انور عباس انورتازہ ترینکالم

مادر پدر آزاد میڈیا کی تیزیاں اور پھرتیاں

سب سے آگے نکلنے کی۔۔۔یک دوڑ لگی ہوئی ہے ۔۔۔ایلکٹرانک میڈیا سے لیکر پرنٹ میڈیا تک سب پاگلوں کی طرح ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کے چکر میں ہلکان ہوئے جا رہے ہیں۔۔۔ اس امر کی کسی کو پرواہ نہیں کہ انکے سبقت لیجانے کی دوڑ میں کسی کی جان بھی جا سکتی ہے۔۔۔ بریکنگ نیوز ہے ۔ ایسی خبر ہونی چاہٗیے جو واقعی بریکنگ نیوز کے قابل اور لاٗق ہو ’’ یہ بریکنگ نیوز نہیں ہے کہ ’’راہگیر کو دو مچھروں نے ملکر کاٹ لیا‘‘ یا ’’بچے کو نالی میں پیشاب کرنے سے منع کرنے پر محلے داروں میں لڑاٗی اور دو افراد کے سر پھٹ گے‘‘ چلو تسلیم کر لیتا ہوں کہ کسی ایک چینل نے خبر بریک کردی ہے تو کم از کم دوسرے سے سمجح داری اور ایڈیٹری کا مظاہرہ کریں۔۔۔لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ اگر ایک چینل نے خبر چلا دی تو دوسرے نے بھی اسے بریکنگ نیوز بنا کر ہی چلانا ہے ۔اور ساتھ اس بات کا بھی اضافہ کرنا ہے کہ یہ خبر اس چینل نے سب سے پہلے چلائی ہے۔۔۔اگر ایسا نہیں کہے گا تو چینل ناکام ہوجائیگا؟ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بریکنگ نیوز کی چند منٹس بعد تردید بھی کردی جاتی ہے۔اسکی وجہ یہی ہے کہ خبر کے صداقت پر مبنی ہونے کی تصدیق کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔
ابھی کل کی بات ہے کہ تھر میں قحط سالی کے ایشو پر ایلکٹرانک میڈیا نے ادھم مچایا اور پرنٹ میڈیا بھی اس کے پیچھے پیچھے تھا۔سب ملک جل کر سندھ کے وزیر اعلی سید قائم علی شاہ کی وہ درگت بنائی کہ اللہ کی پناہ
۔۔۔ سب نے تھر کی قحط سالی اور وہاں ہونے والی اموات کی ذمہ داری ’’ ہالہ کے مخدوم خاندان کے چشم و چراغ مخدوم جمیل الزماں ‘‘ پر ڈالدی گئی۔ نہ جانے کیسی کیسی خبریں لگائی گئیں ۔ سماں کچھ ایسا باندھ دیا گیا کہ مخدوم آ ف ہالہ شریف پیپلز پارٹ سے الگ ہو رہے ہیں۔یا پھر وہ پیپلز پارٹی میں نقب لگانے والے ہیں ۔اور کوئی فارورڈ بلاک تشکیل دے کر سندھ حکومت سے الگ ہو جائیں گے۔
اسی موقعہ پر پیر صاحب آف پگاڑہ شریف مخدوم امین فہیم کی تیمارداری کے لیے انکے گھر پہنچ گے تو بھی آزاد میڈیا کے ’’اوچھے ہنر مندوں‘‘ نے ’’آو دیکھا نہ تاو دیکھا‘‘ بریکنگ نیوز چلا دی ۔عوام سمجھے مخدوم آف ہالہ شریف خصوصا مخدوم امین فہیم پیپلز پارٹی کو ’’ تین طلاقیں ‘‘ دینے والے ہیں۔ لیکن مخدوم امین فہیم نے میڈیا سے بات چیت کرکے پیپلز پارٹی کا شیرازہ بکھرتا دیکھنے کی سالہا سال سے اپنے سینے کے اندر آرزوئیں سنبھال کر رکھنے والوں کی ’’ سب امیدوں پر پانی پھیر ‘‘ دیا کہ مخدوم خاندان کے خلاف سب کیا دھرا میڈیا کا ہے۔مخدوم آف ہالہ ‘‘ کا سندھ کے وزیر اعلی سے کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بلکہ مخدوم امین فہیم نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’قائم علی شاہ جس پارٹی کے وزیر اعلی ہیں ۔میں اس پارٹی کا سربراہ ہوں۔
سب سے تیز اور تیز تر ہمارا میڈیا اور اس سے وابستہ لوگ تو اس بات سے بھی لاعلم میں ہیں کہ پچھلے پانچ سال جس پیپلز پارٹی نے ملک پر حکومت کی ہے۔ اس کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری ہیں اور نہ ہی سابق صدر آصف علی زرداری ہیں۔۔۔ اس جماعت یعنی پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ مخدوم امین فہیم ہیں اور جنرل سکریٹری راجہ پرویز اشرف۔۔۔ اس صورت میں امین فہیم کس طرح حکومت اور پارٹی سے الگ ہو سکتے ہیں۔ مخدوم امین فہیم کے حکومت اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین سے الگ ہونے کا مطلب سندھ حکومت کی رخصتی ہے۔ دوسرا یہ بھی کہ مخدوم امین فہیم برسراقتدار پارٹی کے سربراہ ہیں اور سربراہ ہونے کے ناطے مخدوم امین فہیم سندھ کے وزیر اعلی کو پارٹی عہدے سے برطرف کرکے انکے خلاف الیکشن کمشن کے پاس انکی نااہلی کا ریفرنس بھی دائر کر سکتے ہیں۔
بریکنگ نیوز دینے اور سب پر بازی اور سبقت لیجانے کے جنون میں میڈیا کے کارپرداز اور انکے نمائندگان سب کچھ کرنے پر آمادہ و تیار رہتے ہیں۔۔۔ابھی کل مظفر گڑھ کے علاقے جتوئی کے تھانہ میر ہزار خان کے سامنے خود سوزی کرنے والی طالبہ آمنہ کے واقعہ کو ہی لے لیجیے اب انکشاف ہوا ہے کہ ’’ خود کو نذر آتش کرنے والی طالبہ ’’ آمنہ ‘‘ کو اس انتہائی اقدام اٹھانے پر ایک جنی چینل کے نمائندے نے اکسایا تھا ۔ ورنہ مرنے والی آمنہ تو محض تھانے کے باہر احتجاج کرنا چاہتی تھا۔۔۔ اس چینل کے رپورٹر نے آمنہ نے کہا کہ ’’تم مخض اپنے دوپٹے کو آگ لگاو باقی ’’ میں ہوں ناں‘‘۔۔۔ کتنا ظلم کیا ہے اس چینل کے رپورٹر نے محض ’’ بریکنگ نیوز حاصل کرنے کے لیے رپورٹر صاحب نے ایک طالبہ کی جان لے لی۔
اس طالبہ آمنہ کی موت کا کون ذمہ دار ہے ۔پولیس اہلکار یا پھر وہ رپورٹر جس نے طالبہ کو اکسایاتھا۔ اس انکشاف کے بعد ابھی تک اس چینل کی جانب سے نہ تو ندامت کا اظہار کیا گیا ہے اور نہ ہی اس رپورٹر کو فارغ کیا گیا ہے۔بس پولیس کی قلابازیوں کے چرچے کیے جا رہے ہیں۔
بریکنگ نیوز کی سرخ رنگ کی ’’تحتی‘‘ ٹی وی کی سکرین پر نمودار ہوتے ہی اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے گلے میں اٹک جاتا ہے ۔کہ نہ جانے کیا قیامت برپا ہوگئی ہے۔بریکنگ نیوز چلتی ہے ۔ لاہور کینٹ کے علاقے میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔دھماکے کی جگہ کا تعین کیا جا رہا ہے۔ امداد کارروائیوں کے لیے پولیس اور ریسکیو ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔ پھر دس منٹ بعد بتایا جاتا ہے کہ دھماکہ سلنڈر فروخت کرنے والی دوکان میں سلنڈر پھٹنے سے ہوا ہے، اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی زخمی ہوا ہے۔ اس کے بعد وہ خبر جسے بریکنگ نیوز بنا کر چلایا گیا تھا عام خبر وں میں بھی اسکا ذکر نہیں موجود نہیں ہوتا۔
میڈیا کی انتظامیہ سے دست بستہ عرض ہے کہ خدارا اس روش کو تبدیل کیجیے آپ لوگوں کا کچھ نہیں بگڑنا لوگ ناحق مریں گے کیونکہ دل کے عارضہ میں مبتلا لوگ ایسی خبروں کے سننے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔میری آج کے جینز رپورٹروں اور ممی ڈیڈی ایڈیٹر صاحبان سے بھی التماس ہے کہ وہ خبروں کو نشر کرنے سے قبل چیک اینڈ بیلنس کے مراحل سے گذارنے کا عمل شروع کریں،اسی مین میڈیا کی بقاء پنہاں ہے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker