نے جو یہ کہا تھا 1835میں کہ ’’میں پورے برصغیر کادورہ کر چکاہوں یہا ں مجھے کسی طرح کی واضح کمزوری ہاتھ نہیں آسکی کہ جس کے سبب ہم ان کو یرغمال بنا سکیں البتہ دوراستے ہیں ان کے ذریعے سے ممکن ہے کہ یہ شکل و صورت کے لحاظ سے تو ہندوستانی باقی رہ جائیں گے مگر افکار و نظریا ت میں یہ انگریز کے ترجمان ہوں گے،اور وہ یہ ہے کہ ان کے نصاب تعلیم کو بدل دیں اور دوسرا انگریزی تہذیب و ثقافت کو یہاں نافذ کر دیا جائے‘‘لارڈ میکالے کی تمام تر سازشوں کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں سے اسلام کے امتیازات و افتخارات سے دور ہو جائیں۔ اور سر سید احمد خان نے انگریز وں کی سازشوں سے مرعوب ہوکر اندھی تقلید کرتے ہوئے انگریز کے نصاب و نظام تعلیم کو من و عن مسلمانوں میں فروغ دینے کی مکمل کوشش کی ۔اسی کے سبب آج ملک پاک کے نصاب تعلیم میں انگریزی کو صرف بطور سبق نہیں پڑھایا جاتا بلکہ مکمل طور پر اس کے ساتھ ہی انگریز ومغرب کے تہذیب و ثقافت کی تقلید بھی کرائی جاتی ہے۔دوسری جانب یہ ارض پاک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اس کے حصول میں جدوجہد کرنے والے تمامی افراد اس امید پر آزدی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے کہ اس ملک میں اسلامی نظام کو نافذ کیا جائے گا اور دوسرا اس ملک کو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے ۔ستم در ستم یہ ہے کہ اس ملک میں اسلامی شریعت کا عملاً نفاذ اور دو قومی نظریہ کی پاسداری کرنا تو درکنار بلکہ اس ملک کے نصاب تعلیم میں اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کو ثانوی حیثیت سے شامل نصاب کیا گیا ہے ۔اسلامیات اور مطالعہ پاکستا ن جو کہ اس ملک کی اساس و جان ہیں کو خانہ پری تک محدود کر دیا گیا ہے اور اب تو اس سے بھی بات آگے بڑھ چکی ہے ملک کے نصاب سے یونیسیکوکے تعاون سے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کو اس ثانوی حیثیت سے بھی خارج کردیا گیا ہے اور پنجاب کی نئی کتابوں نے بھی رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔
دوسرا عنصر جس کے سبب ارض پاک کے نوجوانوں کی اخلاقیات کا دیوالیہ نکل چکاہے وہ مروجہ نظام تعلیم ہے ۔یعنی کہ تعلیم کے شعبہ میں جس طرح نصاب کی اہمیت مسلم ہے اسی قدر نظام تعلیم کی اہمیت بھی مسلم ہے کیوں کہ صرف کتابیں پڑھ لینے سے انسان کی ذات کامل اکمل اور مکمل نہیں ہوسکتی تاوقتیکہ اس کو جس ماحول میں تعلیم دی جارہی ہے وہ ماحول پاکیزہ اور صاف نہ ہو۔نظام تعلیم میں ادارے کا اندرونی ماحول اور اساتذہ کے اخلاق حسنہ ،حسن معاملہ ،مشفقانہ و ہمدردانہ رویہ اور اس کے ساتھ ہی طلبہ کو عملی طور پر اسلام کے روشن اور مثالی تعلیمات اور اکابر اسلاف کی سیرتوں سے ناصرف روشناس کرانا بلکہ ان کی سیرتوں اور صورتوں کے مطابق طلبہ کے اندر یہ جذبہ بیدار کرنا کہ وہ اپنے آپ کو ان کے مطابق ڈھال لیں۔مگر افسوس ہمارے ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں اساتذہ کا تقرر سفارش ،رشوت یا بھاری بھر کم اسناد کو دیکھ کر کیا جاتا ہے ۔استاد کا تقرر کرتے وقت اس بات کو صرف نظر کردیا جاتا ہے کہ ہم جس کو استاد کے منصب کے لیے مقرر کر رہے ہیں اس کے ہاتھ میں ہم اپنے ملک کی قیمتی فصل دے رہے ہیں اگر اس فصل پر کام کرنے والا فرد نیک اور دیانت دار ہوگا تو فصل اتنی اچھی اور بہتر ہوگی بصورت دیگر اس فصل کا دیوالیہ نکل جائے گا۔اور اسی صورتحال کا آج ہر عقل و فہم کا درست ادراک کرنے والا کر رہاہے۔
اب بات حل کی ہے تو اس سلسلے میں چند ممکنہ حل تجویز کیے دیتا ہوں۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ شعبہ تعلیم سے وابستہ ہائرا یجوکیشن کمیشن،وفاقی وزارت تعلیم،صوبائی وزارت تعلیم اور یونیورسٹیز کے صدور تمام کالجز اور سکولز کے پرنسپل صاحبان سمیت تمام احباب ان مسائل کو سنجیدہ لیتے ہوئے اس کا حل تلاش کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں۔ دوسرا یہ کہ انگریزی زبان جو کہ آج کے وقت کی ضرورت ہے اس لیے اس کو نصاب سے خارج کرنے کی بات کوئی عقل سے عاری فرد کر سکتاہے البتہ میری تجویز ہے کہ مطالعہ پاکستان اور اسلامیات کو انگریزی زبان میں مرتب و مدون کروایا جائے اس امر سے دوفائدے حاصل ہوں گے انگریزی زبان بھی داخل نصاب رہے گی اور اسلامی تاریخ و مطالعہ پاکستان سے بھی نئی نسل متعارف ہوجائے گی اور یہ اصلاح پہلی جماعت سے ہی شروع کروئی جائے۔تیسری بات یہ ہے کہ چونکہ یہ ملک اسلامی ملک ہے اس لیے ہمارے نصاب تعلیم میں پانچویں کلاس سے عربی زبان کی تعلیم دی جائے کیوں کہ عربی قرآن و سنت کی زبان ہے اگر بچہ ابتدا ہی سے عربی سے متعرف ہوجائے تو اس کو قرآن و سنت کی حقیقی روح سمجھنے میں آسانی ہوگی۔چوتھی بات یہ کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کا تقرر سفارش ،رشوت اور بھاری بھر کم اسناد کی بجائے ان کی علمی و اخلاقی ،فکری و نظریاتی استعداد اور مہارت فن کو دیکھ کرتقرر کیا جائے ۔
آخر میں قرآن مجید کی سورہ آ عمران آیت نمبر164 کے ترجمہ کے ساتھ اپنی گذارشات پر ختم کرتا ہوں کہ جس میں اللہ تعالیٰ نبی مکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا تذکرہ فرمایا ہے کہ ’’بے شک مسلمانوں پراللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا ،جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے،یقیناًیہ سب اس سے پہلے گمراہی میں تھے‘‘۔ اس آیت پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے بالخصوص آیت کی تعلیم کے ساتھ انہیں پاک کرنے کا تذکرہ فرمایا گیا ہے۔یعنی کہ صرف کتابیں پڑھ لیناکافی و شافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ امر بھی لازم ہے کہ ا ن نوجوانوں کی اچھی ،نیک اور پاکیزہ تربیت کا بھی اہتمام کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس ملک پاک اور ملت اسلامیہ کوتمام شرور و فتن سے محفوظ فرمائے اور اس ملک پاک کے حکمران اپنی ترجیحات پرنظر ثانی کریں گے۔note

یہ بھی پڑھیں  آذادکشمیر ،پرائس کنٹرول کمیٹی نا کام ،انتظامیہ خاموش تماشائی ،عوام دونوں ہاتھوں سے لٹنے لگی

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. جناب چیف جسٹس صاحب کوں ارداس:
    پرائمری دے ہر ہر ٻال ، ہر چھوکری تے چھوکرے وچ بھلا ہک مادری زبان دے علاوہ بیاں کتݨان زباناں سکھݨ, لکھݨ،پڑھݨ، ٻولݨ تے سمجھݨ دی صلاحیت ھوندی اے؟ نوم چومسکی تے یونیسیف یونیسکو دے مطابق ٻالاں کوں صرف مادری زبان سکھاؤ۔
    پاکستان دے متفقہ ١٩٧٣ دے آئین دی اٹھارویں متفقہ آئینی ترمیم دے سولاں سال د ی مفت تعلیم تے عمل موجودہ نظام وچ ممکن کائنی۔ تعلیم عام کرنڑ دی واحد صورت صرف اے ھے جو:
    سکولاں کالجاں وچ سرائیکی تے پشتو کوں سندھی دا متبادل لازمی مضمون بݨاؤ۔ سارے سکول، کالج تے مدرسے صرف ترائے قسماں دے ھوون۔
    سرائیکی میڈیم،
    پشتومیڈیم،
    سندھی میڈیم۔
    صرف ھک غیر ملکی زبان ناںویں کنوں شامل نصاب کرو۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker