پاکستانتازہ ترین

گرجا گھر پر حملہ عالمی گریٹ گیم کا حصہ ہے ،مولانا فضل الرحمان

molna fazalکوئٹہ(مانیٹرنگ سیل) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاورمیں گرجا گھر پر حملے کو عالمی گریٹ گیم کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ واقعہ وطن عزیز کے خلاف ایک گہری سازش ہے جس میں امریکہ اوربھارت ملوث ہوسکتے ہیں جن کامقصدمذاکرات کاعمل سبوتاذکرناہے ، طالبان نے پشاور کے قصہ خوانی بازار میں چرچ کے قریب خودکش بم حملے کے واقعے سے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے، سانحہ کو طالبان سے جوڑنا مذاکرات کو سبوتاژ کر نا ہے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے میرحشمت لہڑی کی جانب سے اپنے اعزازمیں دیئے گئے عشائیہ کے موقع پرشرکاء سے گفتگوکرتے ہوئے کہا،اس موقع پرملک سکندرخان ایڈوکیٹ،اپوزیشن لیڈرمولاناعبدالواسع،سردارعبدالرحمن کھیتران،حاجی گل محمددمڑ،صاحبزادہ مولاناانس محموداوردیگررہنماموجودتھے،انہوں نے کہا ہے کہ سانحہ پشاور کو طالبان سے جوڑنے کی کو ششیں کی جارہی ہیں جبکہ طالبان نے اس کی زمہ داری قبول کی ہے اور نہ ہی اس سے کسی قسم کے تعلق کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ کیا ہم بھول گئے ہیں کہ ہمارے فوجی جنرل کو شہید کرنا ،فوج کو فاٹا میں مصروف رکھنا اور بد امنی کا ماحول پیدا کرنا کس کے فائدے میں ہے؟انہوں نے کہا ہے کہ لاہور میں سری لنکن کر کٹ ٹیم پر حملہ اور چینی انجینئر کو اغواء کرنے کے واقعات ماضی کی واضح مثالیں ہیں ا ن واقعات کے پیچھے محرکات کے حوالے سے کوئی تحقیقات سامنے نہیں آئیں لہٰذاہم مطالبہ کر تے ہیں کہ سانحہ پشاور کی تحقیقات کے لئے عدالت عظمیٰ کا اعلیٰ کمیشن قائم کیا جائے ۔درین اثناء مولانافضل الرحمن نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملے پا کستان کی سالمیت پر حملہ ہے، عالمی ادارے خا موش تماشائی بنے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ واقعات امن کے قیام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، ان واقعات کے ذریعے ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے،یہ باتیں انہوں نے نصیب اللہ خلجی کی جانب سے دیئے گئے ظہرانے کے موقع پرکہیں۔دریں اثناء مولانافضل الرحمن نے ممتازعالم دین مولاناغلام سرورکی وفات پردوسرے روزبھی جاکران کے صاحبزادوں اوران کے دامادمولاناعبدالغفورحیدری سے تعزیت کی،اس کے بعدجاکرشیخ الحدیث مولانامحمدمعصوم کی وفات پرتعزیت کی اورحافظ عبدالحق کی دستاربندی کرائی،نیزجمعیت کے بزرگ رہنماحاجی بازمحمد کبزئی کی عیادت کی اوربعدازاں کوئٹہ میں دوروزقیام کے بعدمنگل کے روزشام چھ بجے بذریعہ طیارہ واپس اسلام آبادروانہ ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button