تازہ ترینصابرمغلکالم

دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب

sabirمقدس ترین دن جمعتہ المبارک کئی بار اہل پشاور پر قیامت صغریٰ لے کر طلوع ہوا،اس بار بھی قوم کے دشمنوں نے خون کی ہولی کھیلنے کے لئے اسی دن کا انتخاب کیا، پشاور شہر سے جنوب کی جانب تقریباً دس کلومیٹر دور نیشنل ہائی وے 55جسے انڈس ہائی وے ، کوہاٹ روڈ بھی کہتے ہیں،کوہاٹ روڈ سے منسلک سڑک جس کا نام انقلاب روڈ ہے پر واقع ائیر بیس پر جہاں 2ہزار سے زائد افراد رہتے ہیں الصبع 5سے6بجے کے درمیان ایف سی کی کالی وردیوں میں ملبوس 13دہشت گردوں نے حملہ کر دیا،ان دہشت گرد بغیر نمبر پلیٹس دو گاڑیوں میں آئے اور انہیں گیٹ پر کھڑا کر کے دوگروپس میں بٹ کر دو مقامات سے ائیر بیس کے اندرپہنچے ،ایک گروپ انتظامی اور دوسرا ٹیکنیکل ایریا کی طرف بڑھا،بڈھ بیر ائیر بیس کے مرکزی گیٹ کے علاوہ تمام گیٹ سیکیورٹی نقطہ نظر سے بند تھے ،دہشت گردوں کو روکنے میں جونئیر ٹیکنیشن شان اور طارق اور ثاقب جو گارڈ رمیں تعینات تھے نے فائرنگ کر کے پانچ دہشت گردوں کو جہنم واصل کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی،باقی حملہ آور ٹکڑیوں کی شکل میں اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے جن میں سے ایک گروپ نے مسجد میں داخل ہو کر 16نمازیوں کو شہید کر دیا ۔خود کش جیکٹس ،راکٹ لانچراور دستی بمبوں سے لیس دہشت گردابھی مزید پیش قدمی کرنا ہی چاہتے تھے کہ صرف دس منٹ کے اندر پاک فوج کی کوئیک رسپانس فورس کا دستہ وہاں پہنچ گیااوران کے مذموم مقاصد کے آگے دیوار کھڑی کر دی،اسی دستہ کی فرنٹ لائن کی قیادت کرتے ہوئے کیپٹن اسفند یار نے شہادت حاصل کی دیگر ۔ترجمان پاک فضایہ کے مطابق شہداء کی تعداد 29ہے اور زخمیوں کی تعداد بھی29ہے جن میں سے 23افراد کا تعلق پاکستان ائیر فورس سے تھا،باقی میں پاک فوج،اور سول شامل ہیں،ان شہداء میں نائیک منظور،نائیک طارق،سینئیر ٹیکنیشن قیصر اورندیم،جونئیر ٹیکنیشنز زین،کامران،عمران،جاوید،طارق،صادق،زوہیب،فیض،عاصم،دانیال وغیرہ شامل ہیں ،پاک فوج کے جوانوں نے دہشت گروں کو مزید کسی خونی کھیل سے روکتے ہوئے سبھی کو فائرنگ کے شدید تبادلہ کے بعد جہنم واصل کر دیا،کوئیک رسپانس فورس کے میجر حسیب سمیت اہلکار زخمی ہونے کے باوجود دہشت گردوں کے آگے آہنی دیوار بن گئے، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی چیف آف ارمی سٹاف جنرل راحیل شریف پشاور روانہ ہو گئے جہاں انہوں نے بہادر جوانوں کو داد دی،زخمیوں کی عیادت کی ،اس طویل آپریشن میں ایس ایس جی کمانڈوز اور آرمی کے کوبرا ہیلی کاپٹرز نے بھی حصہ لیا ،اس آپریشن کی کمانڈ برگیڈیر عنائت نے کی ۔ کور کمانڈر پشاورہدایت الرحمان اور سی سی پی او پشاور مبارک زید بھی وہاں پہنچ گئے،بڈھ بیر پشاور کے مضافاتی علاقوں چمکنی،بدھی،دانش آباد،حیات آباد،لطیف آباد،ملا زئی،سیٹھی ٹاؤن (حاجی کیمپ،)اور گڑھی قمراللہ کی طرح پشاور شہر سے جنوب جانب بڈھ بیر ایک اہم اور گنجان آباد علاقہ ہے،1955میں ایوب دورحکومت میں امریکہ نے سویت یونین کے خلاف فضائی جاسوسی کی وجہ سے اس علاقہ میں سروے کے بعد بڈھ بیر کو سب سے اہم قرار ددیتے ہوئے یہاں پر دس سال کے لئے زمین لیز پرحاصل کر کے کمیونیکیشن سسٹم نصب کر دیا تب اس جگہ کو عالمی سطع پپرLittle USA بھی کہا جانے لگا،بعد ازاں مزید تعمیراتی طور پر اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا جن میں ایک طرف ایڈ منسٹریشن بلک،بیرکس،ڈائننگ ہال،مووی تھیٹر اور آپریشنل سسٹم جبکہ دوسری طرف ماہرین اور اہلکاروں کے رہاشی کالونی،گالف کورس اور سکول قائم کئے گئے تھے ،پاکستان میں اس وقت پاک فورس کے فنکشن اور آپریشنل ائیر بیسز میں مصحف (سرگودھا) ،مسرور (کراچی)،شہباز(جیکب آباد،رفیقی (شور کوٹ)،پی اے ایف پشاور،ایم ایم عالم (میانوالی)،منہاس(کامرہ)،سمنگلی(کوئٹہ)،نور خان (راولپنڈی)،فیصل (کراچی) اور پاکستان ائیر فورس اکیڈمی رسالپور شامل ہیں جبکہ نان فلائنگ بیس میں کورنگی اور ملیر (کراچی)،کوہاٹ، لاہور،ٹھینگی (وہاڑی)،سکیسر(خوشاب)،لوئر ٹوپہ (مری)،کالا باغ(نتھیا گلی) اور بڈھ بیر پشاور شامل ہیں،یہ ائیر بیس ائیر فور س کا 6937واں کمیونیکیشن گروپ بھی ہے، بڈھ بیر ائیر بیس کے چاروں اطراف میں سول آبادی ہے،پاک آرمی نے ائیر بیس کو کلیر کرنے کے ساتھ ساتھ ائیر بیس سے لے کر خیبر ایجنسی تک سرچ آ ریشن کا آغاز کر دیا اور اسی آپریشن میں ملحقہ آبادیوں سے 18مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا،ہر ائیر بیس کی دو رکاوٹیں ہوتی ہیں پہلے گیٹ سے کچھ فاصلہ پر دوسرا گیٹ ہوتا ہے جہاں اہم تنصیبات ہوتی ہیں ،پاک فوج کے بہادر سپوتوں نے ان دہشت گردوں کو دوسرے گیٹ تک پہنچنے نہ دیا،جہنم واصل ہونے دہشت گردوں نے پوری کوشش کی کہ وہ اہم تنصیبات کی جانب جانے کے ساتھ ساتھ رہائشی علاقے میں بھی پہنچ جائیں اگر ایسا ہو جاتا تو پاک فوج کے اہم ترین سٹریجک اثاثے تباہ اور سینکڑوں جانیں جان سے جاتیں،جنرل راحیل شریف جو ہمیشہ فوج کا مورال بلند کرنے اور دشمن کو بآور کرانے کے لئے موقع پر پہنچ جاتے ہیں وہ آپریشن کی اطلاع ملتے ہی پشاور پہنچ گئے جہاں انہوں بڈھ بیر ائیر بیس کا دورہ کیا، ہسپتالوں میں زخمیوں کی عیادت کی ،آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی بہادری کو داد دی جنہوں نے آج انتہائی جوانمردی سے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنا دیا،اس کے بعد وہ 11ویں ہیڈ کوارٹر پہنچے جہاں کور کمانڈر پشاور نے انہیں بریفنگ دی اس بریفنگ میں ائیر چیف سہیل امان سمیت اعلیٰ حکام موجود تھے ،وزیر اعظم نواز شریف بھی اپنی مصروفیت ترک کر کے پشاور پہنچے،شہداء کی نماز جنازہ پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ہوئی جس میں وزیر اعظم میاں نواز شریف،آرمی چیف راحیل شریف،ائیر چیف سہیل امان، وفاقی وزراء خواجہ آصف،پرویز رشید نے بھی شرکت کی،کالعدم تحریک طالبان نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔سوال پیدا ہوتا ہے یہ کون سے طالبان ہیں جو مساجد میں بھی خون کی ہولی کھیلتے ہیں اسی درندگی اور سفاکیت کوئی مسلمان نہیں کر سکتا یہ تو ظالمان ہیں جو بھارتی ایجنٹ ہیں ۔را۔کے تنخواہ دار ہیں،پاک آرمی اور سول حکومت کو ۔را۔کی جانب سے پاکستان میں مداخلت کے واضح ثبوت مل چکے ہیں،ان کے مدد گاروں ،سہولت کاروں جو جہاں ہیں ،جس روپ میں ہیں ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان کو اس وقت تک جاری رہنا چاہئے جب تک مکمل طور پر ان ناسوروں کاسر کچلا نہ جائے ،بھارت ہمیں ایک بھی گولی نہ چلانے کا وعدہ کر کے جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے ،ابھی لاہور سے دو بھارتی ایجنٹوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہے ،پاکستانی شہری بھی اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور اپنے گردو پیش پر ان کی مکمل نظر ہو، دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے شہریوں کا کردار بھی انتہائی ضروری ہے ۔اس موقع پر وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ ۔دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے،آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم باوجہ کے مطابق یہ دہشت گرد افغانستان سے یہاں پہنچے ،حملے کی مکمل پلاننگ بھی افغانستان میں ہی ہوئی اور یہ وہیں سے کنٹرول ہو رہے تھے جنہوں نے نماز پڑھتے ،وضو کرتے افراد کو شہید کیا،حملہ آور کالعدم تحریک طالبان کے ایک گروپ سے تعلق ہے ، جنرل عاصم کے مطابق دہشت گردوں کے سہولت کار بے نقاب ہو رہے ہیں پاک فوج کے سپوتوں پر ساری قوم کو فخر ہے جنہوں نے انتہائی قلیل وقت میں تمام دہشت گردوں کو گھیرے میں لے کر انہیں جہنم واصل کیا۔پاک فوج کی دلیری کی مثال دنیا میں نہیں ملتی جن کا مورال بلندیوں کو چھو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  حالیہ موسلا دھار بارشوں میں نواسی افراد جاں بحق، 8575 مکانات تباہ

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker